Photo Credit Naibaat Mag

موجودہ ملکی حالات،سیاسی بیانیے اورالجھن کا شکارعوام
14 مئی 2018 (15:57) 2018-05-14

حافظ طارق عزیز:سیاست دانوں کو نعرے، سیاسی کارکنوں کو ہلاشیری جب کہ میڈیا ہاو¿سزاور اخبارات کو نئے نئے اور” انوکھے“موضوعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اورجب انتخابات نزدیک ہوں توان عوامل کی ضرورت دوآتشہ ہوجاتی ہے۔ وطن عزیزمیں آج کل ایسا ہی ماحول بنا ہوا ہے۔ حالات بدل رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی مدت بالکل تھوڑی رہ گئی ہے۔ جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے ، ہر جماعت، ہرکارکن، ہررہنما، ہراینکر، ہر صحافی، ہر میڈیا ہاو¿س مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے۔ ہر کوئی چاہے وہ سیاستدان ہے یا صحافی؛ تجزیا کار ہے یا کالم نگار اپنے اپنے بیانئے ، تھیوری اور نظریے کے ساتھ ایک دوسرے کو مات دینے میں مصروف دکھائی دے رہا ہے ۔ ان حالات میں اگر کوئی طبقہ گومگوں اورغیر یقینی کیفیت میں ہے، تو وہ ہے عام عوام۔ لگتا ہے کہ عوام آئے روزکے سیاسی بیانیوں اور نت نئے تجزیوں سے اس قدرکنفیوز ہیں کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ پاکستان کے عوام 1954ءسے لے کر آج تک 13واں الیکشن دیکھنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ہربارکی طرح اس بار بھی کنفیوزڈ دکھائی دیتے ہیں۔


عوام اس یقین کے ساتھ پولنگ اسٹیشنزکا رُخ کرتے ہیں کہ اب کی بار ان کے ووٹ سے وہ تبدیلی آئے گی جو ان کے لئے اور ملک وقوم کے مفید ثابت ہوگی۔ لیکن الیکشزکے بعد ہارنے والے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کی بوچھاڑ عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت سے بدظن کر دیتی ہے۔ جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں جب محترمہ فاطمہ جناح نے الیکشن میں حصہ لیا اور اُنہیں دھاندلی کرکے شکست دی گئی تو پہلی بار الیکشن کی شفافیت پر لوگوں کے ذہن میں سوالات اٹھے کہ کیا ایوب خان کو محترمہ فاطمہ جناح سے زیادہ مقبولیت حاصل تھی؟آمریت کے طویل سیاہ دورکے بعد جب 1970ءمیں انتخابات ہوئے تو ان انتخابات کو قدرے شفاف انتخابات سے تشبیہ دی گئی مگر بعد میں اس الیکشن میں بھی اداروں پر جانبداری کا الزام لگایاگیا اورنتائج تسلیم نہ کئے جانے کی صورت میں پاکستان دولخت ہوگیا۔ 1977ءکے انتخابات میں بھی پری پول اور پولنگ ڈے ریگنگ کے الزامات لگائے گئے، الیکشن کے روز جعلی ووٹوں سے بیلٹ باکس بھرنے کے واقعات رونما ہوئے اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے خودکو بلامقابلہ منتخب کرانے کے لئے مخالف جماعت کے امیدوارکو اغواکروایا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن نتائج تسلیم کرنے سے انکارکردیا نتیجتاً ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیاءالحق اقتدار پر قابض ہوگئے اور متنازع فیصلے میں ذوالفقار بھٹوکو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 1988ءکے عام انتخابات کو اس بنیاد پر غیر شفاف قرار دیا گیا کہ اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دینے کا اعتراف کیا تھا۔ اسی طرح 1990ءکے انتخابات بھی تنازعات کا شکار رہے اور اداروں پر الزامات لگائے گئے۔ اس کے بعد آمریت چوتھے اور تازہ ترین دور یعنی جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2002ءکے انتخابات میں الیکشن سے پہلے اور بعد میں دھاندلی عروج پر رہی۔ نیب کو لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے، مسلم لیگ (ق) جوائن کروانے اور اپنی پسند کا وزیراعظم منتخب کرانے کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا جس نے الیکشن کی ساکھ کو مجروح کیا۔ 2008ءکا الیکشن ایک فیئر الیکشن تصورکیا جاتا تھا مگر حال ہی میں مسلم لیگ (ق)کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی اپنی بائیوگرافی میں کئے گئے اس انکشاف نے سب کو حیرت زدہ کردیا کہ ”2008ءکے الیکشن نتائج طے شدہ تھے اور اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کی صبح فون کرکے مطلع کیا تھا کہ ”آپ کی پارٹی کو اس بار 24 سے 30 نشستیں ملیں گی اور آپ نے الیکشن نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔“ 2013ءکے الیکشن بھی شفاف تھے تاہم الیکشن کی شفافیت کو متنازع بنانے کے لئے گزشتہ دنوں عمران خان کے اس بیان نے سب کو حیرت زدہ کردیا کہ ”2013ءکے الیکشن میں ایک بریگیڈئیرنے (ن) لیگ کی مدد کی تھی۔“ تاہم مذکورہ بریگیڈیئر نے عمران خان کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”عمران خان اداروں کو بدنام کرنے سے باز رہیں۔“۔ 2013ءکے الیکشن کے بارے میں یہی بات پہلے آصف علی زرداری اور پیرپگاڑا بھی کہہ چکے ہیں، اور بعض”باخبر“ سینئرصحافیوںکے بقول عمران خان اور ڈاکٹرطاہر القادری کا دھرنا بھی فکس تھا۔


