ممبئی حملہ بھارت کا ’’اسٹنگ آپریشن‘‘ تھا : رحمن ملک
14 May 2018 (18:33) 2018-05-14

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے سنیٹر اورسابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ بھارت غیرریاستی ادارے پاکستان بھیج کر دہشت گردی کرتا رہا ہے‘ ممبئی حملہ بھارت کا '' اسٹنگ آپریشن'' تھا ‘ میں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائی‘ اجمل قصاب بھی بھارت کا اپنا مہرہ تھا اس لئے رسائی نہیں دی گئی‘ نواز شریف پریس کانفرنس کریں اور اپنا بیان واپس لیں، بھارت نا ن اسٹیٹ ایکٹر زکو پاکستان میں بھیج کر لاکھوں لوگوں کو مرواتا ہے،پاکستان بمبئی حملوں میں ملوث نہیں ہے،بمبئی حملوں کی منصوبہ بندی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کی گئی تھی،اس بیان پر نواز شریف کویو این او میں پیش ہونا پڑیگا،سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان حافظ سعید کیخلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کے مترادف ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں کہا کہ میری پریس کانفرنس کسی کے خلاف نہیں ہے۔کوئی بلیم گیم نہیں کروں گا۔ ا میں کوئی شک نہیں بمبئی حملے پر افسوس ہوا میں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائی۔ نان اسٹیٹ ایکٹر وہ ہوتا ہے جس کو حکومت کی پشت پناہی نہیں ہوتی ۔ بھارت نا ن اسٹیٹ ایکٹر زکو پاکستان میں بھیج کر لاکھوں لوگوں کو مرواتا ہے ۔میاں نواز شریف نے جو بیان دیا وہ متنازعہ ہو گیا ہے۔میاں صاحب آپ قوم کے وزیراعظم تھے آپ سے اپیل ہے کہ پاکستان اور عوام پر رحم کریں۔ بھارت سے ممبئی حملہ کے ثبوت دیں ہم کارروائی کریں گے بھارت کو سوال بھیجے جس کا جواب نہیں آیا ۔۔ ممبئی حملہ را کا اسٹنگ آپریشن تھا ۔

انہوں نے کہا کہ اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈیوڈ ہیڈلے کے سنڈیکٹ کو بھارت کی خفیہ ایجنسی نے تیار کیا۔ اجمل قصاب بھی بھارت کا اپنا مہرہ تھا اس لئے رسائی نہیں دی گئی۔نواز شریف کے بیان سے افسوس ہوا،میاں صاحب ہو سکتا ہے کہ آپکے بیان میں بددیانتی نہ ہو۔ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔اگر میاں صاحب کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تو وہ بیان واپس لے لیں۔نواز شریف صاحب آپ کے بیان پر یو این او میں پیش ہونا پڑے گا۔پاکستان بمبئی حملوں میں ملوث نہیں ہے۔ سینٹ میں بھی نواز شریف کے بیان پر بحث ہو گی۔میاں صاحب تین مہینے بعد معافی مانگنے سے بہتر ہے قوم کے سامنے معافی مانگ لیں۔


ای پیپر