سعید شارق کی کتاب ’’ سایہ‘‘ میں خوف کا تجزیہ
14 مئی 2018

سعید شارق نوجوانوں تخلیق کاروں کی اس کھیپ سے تعلق رکھتا ہے جو محض نیا کہنے کی خُو نہیں رکھتے بلکہ معاصر سماجیات کی جمالیات اور مسائل کو بھی متن کرنا جانتے ہیں ۔ سایہ سعید شارق کا پہلا شعری مجموعہ ہے اور حال ہی میں اس شاعر کو بہترین شاعری کی کتاب پر پروین شاکر ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ شارق اکیسویں صدی کے ایک سوچنے والے ذہن کو درپیش خوف کا نمائندہ ہے۔ فی زمانہ خوف ایک عالم گیر مسئلہ ہے۔ دنیا کی ہر دو طاقتیں بھلے وہ نیو کلونیل جبر کی نمائندہ ہوں یا مجبور ہوں خوف کوکسی نہ کسی سطح پرسماجی بافتوں اور بیانیوں میں برت رہی ہوتی ہیں ۔’’ سایہ ‘‘ خوف کی علامت ہے جو کسی وجود ی استحکام کی موجودلاموجودگی کا مظہر ہوتا ہے۔ سایہ ناقابلِ شناخت ہوتا ہے اور سماجی تحرک میں کنزیوم نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک لحاظ سے جمود کا شکار اور غیر ترفع شدہ موجودگی ہوتی ہے۔ Umberto Eco معروف اطالوی ناول نگار ، نقاد ، سیمیات شناس اور پروفیسر تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون ’’ سپرمین کی کتھا‘‘ میں سماج میں مختلف قسم کے سپر ہیروز کی موجودگی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ سماج میں ایسے ہیروز جیسے سگ فرائیڈ ، پیٹر پین ، رولاں، اور سپرمین وغیرہ کو یوں ظاہر کیا جاتا ہے جیسے کہ وہ انسانی سماج کا حصہ ہوں تاہم وہ انسانی سماج کے متوازی کسی ’’اور‘‘ سماج کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ایسے ہیروز سالہا سال گزر جانے کے باوجود بوڑھے ہوتے ہیں نہ ہی ان پر زوال آتا ہے ، یہ لوگوں کی مدد تو کرتے ہیں تاہم نظام تبدیل نہیں کرتے جیسے کہ سپر مین ٹوٹے ہوئے پُل سے نیچے گرنے والی ریل کوتو روک لیتا ہے لیکن غربت کے خاتمے،برائی کو جڑ سے خاتمے میں کبھی اپنا کردار ادا نہیں کرے گا۔ سعید شارق کے ہاں موجود ’’ سایہ ‘‘ کچھ ایسا ہی بے نقش و بے نام کردار یا وجود ہے جس نے اکیسویں صدی میں خوف کو ’’ادارہ جاتی‘‘ بنا دیا ہے۔ یہ شعر دیکھیے:’’اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیں /ہر وقت یہ لگتا ہے کوئی ہے مرے پیچھے‘‘۔ اس شعر میں شاعر نے پیچھے مڑ کر اور دیکھے بغیر ایک شکل اپنے ذہن میں مجسم کرلی ہے جس کی آنکھیں موجود ہیں گویا چہرہ بھی موجود ہے یعنی اس کا روپ ایک انسان کا سا ہے اگرچہ شاعر نے اسے دیکھا نہیں ہے۔ایڈورڈ سعید اپنی کتاب Culture and Imperialism جو ۱۹۹۳ میں شائع ہوئی تھی میں بیان کرتے ہیں کہ عالمی سامراج دنیا میں اپنے جبر اور نوآبادیاتی پنجے گاڑنے سے قبل بدیسی اور مقامی عفریت تخلیق کرتا ہے ۔ یہ عفریت انسانی شکل میں ہوتے ہیں۔ ممکنہ طور پر مقامی ریاستوں میں موجود کرداروں کے عوامل کو ایک عفریت کے اظہاریوں سے جوڑ دیا جاتا ہے اور مقامی سماجی اکائیاں انہیں نفرت سے دیکھنا شروع کردیتی ہیں اس نفرت اور لخت پن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سامراج دہشت کی ٹھوس شکل میں حملہ آور ہوتا ہے اور مقامی سماج کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ خوف کے اُس عبوری ماحول میں ایک تخلیق کار ویسا سوچتا ہے جیسا سعید شارق نے اپنے مذکورہ بالا شعر میں پیش کیاہے۔ ایسے ہی ایک اور شعر دیکھیے:’’جیسے اب بھی وہ سیہ دشت مری تاک میں ہے/گھر ہی رہتا ہوں کہ کھو جانے کا ڈر کم ہو جائے‘‘۔اس شعر میں ایک ایسے انسان کی نمائندگی کی گئی ہے جو ’’سیہ دشت‘‘کے خوف سے گھر سے باہر نہیں نکلتا ۔ سیاہی یا تاریکی در حقیقت شناخت کو معدوم کردیتی ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ عالمِ موجود تاریکی میں اپنی شناخت کھو دیتا ہے، بلکہ تاریکی عالمِ موجود کی شناخت کو معدوم یا لاموجود کردیتی ہے۔اور دشت جو کہ روایتی طور پر بھی موت ، دکھ ، آلام ، مصائب ، خوف اور معدومیت کا استعارہ ہے ایک غیر متحرک وجود ہے تاہم شاعر نے دشت کے عدم تحرک کو تاریکی کے تحرک سے جوڑ کر ایک زندہ وجود بنادیا جو سائے کی طرح آپ کا پیچھا کرتا ہے۔ شارق کے ہاں یہ خوف بالکل فطری ہے اور بیسیوں جگہوں پر اس کے شعروں میں مختلف جمالیاتی پیرائیوں میں در آتا ہے۔ لیکن یہ شاعری بھلے خوف کے منفی تاثر سے پُر ہو ہے حقیقی اور ایک تخلیق کار کے معاصر اضطراب کو واضح کرتی ہے۔ سعید کی عمر کے دیگر نوجوانوں کی شاعری میں محبت کا ایک فاصلاتی اور شناسا چہرہ ہی تصویر کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایک لحاظ سے تھرڈ سپیس میں زندہ رہنے کی کوشش ہے جسے سماج سے عدم تطابقت یا فراریت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ روایتی اساتذہ عمومی طور پر شاعری میں منفی پہلوؤں کی نفی کرتے ہیں، گویا ان کے نزدیک شاعری میں ایک شاعر کا محض مثبت اور میک اپ شدہ چہرہ ہی نظر آنا چاہئے یہ بالکل ایسے ہی ہے جسے شتر مرغ ریت میں گردن چھپا کر خود کو اردگرد کے سماج سے آزاد کردیتا ہے جو عین فراریت ہے۔ایسے ہی شاعر نے ایک کیفیت کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے جو اس شعر سے واضح ہے ’’: یہ جو آنکھیں دکھا رہا ہوں میں / اصل میں ڈر چھپا رہا ہوں میں ‘‘۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جس کے بارے میں فروئیڈ نے کہا تھا کہ ایک نفسیاتی مریض کے ہاں دبکے بیٹھے ہوئے خوف کو sublimation کے عمل کے ذریعے تجسیم کیا جائے تاکہ مریض اس کا سامنا کرنے کے قابل ہوجائے جسے اس نے تحت الشعور میں دبا کر رکھا ہوتا ہے۔ اگر آپ ماضی کے کچھ سیاسی واقعات کو دیکھیں جیسے کہ صدام حسین کا عالمی سامراج کو آخری سانسیں لیتے ہوئے آنکھیں دکھانا ، اٖفغانستان میں طالبان کا امریکہ کو حملے سے قبل کڑی دھمکیاں دینا ، فی زمانہ ایران کا امریکہ کو آنکھیں دکھانا وغیرہ۔ لیکن یہ اصول بذاتِ خود امریکہ کے لیے درست ہے کہ امریکہ اور عالمی سامراج کی دیگر قوتیں جو دنیا کے کمزور ترین ممالک کو آنکھیں دکھارہے ہیں یا دکھا رہے ہوتے ہیں اصل میں اپنے خوف کو چھپا رہے ہوتے ہیں ۔ اور خوف ایک ایسا ’’ عیب‘‘ ہے جو کسی بھی ’’ شے‘‘ کو دیگر ’’ اشیا‘‘ کے لیے انتہائی خطرناک بنا دیتا ہے۔ سعید شارق کے ہاں خوف کا یہ استعارا عالمی خوف کو متن کرتا ہے جسے ہم مختلف شکلوں میں تحت الشعور میں چھپا رکھ چھوڑتے ہیں اور اسی بنا پر عالمی سماجی اکائیاں ایک دوسرے کے لیے خطرناک ہوتی جارہی ہیں ۔ ہمیں سماجی بیانیوں سے خوف کے عنصر کو محبت سے تبدیل کرنا ہوگا ۔ امن دہشت پھیلانے سے نہیں بلکہ محبت پھیلانے سے قائم ہوتا ہے جس کا دنیا کو جتنا جلد احساس ہوجائے اتنا اچھا ہے۔


ای پیپر