قیادت کا فقدان
14 مئی 2018

سیاسی، سماجی ، مذہبی جماعتوں ، کے ہجوم اور دیگر قومی اداروں کے قائدین کے موجود ہونے کے باوجود قوم کو قیادت کے جس فقدان کا سامنا ہے شاید وطن عزیز کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں رہا۔ یہ بد قسمتی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اس وقت بھر پور انداز میں قومی سیاسی جماعت کہلانے کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ کوئی سندھ، کوئی پنجاب جبکہ کوئی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔
وطن عزیز کی سیاسی وسماجی صورت حال ایسے ہی ہے جیسے پنجابی فلم ملنگی، انڈین مغل اعظم اور دیوداس کو شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ پیش کر دیا جائے۔ آج کل ٹی وی چینلز باری باری تمام سیاسی جماعتوں کے حالیہ جلسے اور سیاستدانوں کے نمایاں بیانات کو مزید نمایاں کر کے سنا اور دکھا رہے ہیں۔ اگلی رات متحدہ مجلس عمل کا جلسہ دیکھا اسلامی نظام کو رائج کرنے کے دعوے دار دیکھے ۔بس فرق صرف یہ تھا مفتی محمود کی جگہ مولانا فضل الرحمن، میاں طفیل محمد کی جگہ سراج الحق تھے اور دیگر لوگ بھی ایسے ہی تھے۔ بس حکومت میں جناب بھٹو نہ تھے البتہ بلاول موجود ہے۔ نواز شریف جناب بھٹو کے کردار کو اپنی ذات میں ری پلے کے دعویدار ہیں مگر ماضی کا کیا کریں جسے بدلنے سے قدرت بھی قاصر دکھائی دیتی ہے۔
عمران خان بھی پیپلز پارٹی کی 70 کی فتح سے زیادہ کامیابی کے دعویدار ہیں ۔ گو کہتے اپنے آپ کو قائد اعظم ثانی ہیں مگر انتخابی نتائج جناب بھٹو صاحب جیسے حاصل کر لینے کے دعویدار ہیں مگر حالت یہ ہے کہ یو ٹرن تو بہت دور یہ ڈبلیو ٹرن بلکہ زگ زیگ والے معاملے سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔
بد نصیبی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت عوام کے بھروسے اور اعتماد پر پورا اترتی ہے اور نہ چاروں صوبوں میں مقبول ہے۔ جیسے کبھی پیپلز پارٹی ہوا کرتی تھی۔ نہ ہی ایسی قیادت ہے جو جناب بھٹو اور محترمہ شہید بی بی کی صورت میں موجود تھی۔ پارٹیاں تبدیل کرنے کی دوڑ کچھ اس طرح لگی پڑی ہے ۔ جیسے قیامت صغریٰ برپا ہو گئی ہو۔ اپنے اپنے ماضی اور کردار ، دعووں اور اقوال کو اپنے ہی پاؤں تلے کچلے چلے جا رہے ہیں۔
البتہ جماعت اسلامی کے سراج الحق اپنے اتحاد کے لوگوں میں انقلابی دکھائی دیتے ہیں۔ میں کبھی بھی جماعت اسلامی کا حامی نہیں رہا۔ لیکن سراج الحق صاحب کا یہ بیان کہ ’’میں مطالبہ کرتا ہوں انتخاب لڑنے والے سے الیکشن کمیشن حلف نامہ لے اور سرٹیفکیٹ دے کہ اس نے اپنی جائیداد میں سے اپنی بہن کو اس کا وراثتی حصہ دے دیا ہے‘‘۔
یہ بات یہ مطالبہ یہ اقدام ایسا لاجواب ہے کہ جس کی تعریف نہ کرنا اور جس کو تسلیم نہ کرنا بلکہ آئین کا حصہ نہ بنانا ظلم ہے۔ اگر صرف یہ ہو جائے تو بڑی بڑی جاگیریں جائیدادیں انسانی ملکیت کی صورت اختیار کر جائیں گی۔ فی الحال تو یہ بڑی ملکیتیں نعوز باللہ آفاتی ملکیتیں دکھائی دیتی ہیں۔ میں مولانا سراج الحق صاحب کے اس مطالبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس کو اس قدر عام کریں کہ دیگر سیاسی جماعتیں، قومی ادارے بھی اس پر توجہ دیں۔ اپنے منشور کا حصہ اور آئین کا حصہ بنائیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ میں بچوں کی تقریر نہیں سنتا۔ یقیناًوہ بلاول کے لیے کہہ رہے تھے۔ موصوف بچوں اور ان کی امیوں کے ووٹ تو لیتے ہیں تقریر نہیں سنتے۔
