Shafiq Awan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
14 مارچ 2021 (12:31) 2021-03-14

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات بھی ہو ہی گئے اور نتیجہ بھی وہی آیا جس کا حکوت دعویٰ کر رہی تھی یعنی اقلیت جیت گئی اکثریت ہار گئی۔ یہ سب کچھ وطن عزیز میں ہی ہو سکتا ہے کیونکہ "اداروں " کی عزت کا سوال تھا جسے بچانے کے لیے انہوں نے اپنا تمام وزن ایک پلڑے میں ڈالا ہوا ہے۔ ان نتائج سے ایوان بالا کہلانے والا ادارہ اپنے ہی ممبران کے ہاتھوں دوسری بار زمین بوس ہو گیا۔ اس عمل میں اپوزیشن اور حکومت برابر کی شریک ہیں۔ سینیٹ جیسے مقدس ادارے کے ووٹ کے تاجر بیچنے والے اور خریدار سیاسی تقسیم کے دونوں طرف ہیں۔ 

 صادق سنجرانی کے بطور چیئرمین سینیٹ پہلے انتخاب اور پھر ان کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی سے لے کر سنجرانی کی دوسری مدت کے انتخاب تک اس ادارے کے منہ پر صرف کالک ملی گئی ہے۔ جب ایوان بالا کہلانے والے ادارے میں بھی انصاف جمہوریت کی بجاے دھونس دھاندلی ناانصافی پیسے کی سیاست چلے گی تو اس ملک میں بہتری کی امید چھوڑ دینی چاہیے۔ اعلی ایوانوں سے شروع ہونے والا یہ رویہ نیچے تک جاتا ہے اور ہم روزانہ معاشرے میں اس کے اثرات دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ چینی کہاوت ہے مچھلی ہمیشہ اوپر سے گلتی سڑتی ہے۔

ایک بات طے ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے بکاؤ مال ہیں ان سے عوام کی بہتری کی امید رکھنا فضول ہے۔

دوسری مدت کے انتخابات میں تو سب کچھ سکرپٹڈ لگ رہا تھا کہ 8 ووٹ متنازعہ ہوں گے اور انہیں مسترد کرنا ہے۔ پھر فاٹا سے کسی جماعت سے تعلق نہ ہونے پر بھی مرزا صاحب آئیں گے اور چیئرمین سینیٹ سے بھی زیادہ ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جائیں گے۔ تین روزقبل میں نے اپنے وی لاگ میں چار سینٹروں کا اشارے کنایوں سے ذکر بھی کر دیا تھا اپوزیشن کو بھی علم تھا لیکن وہ بھی اس ملک کو چلانے والوں کے سامنے بے بس تھی۔ پریذائیڈنگ آفیسر نے جس سرعت سے ان ووٹوں کو مسترد کیاوہ بھی تحقیقات طلب ہے۔ اس پر بعد میں میڈیا ٹاک کرتے ہوے پریذائیڈنگ افسر نے یہ بھی مانا کہ اپوزیشن اراکین کی طرف سے سات ووٹ ضائع کرنے میں انہیں ان کی بدنیتی نظر آئی۔ جب انہیں بدنیتی کا علم تھا تو انہوں نے رولنگ دیتے وقت اس کا خیال کیوں نہ رکھا۔ جب منصف ہی بے انصافی کرے تو فریادی کہاں جائیں۔ 

بہر حال اس گندے کھیل میں پی ڈی ایم 

کے 8 سینیٹرز بھی برابر کے شریک ہیں۔ جنہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے ووٹ متنازعہ بناے لیکن ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دیتے وقت انہوں نے غلطی نہیں کی جس سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ ریاست کبھی بھی نیوٹرل نہیں ہوتی اسے عوام نیوٹرل بننے پر مجبور کرتے ہیں لیکن جب لیڈر بک جائے تو عوام خود مجبور ہو جاتے ہیں۔ 

خیر پی ڈی ایم نے سینیٹ چیئرمین کا الیکشن اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن کون جیتے گا تیری زلف کے سر ہونے تک۔ جہاں تک عدم اعتماد کا تعلق ہے تو "سیاسی مینیجرز" نے ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں دس ووٹ زیادہ لے کر عدم اعتماد کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے۔ اگر پی ڈی ایم کو اس متنازعہ الیکشن پر عدلیہ سے بھی انصاف نہ ملا تو پھر ہمیں بحثیت قوم اسی راتب پر گزارا کرنا ہو گا جو "نگرانوں" نے ہمیں ڈالنا ہو گا۔ پارلیمنٹ عوام کے لیے امید ہوتی ہے اور جج سے انصاف کی توقع لیکن جس معاشرے میں پارلیمنٹ کی عزت اپنوں کے ہاتھوں لٹ جاے اور جج انصاف کے لیے کٹہرے میں کھڑا ہو تو پھر عوام کسی بھلائی یا انصاف کی توقع نہ ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ 

 ایک بات تو طے ہے کہ پی ڈی ایم کے سینیٹرز بکے تھے لیکن اپوزیشن قیادت نے باغی اراکین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سے ان کی عددی برتری ختم ہو جاے گی۔ خیر سیاست کا یہ گندہ دھندہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ جتنی شدت اور طاقت ہمارے لیڈران اس کھیل میں لگاتے ہیں اس سے آدھی توجہ عوامی مسائل کی طرف لگائیں تو عوام کا بھی بھلا ہو جائے۔ لیکن شاید ان کا یہ ایجنڈا ہی نہیں۔

نیب نے مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔گو کہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے لیکن حکومتی ذرائع کچھ اور دعوی کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے سب کچھ کسی گریٹ گیم کا حصہ تو نہیں۔

 اس سے قبل ہی مریم نواز کو کچلنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور نواز شریف نے اس کا الزام بھی فوج کی اعلیٰ قیادت پر لگا دیا ہے۔ یہ بھی افسوسناک ہے ہر الزام فوج پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تین بار کے وزیر اعظم کی طرف سے الزامات کی بھی تفتیش کرنی چاہیے اور الزامات کی سنگینی کے پیش نظر سپریم کورٹ اس کی تحقیقات کا حکم دے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے کہ ان دھمکیوں کے پیچھے کون ہے۔ ہمیں اپنی فوج بے حد عزیز ہے اور ان پر الزامات لگانے کی کوئی پاکستانی تائید نہیں کر سکتا۔ 

مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی جاوید لطیف کا یہ بیان کہ خدانخواسطہ مریم نوازکوکچھ ہوا تو ہم آصف علی زرداری کی طرح پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگایں گے یعنی خاکم بدہن خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔ 

اللہ پاک مریم نواز کو لمبی زندگی دے لیکن جاوید لطیف کے اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔مسلم لیگی قیادت کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ مریم نواز کو اللہ لمبی زندگی دے لیکن جاوید لطیف کے بیان کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ آصف زرداری کے بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ افسوس ہے کہ ابھی تک کسی مسلم لیگی لیڈر کا جاوید لطیف کے بیان کے حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔

قارئین سے التماس ہے کہ اپنی رائے کے اظہار کے لیے (03004741474) کے واٹس ایپ، سگنل اور ٹیلیگرام پر دے سکتے ہیں۔


ای پیپر