نواز شریف کا بیان۔۔۔ انتخابی سیاست کا موڑ
14 مئی 2018

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ممبئی حملوں کے بارے میں اپنے تازہ انٹرویو میں اپنا جو نقطہ نظر پیش کیا ہے اس کے بارے میں وضاحت آ چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف نے کہہ دیا ہے کہ نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے جو باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا نے جس انداز سے وضاحت کے بعد رپورٹنگ کی ہے یہ چند چینل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جو عرصہ سے نوا زشریف کی کردار کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پیپلزپارٹی کا ایک ایک لیڈر اور خاص طور پر امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن نے جو کچھ کہا ہے وہ سیاست ہے اور انتخاب کا ایجنڈا ہے۔ کوئی محب وطن پاکستانی نواز شریف کے حوالے سے میڈیا پر جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ پسند نہیں کر سکتا مگر یہاں تو سچ اور جھوٹ کا چلن ہے جس کو وزیراعظم بننے کا شوق ہے وہ زیادہ چھلانگیں لگا رہا ہے۔ سوال تو یہ ہے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رکھنا پاکستان کی بین الاقوامی ضرورت ہے۔ چار فوجی حکمران آئے، بھارت سے پاکستان ڈائیلاگ بھی کرتا رہا حتیٰ کہ نہر و چل کر پاکستان آئے مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا، لیاقت علی خان کے ساتھ نہرو پیکٹ معاہدہ ہوا نتیجہ کچھ بھی نہیں۔ ایوب خان کو امریکہ نواز صدر کہا جاتا ہے۔ 1961ء کے دورۂ امریکہ میں کینیڈی نے ایوب کا جو استقبال کیا اور ایوب خاں کو کانگریس سے خطاب کا موقع ملا۔ وہائٹ ہاؤس میں کینیڈی سے ملاقاتیں، ہر طرف ایسا استقبال کہ ’’آبِ زر‘‘ سے لکھے جانے کے قابل، ایسا امریکہ نے ایوب دوستی میں نہیں کیا تھا اصل معاملہ تو یہ تھا کہ چین بھارت جنگ ہونے والی تھی۔ امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان بھارت کے خلاف اس جنگ میں کود نہ پڑے۔ 1965ء کی جنگ ہوئی، کس نے چھیڑی کون جیتا اور کون ہارا مگر ایک طبقہ ایک جنگ کی ذمہ داری اُس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالتا رہا ہے۔ جب جنگ ختم ہوئی ایوب خان امریکہ گئے مگر ٹکہ سا جواب ملا صدر جانسن نے تو ایوب کو تاشقند کا راستہ دکھا دیا۔ مگر یہ معاملہ تو ختم نہیں ہوا۔ اصل سوال تو پیپلزپارٹی سے یہ ہے کہ بینظیر بھٹو جب دوسری مرتبہ اقتدار میں آئی تو خالصتان کا معاملہ سرد خانے کی نذر ہو چکا تھا مگر بینظیر بھٹو نے اُن آزادی پسند خالصتان تحریک کے مبینہ حریت پسندوں کی مبینہ فہرستیں راجیو گاندھی کو دے دی تھیں پھر کیا ہوا، خالصتان تحریک کے کارکن ایک ایک کر کے مارے گئے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں جنوری 1994ء میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کو مانا تھا کہ انہوں نے سکھوں کے حوالے سے راجیو گاندھی کی مدد کی تھی۔ اس بیان کے بعد نہ کسی کی غیرت نے جوش مارا اور نہ اس انٹرویو کا سکیورٹی اداروں نے نوٹس لیا بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے امریکی صدر سے جو مذاکرات کیے تھے اس میں بھی ایسے ہی سوالات بینظیر بھٹو سے کسی نے نہیں پوچھے۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد پاکستان کی سرزمین سے پکڑا گیا بلکہ امریکی حملے میں مارا گیا اس وقت بھی پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تنقید کرنے والوں کو یہ نہیں بتایا کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا بلکہ سکیورٹی اداروں سے یہ ضرور پوچھا تھا کہ اسامہ بن لادن کس ویزے پر پاکستان آیا۔ اس کی ایک رپورٹ بنی مگر حکومت میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ اس رپورٹ کو شائع کر دیں۔ آخر قائداعظم کے
