نواز آؤٹ مگر شہباز ؟
14 مئی 2018

شہباز شریف سخت پریشان ہیں۔ نواز شریف کی ملکی اداروں سے مخاصمت ملک دشمنی کا روپ دھار رہی ہے۔ لوٹی دولت کی رسیدوں کی عدم دستیابی ، کرپشن پر مقدمات ، نااہلی ، جیل کا خطرہ نواز شریف کو وطن فروشی کے راستے پر ڈال رہا ہے۔
ممبئی حملوں کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ یہ پاکستانی اداروں نے کروائے تھے وہ بھی کسی ریٹائرڈ جرنیل یا کسی اپوزیشن لیڈر کا نہیں بلکہ ایسے شخص کا ہے جو تین مرتبہ وزیراعظم رہا جس کی اب بھی جماعت حکومت میں ہے اور جو "مسلم لیگ" کا قائد ہے ؛ یہ سب سیدھی سیدھی ریاست پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کی منظم سازش ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا نے اس سب کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اور مغربی میڈیا میں بھی واضح تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گرد پیدا کرتاہے۔ مسلم لیگ ن پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں درجنوں رہنما تحریک انصاف کو پیارے ہو چکے اور کئی ایک تیار بیٹھے ہیں اور ان
کے علاوہ کئی اور ناراض لیڈر آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کی انتھک محنت کو پہلے ہی عمران خان کی کامیاب سیاسی حکمت عملی کا سامنا ہے اس پر ن لیگی رہنماوں کا ساتھ چھوڑ جانا اور پھر نواز شریف کا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی زبان میں ملکی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا لگتا ہے ن لیگ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کی بددعائیں لے ڈوبی ہیں۔ نواز شریف کا ذہن پڑھنے کی کوشش کریں۔ اگرچے دماغ میں دولت کھسوٹنے کے طریقوں اور عورتوں کی بے عزتی کرکے سیاسی داؤپیچ کرنے کے سوا زیادہ کچھ نہیں ملے گا مگر ایک بات واضح ہوتی ہے انہیں پتا ہے کہ اب ان کا سیاسی بوریا بستر گول ہوچکا ہے اور اب چارو ناچار مقدمات میں مزید کسی کارروائی سے بچنے کے لیے کارکنوں کے پر زور اصرار پر خود ساختہ جلا وطنی اپنانا ہوگی اور پارٹی کی باگ ڈور عملاً بھائی کو تھمانا ہوگی۔ یہ غم نواز شریف کو اندر ہی اندر چاٹ رہا ہے اور ایک کے بعد ایک وہ کچھ ایسا کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا اور بین الاقوامی ملک دشمن قوتیں انہیں اپنا آلہ کار بنائے رکھیں اور عدالتوں کی سزاؤں سے بچائے رکھیں۔ ایسا لگتا ہے عمران خان کے لیے قدرت بانوے کے ورلڈ کپ والا ماحول بنا رہی ہے جہاں ورلڈکپ سے آؤٹ ہوتے ہوتے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیت گئی تھی۔ اسی طرح لگتا یوں ہے کہ نواز شریف کا بین الاقوامی خلائی مخلوق کا آلہ کار بننا عمران خان کے لیے ہما کا سایہ ثابت ہوگا۔ دوسری طرف نواز شریف کے لیے ایک بار پھر ننانوے والا ماحول
تیار ہے مگر اس بار فرق یہ ہے کہ نواز شریف مارشل لاء کی بجائے کریمینل لاء کی زد میں ہیں۔ اصل میں نواز شریف نے فوج کو بینظیر سمجھ لیا ہے۔ ریاستی اداروں کے بارے میں ہرزہ سرائی ویسے ہی کی گئی ہے جیسے بینظیر کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی جاتی رہی ہے مگر وہ بینظیر تھی جس کی کردار کشی نواز شریف نے خود بھی کی اور اپنے پارٹی لیڈروں سے بھی کروائی اور اعزاز میں ان کے منہ چومے لیکن بدلے میں مریم نواز کے کردار پر اس کے کئی چھینٹے برداشت کئے۔ اسے مکافات عمل کہیں یا رد عمل عورت کی ناموس کے ساتھ کھیلنا بدتہذیبی ہے اور بد تمیزی بھی۔
نواز شریف اخلاقی طور پر ملک میں سیاست کرنے کا حق کھو چکے ہیں۔ وہ تہذیب یافتہ دنیا کی نظر میں ملک سے دولت چرانے والے وہ شخص ہیں جس کی چوری پکڑی جانے کی صورت میں وہ ملک کے دشمنوں سے مدد مانگ رہا ہو۔ یاد رہے ریاست کے لیے ایک شخص اہم نہیں ہوتا بلکہ ریاستی بقا اور عوام کی فلاح اہم ہوتی ہے۔ اس کے راستے میں ایک شخص آجائے یا پھر کوئی مخصوص گروہ راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا قاعدہ ہے ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔
نواز شریف کے پاس اب زیادہ راستے نہیں بچے البتہ شہباز شریف کے لیے جو محدود آپشنز کھلے ہیں ان کو نواز شریف بڑی تیزی سے بند کرتے چلے جارہے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پنجاب میں جو ترقیاتی کام ہوئے ہیں شہباز شریف ان کی بنیاد پر انتخابات لڑنا چاہتے ہیں اور عمران خان کی جماعت خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے میں ناکام رہی اس کو بنیاد بنا کر ن لیگ کے حق میں رائے عامہ استوار کرنا چاہتے ہیں مگر نواز شریف کی پکڑی گئی چوری اور اس پر ان کی ہٹ دھرمی اور سینہ زوری کے نتیجے میں شہباز شریف کے دس سالوں کی کارکردگی پر پانی پھیرتا نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نون نواز شریف کے بمبئی حملوں سے متعلق احمقانہ بیان پر دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ شہباز شریف اس بیان کو اخبار کی غلط رپورٹنگ قرار دے کر پارٹی پالیسی کے برخلاف قرار دیتے ہیں جبکہ نواز شریف اپنے بیان میں اٹھائے گئے بے سروپا اور حقیقت سے منافی سوالات کا جواب مانگ کر شہباز شریف کے ردعمل کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں اگرچے دروں خانہ چپقلش کے کئی واقعات ہمارے سامنے ہیں مگر اس بار شہباز شریف کو اگر پارٹی بچانا ہے تو مائنس نواز شریف کے سوا کوئی چارہ نہیں اور مقتدر حلقوں نے اگر ملک بچانا ہے تو نوا شریف کا منہ بند کرنا پڑے گا
اْٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں
کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں
قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں
یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رہے اْن کے جانشینوں میں
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں


ای پیپر