وزیر اعظم عباسی کو شرمندگی !
14 مئی 2018

وزیراعظم عباسی نے چند دن پہلے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شرمندگی ہے کہ انہوں نے خورشید شاہ کے ساتھ مل کر جسٹس ( ریٹائرڈ ) جاوید اقبال کا نام بطور چیئرمین نیب (NAB) دیا تھا۔ شرمندگی ایک کربناک احساس ہے جو کسی غلط کام کرنے کے ادراک سے ہوتا ہے۔کچھ حساس لوگوں کو تو غلط سوچ سے بھی شرمندگی ہونے لگتی ہے۔لیکن شرمندگی کا احساس کسی کو کس بات یا کس عمل سے ہوتا ہے یہ ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے، It varies from person to person۔کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں شرمندگی کے جذبے سے آگاہی ہی نہیں ہوتی۔ یہاں مجھے ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کا اپنے ساتھی ڈپٹی کمشنر ، جس کی تعیناتی بطور ڈپٹی کمشنر پہلی مرتبہ ہندوستان میں ہوئی تھی، کو لکھے گئے خط کے مندرجات یاد آرہے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ آپ چونکہ پہلی مرتبہ ہندوستان میں رہوگے اور نوکری کروگے تو تمہیں وہاں کے لوگوں کی کئی باتوں اور حرکات سے بہت پریشانی ہوگی کیونکہ آپ ایک مختلف سرزمین سے تعلق رکھتے ہو ، آپ ایک مختلف کلچر میں زندگی گزار تے رہے ہو۔ اس نے مختلف باتیں لکھیں جن میں سے ایک یہ بھی لکھی کہ ہندوستانیوں کی بہت بڑی اکثریت ’’ شرمندگی ‘‘ کے جذبے سے آگاہ ہی نہیں ہے۔ اس نے اسے مثالوں سے واضح کیا۔ اس نے لکھا کہ مثلاً آپ کسی دن غیر متوقع طور پراپنی رہائش گاہ پر معمول کے وقت سے جلد پہنچ جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے گھر کا ملازم آپ کے صوفہ پر بیٹھ کر آپ کے کھانے کی وہ چیز جسے آپ نے اپنے لیے سنبھال کر رکھا ہوا تھا کھانے میں مصروف ہے۔
وہ جب اچانک آپ کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ ہنسنے لگ جاتا ہے۔ یقیناًآپ غصہ میں لال ہو جائیں گے کہ ایک تو چوری چھپے یہ حرکت کر رہا ہے اور پھر بجائے شرمندگی کے آگے سے دانت نکال رہا ہے، لیکن اس میں غصے والی کوئی بات نہیں ۔ دراصل یہ لوگ شرمندگی کے جذبہ سے آگا ہ ہی نہیں ہیں ، اس لیے قابل معافی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جناب عباسی صاحب امریکہ کے دورے پر گئے تھے۔ امریکہ میں داخلہ سے پہلے ایئرپورٹ پر ان کی خوب جامہ تلاشی کی گئی جسے ہندوستانی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا نے خوب اچھالا۔انڈین اداکار شاہ رخ خان کی مثال پیش کی جانے لگی کہ جب ان کے ساتھ امریکیوں نے یہ سلوک کرنا چاہا تو وہ پانچ چھ گھنٹے امریکی ایئرپورٹ پر ہی بیٹھے رہے ، انھوں نے اپنی انڈین حکومت سے رابطہ کیا اور اس تذلیل کی نشاندہی کی۔ پورے انڈیا میں ایک طوفان برپا ہوگیا ۔ انڈین حکومت نے امریکیوں سے رابطہ کیا اور اس سلوک کی نشاندہی کی۔ جس پر امریکیوں کو معافی مانگنی پڑی اور شاہ رخ خان کو باعزت طریقے سے امریکہ میں داخل کرایا گیا۔پاکستانی قوم غریب ضرور ہے مگر ہے بڑی باغیرت اور حمیت والی۔ عباسی صاحب کے ساتھ امریکیوں کے اس سلوک پر پوری قوم ڈسٹرب ہوگئی اور شرمندگی کے احساس نے اسے گھیر لیا۔لیکن اپنے ساتھ اس سلوک پر عباسی صاحب نے خود چپ سادھے رکھی۔جس پر قوم حیران اور پریشان تھی۔ پاکستانی میڈیا ،جو موجودہ دور میں بے حد متحرک ہے ،نے آخر کار عباسی صاحب سے وجہ پوچھ ہی لی۔ عباسی صاحب نے فرمایا کہ چونکہ امریکی حکومت کے امریکہ میں داخلہ کے لیے کچھ قوانین ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ملک کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ اس لیے مجھے اس سارے عمل پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ظاہر ہے دل کو اچھا لگا کہ ہمارا وزیراعظم قوانین کا احترام کرنے والا ہے۔لیکن اپنے ملک کے آئینی ادارں کے متعلق ان کے رویہ اوربیانات سے ذہن کو ایک دھچکا سا لگا ، اور یہ تاثر ابھراکہ وہ صرف امریکہ جیسے طاقتور اور تگڑے ملک کے قوانین کا احترام کرتے ہیں۔آپ کچھ دیر کے لیے ان کی شخصیت پر غور کریں۔ انہوں نے اس ملک کے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایالیکن حلف اٹھانے کے باوجود وہ اپنے آپ کو وزیراعظم نہیں سمجھتے اور ایک ایسے شخص کو وزیراعظم کہتے ہیں جسے اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس ملک کی وزارت عظمیٰ کے لیے اس بنا پر نااہل قرار دیا کہ وہ نہ صادق ہیں اور نہ امین، بلکہ اسی اعلیٰ عدالت نے انہیں سیاسی پارٹی کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیا۔ عباسی صاحب نے اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کے متعلق کہا کہ یہ فیصلے ردی کی ٹوکریوں کے نذر ہوں گے۔ابھی حال ہی میں انہوں نے اپنے ملک کی فوج جو ہر روز ہر محاذ پر جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے کو خلائی مخلوق سے تعبیر کیا اور کہا کہ آنے والے الیکشن خلائی مخلوق کرائے گی اور ہم اس میں حصہ لیں گے۔ اس بیان پر الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی خاموش نہ رہ سکا ،کیونکہ یہ بیان ملک کے وزیراعظم کی طرف سے تھا ۔الیکشن کمیشن کے ترجمان نے وزیراعظم کے اس بیان کو مسترد کیا اور اس کا نوٹس لیا ۔ یہ تو تھا ان کے ذہن میں اپنے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور اپنے ملک کی فوج کا احترام۔اسی طرح ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں پاکستان سے 4.9ارب ڈالرانڈیا ٹرانسفر ہونے کا درج تھا ۔ اس کا ذکر ایک کالم نویس نے اپنے کالم میں کیا تھا ۔ اس میں اور لوگوں کے ساتھ میاں نواز شریف کانام بھی تھا۔چونکہ یہ ایک بہت بڑی رقم کی ٹرانسفر تھی اس لیے نیب کے بورڈ نے صرف ابتدائی سطح پر خبر کی تصدیق کرنے کی منظور ی دے دی۔بورڈ کے ہر فیصلہ کی پریس ریلیز جاری ہوتی ہے اس لیے اس کی بھی جاری ہوگئی۔اس پر عباسی صاحب کو نیب کے خلاف زہر اگلنے کا ایک موقع مہیا ہوگیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں ایک خطاب جھاڑ دیا ۔ کہا کہ یہ سب کچھ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ساکھ کو خراب کرنے کی ایک سازش ہے جس سے چیئرمین نیب کا تعصبانہ اور جانبدارانہ چہرہ سامنے آگیا ہے ،اس لیے انہیں قومی اسمبلی میں بلایا جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ اس الزام کے ثبوت پیش کریں۔ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو ان کی وضاحت سن کر اپنی سفارشات دے۔خیر سوائے محمود خان اچکزئی کے کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ان کے اس تحرک پر میاں نواز شریف نے انہیں داد دی اور خود ایک پریس کانفرنس کر ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین چوبیس گھنٹے کے اندر اس الزام کے ثبوت دیں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر روانہ ہو جائیں۔اسی مسئلہ پر عباسی صاحب نے فرمایاکہ مجھے خورشید شاہ کے ساتھ مل کر جسٹس (ریٹائرڈ ) جاوید اقبال کا نام بطور چیئرمین نیب دینے پر شرمندگی ہے۔انہیں کوئی کیا بتائے کہ یہی تو ایک فیصلہ ہے جو ان سے صحیح ہوا ہے چاہے غلطی سے ہی ہو گیا۔جسٹس جاوید اقبال ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے نیب کے مردہ جسم میں روح پھونک دی ہے ۔پوری قوم ان کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے قوم کا درد محسو س کیا اور کرپشن کے ناسورکو جڑ سے اکھیڑنے کا تہیہ کر لیا ہے۔قوم عباسی صاحب سے پوچھتی ہے کہ اپنے ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی بات کرتے ہوئے انہیں کوئی شرم نہ آئی ، اپنے ملک کی فوج کو خلائی مخلوق سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں کوئی شرم نہ آئی۔ اس ملک کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد ایک ایسے شخص کو اپنا وزیراعظم کہتے ہوئے جسے اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے وزارت عظمیٰ کے لیے نا اہل قرار دیا ، آپ کو کوئی شرم نہ آئی۔ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ حالات کو صحیح تناظر میں دیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ حقائق صحیح طور سے نظر نہیں آتے ۔ وہ کہتے ہیں اس ملک میں کوئی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کا ڈھونگ رچا کر ان پڑھ اور غریب قوم کا استحصال کیا جا رہا ہے۔آپ غور کریں جب میاں نواز شریف نااہل ہوئے تو مسلم لیگ (ن) میں سے کسی اور نے وزیراعظم بننا تھا ۔ اس موقع پرپوری پارٹی کہہ رہی تھی کہ جس کے سر پر نواز شریف ہاتھ رکھ دیں گے وہ ہی وزیراعظم ہونگے۔بھلا کسی جمہو ری ملک میں کسی سیاسی پارٹی کا یہ چلن ہوتا ہے۔ اس ملک میں ایک شخص فیصلہ کرتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو اپنی اہلیت کا بخوبی علم ہے۔انہیں معلوم ہے کہ یہ عہدہ انہیں اپنی اہلیت کی بنا پر نہیں ملا بلکہ کسی کی دین ہے۔ پھر شرمندگی کے معنی تو خود بخود گڈ مڈ ہوجاتے ہیں۔


ای پیپر