پاکستان میں یہ کھلواڑ کب تک چلے گا اور ہم قائداعظمؒ کی 11 اگست 1947ء کی تقریر شو کیس میں سجا کر بیٹھے رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو آنکھیں نوچ لیں گے۔ یہ سوال ہماری خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا۔ اس میں تو شک کی گنجائش نہیں کہ پاکستان کسی دہشت گرد کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دے۔ یہ اصول نائن الیون سے چلا آ رہا ہے، پاک آرمی کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان کسی دہشت گرد کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ممبئی حملے نواز شریف کے دور میں نہیں پیپلزپارٹی کے برسراقتدار آتے ہی ہوئے تو سب سے پہلے پاکستان کے ایک ٹی وی نے اجمل قصاب کا سراغ لگایا تھا اس کے بعد بھارت ان حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتا رہا ہے۔ اصل سوال اور جھگڑا یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کون چلائے گا۔ اگر دہشت گردی کے حوالے سے مشرف سے لے کر راحیل شریف کے پالیسی بیان کو دیکھا جائے تو نواز شریف نے جو کہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت سے خراب تعلق کی اہم وجہ کشمیر ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ کشمیر کے بغیر تقسیم ہند نامکمل ہے۔ مشرف نے تو اس سے ہٹ کر کئی فارمولے پیش کیے تھے۔ وزیراعظم خاقان عباسی کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا جو اجلاس ہوا ہے اس میں نواز شریف کے انٹرویو پر غور کیا گیا۔ اب یہ سارا کیس غداری اور محب وطنی کی طرف جا رہا ہے بلکہ عوامی تحریک جو اپنی پوری انتخابی سیاست میں ایک سیٹ جیت سکی وہ بھی خدائی مخلوق کا کارنامہ تھا، وہ غداری کی پٹیشن لے کر لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔ عمران خان کے نزدیک یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ نواز شریف نے اپنی انٹرویو میں کیا کہا اصل سوال تو یہ ہے انتخابی سیاست کے اس ماحول میں وہ سمجھتے ہیں کہ نوا زشریف نے غداری کی ہے، وہ مودی کی زبان بول رہے ہیں اور وہ میر جعفر ہیں، میڈیا نے متنازع بیان کے حوالے سے جو نواز مخالف مہم چلائی اور لوگوں کو ٹیلی فون اور رابطے کر کے نواز شریف مخالف بیانات بریکنگ کے ساتھ چلائے۔ نوا زشریف نے بھی اپنا مؤقف دے دیا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں آرمڈ فورسز، پولیس اور شہریوں نے قربانیاں دی ہیں وہاں انہوں نے کلبھوشن کو ایک جاسوس قرار دے دیا۔ انہوں نے غدار کہنے والوں سے پوچھا ہے کہ اس شخص کو غدار کہہ رہے ہو جس نے ایٹمی دھماکے کیے۔ محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا، حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔ غداری کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ بریگیڈیئر امتیاز سمجھتے تھے کہ بینظیر بھٹو سکیورٹی رسک ہیں ان کو ہٹانا ملک اور قوم کے لیے بہتر ہے۔ سیاسی شطرنج کا یہ کھیل رکنے والا نہیں۔ غداری کا الزام نہ لگاؤ۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی سیاست میں غداری کا کھیل بند ہونا چاہیے ملک غلام محمد نے پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل بننے کے لیے بڑی حکمت عملی اپنائی تھی، کامیابی اس لیے ملی کچھ قوتوں نے ان کی پس پردہ مدد کی۔ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہونے کے بعد انہوں نے امریکہ مخالف خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔ اپنی پسند کا وزیراعظم امریکہ سے بلوایا۔ گورنر جنرل غلام محمد کا خیال تو یہی تھا وزیراعظم بوگرہ صاحب ان کے احسان تلے دب کر ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے۔ پاکستان کے منظرنامے پر جو بھی تبدیلیاں ہو رہی تھیں وہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ پہلے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو بدنام کیا گیا کہ سست اور کاہل ہیں۔ ان کو ملک چلانے سے زیادہ کھانے پینے کا شوق ہے اور ایسے قصے پھیلائے گئے کہ وہ صبح کا آغاز ناشتے میں ایک پوری مرغی کھا کر کرتے ہیں۔ یہ وہی حکمت عملی تھی جس کے تحت متحدہ بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو غدار کہا گیا۔ پاکستان میں انتہائی خطرناک کھیل یہ غدار، وہ غدار اور تم غدار کا کھیل شروع ہوا۔ بنگال میں بے پناہ مقبولیت رکھنے والے حسین سہروردی کو لیاقت علی خان اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ سہروردی کی اس زمانے میں وکالت چمکتی تھی اور خوب چمکتی تھی ۔ بے پناہ دولت کماتے تھے مگر سیاست اور سیاسی کارکنوں پر خرچ کر دیتے تھے۔ بنگال کو تقسیم کر کے مشرقی پاکستان کی بنیاد رکھنے میں اُن کا بڑا ہاتھ تھا۔ معاملہ مشرقی پاکستان تک تو درست تھا مگر جب انہوں نے پاکستان کے اس حصے میں اپنی سیاست کی بساط بچھائی تو اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان کو یہ گوارا نہیں تھا۔ حسین شہید سہروردی کو بھارت کا ایجنٹ کہاگیا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اُن کی دستور ساز اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی۔جس مسلم لیگ کے پرچم تلے کھڑے ہو کر سہروردی نے پاکستان کی آزادی کی جنگ لڑی تھی اب اسی سہروردی پر غداری کی تہمت دھر دی۔ اس کے بعد ’’غدار سازی‘‘ کی ایسی فیکٹری کھلی کہ سیاس مخالفین کے لیے غدار کہنے کا چلن اتنا عام ہوا کہ اس نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی مگر اس غدار نے جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا اپنی آواز اتنی بلند کی کہ ایوب خان نے کرپشن کا کیس ڈال کر حسین شہید کی سیاست ہی ڈبو دی اور وہ بیروت میں پر اسرار طور پر انتقال کر گئے۔ غلام محمد نے بھی امریکہ سے محمد علی بوگرہ کو بلایا جن کی منظوری اس وقت کے کمانڈر انچیف ایوب خان سے لی گئی۔ ایک اپاہج گورنر جنرل غلام محمدنے اقتدار اعلیٰ کے راستے کے ہر روڑے کو ہٹا دیا۔ مگر بوگرہ نے ہمت کی دستور ساز اسمبلی سے راتوں رات ایسا بل منظور کرا لیا جس کے تحت وہ وزیراعظم کو ہٹا سکتے تھے یا کابینہ کو برخاست کر سکتے تھے جب یہ بل منظور ہو گیا وزیراعظم بوگرہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ وہ امریکہ کے دورہ پر چلے گئے۔ اس وقت غلام محمد فیملی کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے شمالی علاقے میں تھے۔ بل کی منظوری کی اطلاع ملتے ہی غلام محمد کراچی پہنچے انہوں نے کمانڈر انچیف ایوب خان اور سیکرٹری داخلہ سکندر مرزا کو یہ کام سونپا کہ بوگرہ کو فوراً لے کر آئیں اب وزیراعظم کو ایئرپورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس تک قیدیوں کی طرح لایا گیا۔ نہ کسی سے بات کی اجازت نہ میڈیا کے سامنے کوئی مؤقف یا بیان جاری کرنے کی اجازت۔ غلام محمد کے سامنے وزیراعظم کو پیش کیا گیا۔ بوگرہ سے غلام محمد نے پوچھا ’’میں نے تم کو وزیراعظم بنایا تم نے غداری کیوں کی؟‘‘ وزیراعظم کی ایسی کلاس ہوئی کہ بیان کرنے کا چارہ نہیں۔ بوگرہ نے جس نے دستور ساز اسمبلی کی بالادستی کا کام کیا تھا خوفزدہ ہو کر اسی دستور ساز اسمبلی کو ختم کرنے کی ایڈوائس دے دی۔ اب اقتدار کا سارا کھیل غلام محمد کے ہاتھ میں آ گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایوب خان کو اقتدا رسنبھالنے کی پیش کش کی گئی۔ اس سے قبل قرار داد پاکستان پیش کرنے والے مولوی اے کے فضل حق جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا انہیں پورے زور شور سے غدار قرار دیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہو چکا مگر سکیورٹی اداروں کا اجلاس آج ہو رہا ہے۔ مگر غدار سازی کی فیکٹری بند ہونے سے ہی جمہوریت مضبوط ہو گی۔


ای پیپر