عمران کی والدہ صاحبہ کینسر سے فوت ہوئیں۔ انہوں نے اس کرب سے متاثر ہو کر ہسپتال بنا دیا۔ گویا عمران جن کی شہرت سے دنیا واقف ہے اور وہ شہرت دن بدن بڑھتی چلی گئی کہ مغرب و مشرق کے پیر بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ظہیر عباس سے سوال کیا گیا کہ آپ اور عمران خان دس بارہ سال روم میٹ رہے ہیں، کچھ بتائیں!ظہیر عباس دھیمے لہجے کے انسان ہیں۔ کہنے لگے کہ جو میری آنکھوں نے دیکھا دنیا میں کسی اور نے نہیں دیکھا۔
یہ پی ٹی وی پر انٹرویو تھا تب عمران خان سیاسی نو مولود تھے گویا ایسا عمران اگر دکھ سے ہسپتال بنا سکتا ہے تو دوسروں کے جذبات کی بھی قدر کرے۔ یہ جس بچے کی تقریر نہیں سنتے مگر جواب بھی دیتے ہیں اور الزامات بھی لگاتے ہیں اس بچے نے اپنے نانا کی کہانی ماموؤں کے سانحات، والدہ کی اندوہناک شہادت دیکھی اور یہ سب سیاست کی بدولت ہوا ۔ اپنے باپ کو قیدی دیکھا،ایسا قیدی جو عدالتوں سے بری ہوا پھر بھی گناہ گار ٹھہرا۔ اس ماحول، حالات اور مسائل میں جنم لینے والے، پرورش پانے والے 30سالہ نوجوان کو بچہ کہتے ہیں تو محمد بن قاسم کے دور میں ہوتے تو شاید دودھ کے فیڈر کا مشورہ دیتے، وطن عزیز میں دنیا کا سب سے کامیاب اپنے ملک کا وزیرخارجہ جناب بھٹو 31 سال کی عمر میں وزیر خارجہ تھے جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو 30 سال کی عمر میں اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ قومی سطح کے سیاست دان ہونے کا دعویٰ کرنے والے اگر اس طرح کے بیانات دیں گے تو کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدانوں ، سماجی راہنماؤں اور معزز اداروں کے سٹیک ہولڈرز کے بیانات نے پنجابی فلموں اور ایکشن مووی کے کاروبار کو برباد کر دیا ہے۔ اب لوگ مولا جٹ، نوری نت، نظام لوہار ، وحشی جٹ، بٹ بہادر، ملنگی ، وریام وغیرہ خبروں اور ان کے بیانات میں ہی دیکھ سن لیتے ہیں۔
ایکشن موویز بنیاد پرستی سے متاثر دہشت گردوں نے ہی ختم کردی تھیں۔ اخلاقیات ، دکھاوے، تصنع اور بناوٹ کا عالم یہ ہے کہ جن چوکوں چورا ہوں۔ درختوں کھمبوں پر سلطان راہی انجمن، سدھیر، اکمل مظہر شاہ، محمد علی، زیبا، بابرہ شریف، سنتوش کمار، صبیحہ ، اقبال حسن، عالیہ کی تصویریں اور فلموں کے نام سے بنے پوسٹرزلگے ہوتے تھے۔ آج علمائے دین وہ جگہ لے چکے ہیں ۔ سیاسی، سماجی اور قومی قیادت کے بحران اور فقدان نے پورا معاشرہ تتر بتر کر کے رکھ دیا ہے۔ شعوری طور پر، فکری لحاظ سے قوم نہ جانے کتنے طبقوں میں بٹ چکی ہے۔ ہر شخص ایک مفاد، ایک داستان، ایک نظریہ ایک شکوہ، ایک المیہ بن چکا ہے۔ آئین ، عدالتیں، سیاسی رہنما،ایٹمی قوت، ناقابل تسخیر فوج، دیگر معتبر ادارے رکھنے کے باوجود وطن عزیز کو آج قیادت کے فقدان اور بحران کا سامنا ہے۔ جوکر دار کے بحران کے ساتھ ساتھ پہچان کے فقدان میں بدلے چلا جا رہا ہے۔
حالت یہ ہے کہ چلتے لمحے میں حکومت کس کی ہے، اپوزیشن کون ہے کا تعین ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کو اس وقت قیادت کے بحران اور قیادتوں کو کردار کے فقدان کا سامنا ہے باقی رہے نام اللہ کا اس ملک کے عوام کی سمت اور رہنمائی کے تعین کے لیے قدرت ہی کچھ فیصلہ کرے تو کرے رہنما تو مخولیے ہو چکے۔


ای پیپر