Photo Credit Naibaat Mag

الیکشن 2018ءکا دنگل اور شہرِقائدکی سیاست
14 مئی 2018 (16:02) 2018-05-14

جلسے جلوس اورتنقید جمہوریت کا حسن مگرجان لیوا ہُلڑبازی قومی تاثر کے لئے نقصان دہ ہے


مقبول خان:پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ ضلع وسطی کے معروف علاقے لیاقت آباد میں ایک بڑا جلسہ کرکے کراچی میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سیاسی قوت کا یہ مظاہرہ کس حد تک کامیاب رہا اوراس جلسے کے اثرات کراچی کی سیاست پرکس حد تک مرتب ہوںگے، ان دونوں سوالوں کے جواب ہم سیاسی مبصرین اورآنے والے وقت پر چھوڑتے ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ پیپلزپارٹی ٹنکی گراو¿نڈ ایف سی ایریا لیاقت آباد میں44 سال بعد ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ جہاں اس سے قبل اس کے لئے انتخابی کارنرمیٹنگ کرنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ پیپلزپارٹی نے کراچی میں یہ جلسہ ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب سندھ کے شہری علاقوں کی منظم سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ پانچ ٹکڑوں یعنی ایم کیوایم پاکستان، بہادرآباد، ایم کیوایم پاکستان پی آئی بی، پاک سر زمین پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ میں تقسیم ہوچکی ہے اورکراچی کی سیاست میں ایک خلاموجود ہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگاکہ پیپلز پارٹی کا ٹنکی گراو¿نڈ میں جلسہ منعقدکرنا پی پی کی سیاسی مقبولیت کا نتیجہ ہے یا ایم کیو ایم کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا شاخسانہ ہے۔ اس جلسہ کو پیپلزپارٹی کی غیر اعلانیہ انتخابی مہم کا حصہ بھی قراردیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اگرجمہوری عمل جاری رہا تونگراں حکومت کے قیام کے بعد 60 دنوں میں عام انتخابات کا انعقاد جولائی کے آخریا اگست کے پہلے ہفتہ میں متوقع ہے۔


29 اپریل2018ءکا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن تھا،جب پاکستان کے دو بڑے اور اہم شہروں: لاہوراورکراچی میں ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے چیئر مینوں نے بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا، اورآئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کے دعوے کرنے کے ساتھ اپنے مخالف سیاسی قائدین پرسخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ اب ان کا زمانہ جارہا ہے، اور ہمارے اقتدارکا سورج طلوع ہونے والاہے۔کراچی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورلاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خطاب کیا تھا، یہاں ہمارا موضوع صرف کراچی کا جلسہ ہے، لہذا ہم اس کی تفصیلات کا ذکرکرتے ہیں۔ ٹنکی گراو¿نڈ میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو سمیت وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی، سینئر صوبائی وزیرنثارکھوڑو اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمٰن اور دیگر نے خطاب کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کاغذی شیر اورکرکٹ کھلاڑی آمریت کی پیداوار ہیں۔ بلاول کا واضح اشارہ میاں محمد نواز شریف اور عمران خان کی طرف تھا۔ شاید بلاول بھٹو زرداری زورِخطابت میں سیاسی تاریخ کی اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے تھے کہ پیپلزپارٹی کے بانی اوران کے نانا ذولفقار علی بھٹوکا سیاسی کیریئر 1963ءمیں فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے قدرتی وسائل کے طور پر شروع ہوا تھا، اور وہ جنرل ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے مرکزی عہدیدار بھی رہے ہیں، بعد ازاں وہ ایوب کابینہ میں وزیرخارجہ کے منصب پر بھی فائز رہے۔اس تاریخی پس منظر میں صرف نوازشریف اورعمران خان کوآمریت کی پیداوار قرار دینا تاریخی غلطی ہوگی۔


جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے مقررین کاکہنا تھاکہ 2018ءکے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کا سورج طلوع ہوگا اوردیگر سیاسی جماعتوں کے اقتدارکا سورج غروب ہو جائے گا۔ عوام نے پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن) اورایم کیوایم کو مستردکردیا ہے، بلاشبہ مقررین کا یہ دعویٰ بہت بڑا ہے، لیکن ابھی اس حوالے سے کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ عوام کسے مستردکرتے ہیں اورکسے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔کچھ پی پی رہنماو¿ں کا خطاب میں یہ بھی کہنا تھاکہ کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے، غیرجانبدارسیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں بدامنی کا ذمہ دارصرف ایم کیو ایم کو قرار دے کر اپنی کوتاہیوں اورناکامیوں کو پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا ہے، لیاری اوراس سے ملحقہ علاقوں میں پیپلزامن کمیٹی نے گل کھلائے اس کوکراچی کے شہری اورلیاری کے مکین آسانی کے ساتھ فراموش نہیں کرسکتے۔ پیپلزپارٹی کے سابق رہنما اور سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں، عزیر بلوچ کے پی پی رہنماو¿ں کے ساتھ تعلقات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں،کراچی میں بعض علاقوں میں اے این پی کے کارکنوں کی غیرسیاسی اورمنفی کارروائیوں کو بھی امن وامان کے حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مقررین نے مسلم لیگ (ن)کی وفاقی حکومت پرالزام عائدکیاکہ وفاقی حکومت نے کراچی کے عوام سے پانی اور بجلی چھین لی ہے، وفاقی حکومت نے آج تک سندھ حکومت کو بجلی کی پیداوارکےلئے لائسنس نہیں دئے ہیں۔ بجلی کی پیداوارکے لائسنس نہ دینے کا جواب تو وفاقی حکومت ہی بہتر طور پر دے سکتی ہے، لیکن اس حقیقت کو نظر اندازکرنا مشکل ہے کہ کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈکے چیئرمین کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے اوروہ سندھ کابینہ میں وزیربھی ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں کا یہ تاثردینا ہے کہ کراچی کو پیپلزپارٹی نے سیاسی طور پرفتح کرلیا ہے اور یہ نعرہ لگاناکہ کراچی بھٹوکا ہے۔ پی پی رہنماو¿ں کے اس دعوے کا تاریخی تجزیہ کراچی کی حقیقی سیاسی صورتحال اور پی پی کی عوامی مقبولیت کو واضح کرسکتا ہے۔


پیپلز پارٹی 1967ءمیں ذوالفقارعلی بھٹو نے قائم کی تھی، بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے 1970ءکے الیکشن میں حصہ لیا اوراس وقت کے مغربی پاکستان میں شاندار اورتاریخی کامیابی حاصل کی۔اس الیکشن میں کراچی کی قومی اسمبلی کی8 نشستیں تھیںجن میں پیپلزپارٹی کے دو امیدوار عبدالحفیظ پیرزادہ ملیراور اس کے دیہی علاقوں سے جبکہ لیاری اوراس کے ملحقہ علاقوں سے عبدالستارگبول رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں کراچی کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود پیپلزپارٹی ایک، دویا زیادہ سے زیادہ تین نشستوں پرکامیاب ہوتی رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ کراچی میں اردو، پنجابی اور پشتو بولنے والے لوگوں کی اکثریت کا مائنڈ سیٹ پیپلزپارٹی مخالف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے وجود میں آنے سے قبل کراچی کی سیاست پرجماعت اسلامی اورجمعیت علماءپاکستان کاغلبہ رہا ہے۔ لہذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کراچی بھٹوکا شہر ہے یا پیپلزپارٹی نے کراچی کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ اب ہم اس جلسے کے حوالے سے تصویرکا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ یہاں ہم ایم کیوایم ، مہاجر قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ن)کے رہنماو¿ں کے ردعمل کا جائزہ لیتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اورپیپلزپارٹی کے دیگر رہنماو¿ںکی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کیا۔ یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ بلاول بھٹو زرداری سمیت پی پی کے کسی بھی رہنماءنے جماعت اسلامی، جمعیت علماءاسلام سمیت کسی اور جماعت کوتنقیدکا نشانہ نہیں بنایا تھا۔ ان کا نشانہ صرف دوجماعتیں متحدہ قومی مومنٹ اورمسلم لیگ (ن) تھیں، جس کے جواب میں ایم کیوایم کے رہنماو¿ں نے ماضی کے واقعات بشمول شہداءاردو، سانحہ 30ستمبر اور پکا قلعہ کو دہراتے ہوئے پیپلزپارٹی کی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن)کے رہنماو¿ں نے اپنے ردعمل میں پیپلزپارٹی کی حکومت کوسندھ کے دیہی اورشہری علاقوں میں بدامنی اوردیگر مسائل کا ذمہ دارقراردیا ہے۔


متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئرکنوینئرعامرخان نے اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے جلسے کا خیر مقدم کیا اورکہاکہ اچھا ہوتا اگراس جلسے میں کراچی کے عوام شریک ہوتے،جلسہ گاہ کے قلب میں شہداءاردوکی قبریں ہیں، جن میں مدفون لوگوں کو اردو دشمنی میں پیپلزپارٹی کے پہلے دورحکومت میں شہیدکیاگیا تھا۔ ان شہداءکے ورثاءنے اس جلسہ میں شرکت نہ کرکے پیپلزپارٹی کو مستردکردیا ہے۔ اندرون سندھ اورکراچی کے دیہی علاقوں سے لائے گئے افراد سے جلسہ کوکامیاب بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیاقت آباد پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کئی باراس کی مانگ اجاڑنے کی کوشش کی۔ ٹنکی گراو¿نڈ میں پیپلزپارٹی کے جلسہ کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم برداشت اور رواداری کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ جلسہ کے حوالے سے ایم کیوایم کے ایک ترجمان کاکہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین مہاجروں سے ہمدردی کرنے کے بجائے سانحہ 30 ستمبر اور پکا قلعہ حیدرآباد کے زخموں کا حساب دیں۔ ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کاکہنا تھاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے روٹی،کپڑا اور مکان کے بجائے گولی کفن اور قبرستان دیا ہے۔ جبکہ میئرکراچی وسیم اخترکا مو¿قف تھا کہ بلاول بھٹو زرداری پہلے لکھی ہوئی تقریرکو سمجھیں پھرعوام سے خطاب کریں۔


ٹنکی گراو¿نڈ کا یہ جلسہ بلاشبہ کراچی میں پیپلزپارٹی کا پاور شو تھا لیکن اس کے اثرات کراچی کی سیاست پر مرتب نہیں ہو سکے،کیونکہ کراچی کے اردو ، پنجابی اور پشتو بولنے والے افراد نے اس جلسہ کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ تاہم اس جلسہ کو پیپلزپارٹی کی غیر اعلانیہ انتخابی مہم کا حصہ ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ جلسہ کسی بھی طرح اس سیاسی خلا ءکو پُرنہیں کرسکا جو ایم کیو ایم کے مختلف حصوں میں بٹ جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے،کیونکہ کراچی میں یہ تاثراب بھی مستحکم ہے کہ مہاجر ووٹ تقسیم نہیں ہوگا۔ وہ ایک ہی طرف جائے گا لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مہاجر ووٹ بینک کا اکاو¿نٹ ہولڈرکون ہے؟ دوسری طرف یہ بھی حقیقت سامنے آئی ہے کہ ٹنکی گراو¿نڈ میں پیپلزپارٹی کے جلسہ کے بعد متحدہ قومی مومنٹ کے بہادرآباد اور پی آئی بی گروپ کے درمیان فاصلے کم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔کراچی میں پنجابی اسپیکنگ افرادکی اکثریت میاں نواز شریف کی حمایت کرتی ہے، پی پی رہنماو¿ں نے اپنے جلسے میں شریف برادران اور وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لہذا مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کا اس جلسہ پر ردعمل یہاں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ تحریر متوازن ہوسکے۔