اب جب کہ 2018ءکے اہم ترین انتخابات ہونے جارہے ہیں تو ان سے قبل ماضی کی ”نادیدہ قوتوں“، ”نادیدہ ہاتھوں“ اور”مقتدر حلقوں“ کو ”خلائی مخلوق“ کا لقب دے کرایک نئی سیاسی وانتخابی اصطلاح متعارف کردی گئی ہے۔ ایک طرف تو ووٹ کی عزت کی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف” ہمارا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے“ جیسا نیا بیانیہ متعارف کرا کے سب کچھ ” فکس“ کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں بھلا کون سا ووٹ، کیسا ووٹ، کیسی ووٹ کی عزت اورکہاں کی عزت؟ اور ویسے بھی پاکستان میں کل ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز میں سے 3.5کروڑ یعنی 42 فیصد ووٹر ووٹ کاسٹ کرتا ہے، اس میں سے بھی 30، 40 فیصد ووٹ جعلی ڈالے جاتے ہیں اور ان میں سے بھی ہزاروں ووٹ ایسے ہیں جو پچھلے الیکشن کی طرح سڑکوں اورکچرے میں پڑے ملتے ہیں۔
عوام پریشان ہیں ، بھوک سے مررہے ہیں اوراوپر سے انہیں آئے روز انہیں اپنے اپنے سیاسی قائدین کی زبان سے نئی دُرفنطنی سننے کو ملتی ہے۔ وہ بیچارے سر پکڑکر بیٹھ جاتے ہیں کہ کس کا یقین کریں اورکس بات کو مستردکریں ۔ اس سوچ اورکیفیت کے حامل عوام میں وہ طبقہ شامل نہیں جو ہر حال میں سیاستدانوں کا قصیدہ خواں رہتا ہے۔ سیاست دان کوئی بھی درفنطنی چھوڑدے، اس کے لئے یہ قول زرّیں کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے Die Hards کے علاوہ موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں عام عوام تو بس یہی کہہ سکتے ہیں:


حیراں ہوں دل کو روو¿ں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں


یہ عوام بیچارے ہی ہیں جن کو جمہوریت کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے ا ورکیا جا رہا ہے جبکہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدان خودکروڑوں مالیت کی گاڑیوںمیں گھومتے اور لاکھوں کے کپڑے اور زیورات پہنتے ہیں۔ ان کی چھینک کا علاج بھی ملک سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے عوام سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ خدارا! اپنے ووٹ کی اتنی کم قیمت نہ لگائیں۔ اس مرتبہ وقتی فائدہ کے بجائے دائمی اور اجتماعی فائدہ کے لیے ووٹ دیجیے اور اگر اب کوئی نعرہ لگاتا ہے ”ووٹ کو عزت دو“ تو عوام کا نعرہ ہونا چاہیے ”پانی دو، بجلی دو، تعلیم دو، روزگار دو، صحت دو، پارکس دو، لائبریری دو، صفائی دو، آگے بڑھنے کے یکساں مواقعے دو، امن دو، ووٹرکو عزت دو“جب کہ ان حکمرانوں کے نزدیک یہی نعرے مختلف اشکال میں یکسر بدل چکے ہیں کہ ”ووٹ کو عزت دو، ووٹر کو ذلت دو، ووٹر سے سب کچھ چھین لو، ووٹر کو جہالت دو، ووٹرکو فریب دو“۔


