No one can challenge the blasphemy Law in Pakistan: Tahir Ashrafi
کیپشن:   فائل فوٹو
14 مارچ 2021 (13:15) 2021-03-14

اسلام آباد: معاون خصوصی مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور توہین رسالت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

مولانا طاہر اشرفی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحفظ ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے بہت کام کئے۔ آغا شورش نے بھٹو سے کہا تحفظ ختم نبوت ﷺ کے قانون پر دستخط کریں تو بھٹو نے کہا تھا تم چاہتے ہو امریکا مجھ سے ناراض ہو جائے؟ اگر میں دستخط کروں گا تو امریکا ناراض ہوگا اور قبر مقدر بنے گی۔ آغا شورش نے کہا دستخط کرنے سے دنیا میں سیاسی موت ہوگی اور آخرت میں جنت ہوگی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور توہین رسالت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ آج ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ فتنوں کا دور ہے، ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کوئی توحید پر حملہ آور ہے تو کوئی عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر حملہ کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج حکمت اور جرات اور تحمل سے آگے بڑھنا ہے۔ ہم پاکستان کے نظریے، اساس اور قانون کیخلاف کسی کو پروپیگنڈا نہیں کرنے دیں گے۔ پاکستان میں دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 8 مارچ کو جو خواتین آزادی چاہتی تھیں،  وہ مادر پدر آزاد ہیں۔ اسلام میں خواتین کو تمام حقوق حاصل ہیں۔ آج ملک میں پاکستانی معاشرہ سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ خواتین گھر کے اندر پوری طرح محفوظ ہیں۔ دین اسلام نے خواتین سر کا تاج قرار دیا ہے، اسے بہت اعلیٰ مقام دیا ہے۔ خواتین کے حقوق کیخلاف نہیں، ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات سے عاری کچھ خواتین اپنی آزادی کے نعرے لگاتی ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے عورت کی عظمت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی میں جرات نہیں کہ وہ مدارس اور مساجد پر قبضہ کرلے۔ مدارس اور مساجد اسلامی تعلیمات کی ترویج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔


ای پیپر