مسلم لیگ (ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبرگجر کاکہنا تھاکہ سندھ کی حکومت بچانے کے لئے پیپلزپارٹی نے کراچی کو دہشت گردوں اور قاتلوںکے رحم وکرم پرچھوڑے رکھاتھا۔کراچی کے امن کو تباہ کرنے میںسندھ کی صوبائی حکومت بھی برابرکی حصے دار تھی۔ پانچ سال مرکزی حکومت پرقابض رہنے والی پیپلزپارٹی کوکراچی کے عوام کی جان ومال کا احساس ہو تا تو 2013ءسے پہلے ہی سندھ میں امن آچکا ہوتا۔ کراچی کے عوا م کے مزاج اور مسائل سے پیپلزپارٹی نے کراچی کو ہمیشہ اقتدارکی سیڑھی بناکرمقتدراداروںکو بلیک میل کیا اورکراچی کے کروڑوں شہریوں کی جان ومال کا تاوان وصول کرتی رہی۔ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے رہنے والے محب وطن پاکستانی پیپلزپارٹی کے کردار سے بخوبی واقف ہیں اورجانتے ہیں کہ کراچی کوسوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بدامنی کا ایندھن بنائے رکھنا پیپلزپارٹی کی سیاسی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ (ن)کراچی ڈویژن کے نائب صدرحاجی محمد شاہجہاں نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کاکراچی اور تحریک انصاف کا لاہور میں ہونے والا سیاسی شو مکمل طور پرفلاپ ہوگیا ۔ عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کیے جانے والے دعوے عوامی شعورکی تذلیل کے مترادف ہیں۔90 دن میں کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے بتائیں کہ انہوںنے 5 سالوں میں اس کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ پیپلزپارٹی بتائے کہ لاڑکانہ میں90 ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کرپشن اور بیڈگورننس کا استعارہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام نے شکست خوردہ عناصرکو مسترد کرکے اپنی سیاسی دانش کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ جھوٹے وعدے اوردعو ے کرکے پاکستان کے باشعورعوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔


شہرقائد کے سیاسی ماحول کی بات چھڑی ہے تو اب ذکر ہوجائے 7 مئی کو پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ورکز کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی کا۔ یہ تنازع دونوں جماعتوں کے درمیان کراچی میں 12 مئی کو گلشن اقبال میں واقع حکیم سعید گراو¿نڈ پر جلسے کرنے پر شروع ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں دن بھر جاری رہنے والے کشیدگی کے بعد رات گئے تصادم ہوگیا، دونوں جماعتوں کے کارکن آپس میں لڑ پڑے اور علاقہ میدان جنگ بن گیا، دونوںجماعتوں کے مشتعل کارکنوں نے ایک دوسر ے کے کیمپ اُکھاڑ دیئے جبکہ ایک موٹر سائیکل اور 2 گاڑیاں جلادی گئیں۔ تصادم کے دوران ایک دوسرے پر آزادانہ ڈنڈوں کا استعمال اور پتھراو¿ اورہوائی فائرنگ بھی کی گئی، علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اور پتھر لگنے، تشدد اور بھگدڑ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماو¿ں نے ایک دوسرے کے کیمپ اُکھاڑے جانے کی الزام تراشی کی جبکہ تحریک انصاف نے یہ الزام بھی لگایاکہ پی پی پی کے کارکنوں نے براہ راست فائرنگ کی۔


اختلافات اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سیاسی کھیل کا حصہ ہے جب کہ جلسے جلوس اوردوسری جماعتوں پر تنقید جمہوریت کا حسن۔ مگر ایسی ہنگامہ آرائی کہ جس میں ایک دوسرے کو جسمانی ایذا پہنچے اوریہاں تک کہ انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے، کسی بھی صورت جمہوری عمل نہیں کہلاسکتی اورخاص طور ایک ایسے شہرمیں جہاں امن وامان کی صورتحال پہلے ہی انتہائی نازک دور سے گزر چکی ہو، سیاست کے نام پر ایسی ہلڑبازی کی ہرگزگنجائش نہیں نکل سکتی۔


ای پیپر