حد تو یہ ہے کہ عوام یہ بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں کہ کون صحیح ہے اورکون غلط۔ اہل نظر کا تو یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے حالات جس طرح خراب کردیے گئے ہیں، انھیں کوئی معجزہ ہی ٹھیک کرسکتا ہے اور یہ معجزہ انقلاب کی صورت میں ہی آسکتا ہے۔


عوام ملک کے سیاسی حلقوں میں خلائی مخلوق کے تذکرے آج کل بڑے زورشور سے سن رہے ہیں۔ خلائی مخلوق کی اصطلاح پاکستان میں پہلی بار متعارف کرانے کا سہرا سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے سر جاتا ہے جنہوں نے گزشتہ دنوں خلائی مخلوق کے حوالے سے یہ انکشاف کیا کہ ”آئندہ انتخابات میں ہمارا مقابلہ تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہوگا جو اپنی مرضی کی پارلیمنٹ لانا چاہتی ہے مگر ہم خلائی مخلوق کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے، خلائی مخلوق سدھر جائے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔“ بعد ازاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنی تقریر میں یہ کہہ کر سب کو حیرت زدہ کردیا کہ ”آئندہ انتخابات میں خلائی مخلوق کا کردار اہم ہوگا۔“ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلائی مخلوق پر تبصرے کے بعد ملک کے دیگر سیاستدانوں نے بھی خلائی مخلوق کو موضوع بحث بنایا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ”دنیا ہو یا پاکستان، ہر جگہ خلائی مخلوق انتخابات کا حصہ ہوتی ہے۔“ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ”خلائی مخلوق اپنا کام کرے اور زمینی مخلوق کو بھی کام کرنے دیا جائے۔“ اسی طرح وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی یہی لائن اپناتے ہوئے کہا کہ ”ملک میں سب کچھ خلائی مخلوق کررہی ہے۔“ واضح رہے کہ آئین پاکستان، فوج اور عدلیہ پر تنقید کی ممانعت کرتا ہے مگر پاکستانی سیاستدان، اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف اصطلاحات استعمال کرتے رہے ہیں جس کی مثال پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو تھیں جنہوں نے ماضی میں عدلیہ کے بارے میں ”چمک“ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔


خلائی مخلوق، پری پول ریگنگ، آفٹر پول ریگنگ اور انجینئرڈ نتائج جیسے بیانات الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان تصورکئے جاتے ہیں۔ پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی میں الیکشن کے بعد اداروں پر دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں جبکہ موجودہ دور میں اس میں روز بروز شدت آتی جارہی ہے۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ الیکشن اس سیاسی سرگرمی کا نام ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہو اور یہی اعتماد ایک شفاف اور منصفانہ الیکشن ممکن بناسکتا ہے۔ ماضی کے انتخابات میں اسی طرح اداروں کی مداخلت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ماضی کو دیکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور حامی جماعتوں کے شکوک و شبہات کو ایک شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن ہی رفع کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کسی کے حق میں نہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی کوکم کیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں بصورت دیگرآئندہ الیکشن کی شفافیت پر بھی سوال اٹھیں گے جس سے نہ صرف الیکشن کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ انتخابی نتائج بھی قبول نہیں کئے جائیں گے۔ اورعوام ایک بار پھر بیوقوف بن جائیں گے۔ اگرحالات ایسے ہی رہے توکہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ” ووٹ کوعزت“، ”لاڈلا“، ”خلائی مخلوق“، ”مجھے کیوں نکالا“، ”کرپشن“، ”دھاندلی“ ، پری پول ریگنگ“ جیسے بیانیے سنتے سنتے عوام کا ووٹ پر سے ہی یقین اُٹھ جائے۔


ای پیپر