Amira Ehsan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
14 مارچ 2021 (12:25) 2021-03-14

کورونا کی تیسری لہر کا اب ہمیں سامنا ہے۔ زمینی حقائق یہی ہیں کہ سندھ، پنجاب اور ادھر اسلام آباد، راولپنڈی میں بھی ہسپتال ایک مرتبہ پھر مریضوں سے بھرگئے ہیں۔ پی ایس ایل جتنی دھوم دھام سے شروع کیا گیا تھا، اتنا ہی اچانک لپیٹ دیا گیا۔ ’بائیوببل‘ کے عنوان سے غیرمعمولی احتیاطی تدابیر کا اہتمام کیا گیا مگر وہ ببل (بلبلہ) ہی ٹھہرا اور کورونا کے ہاتھوں لخت بھاری مالی نقصان، لاکھوں شائقین کی مایوسی میں ڈوبا پی ایس ایل جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ 3 دن کے اندر نام نہاد فول پروف احتیاطی اقدامات کے باوجود 9 کھلاڑی اور عملہ، وائرس میں پکڑے گئے۔ پاکستان کیا اتنی بڑی عیاشی کا متحمل ہوسکتا تھا؟ وقت اور قوتوں کا ایسا بھاری نقصان۔ تعلیمی سال کا کورونا کے ہاتھوں زیاں ہونے کے بعد نوجوانوں کو ان تماشوں میں الجھاکر ہم کون سی قومی ترقی کا سامان کررہے تھے؟ اخلاقیات کا جنازہ اس کے افتتاحی پروگرام میں نکالا جاچکا ہے۔ 

کھیلیں عالمی صنعت، گلوبل بے حیا ثقافت وسیاحت، سود جوئے کا مرکب، سارے شرعی عیوب سے آراستہ پیراستہ اللہ کے غضب کو ہانکے پکارے بلانے کا سبب مزید ہے۔ گزشتہ ایک سال پورے عالم نے کورونا کے ہاتھوں جو کچھ تھپیڑے سہے، اس کے عذاب الٰہی ہونے پر کوئی شک وشبہ نہیں۔ تاہم من حیث القوم ہم نے اللہ سے منہ موڑنے میں جس بے خوف ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا وہ بھی دیدنی ہے۔ درمیان میں کچھ مہلت عمل ملنے کی دیر تھی کہ ہر سطح پر حد شکنی کے طومار باندھے۔ چہار جانب شادیوں بیاہوں کے دھوم دھڑکے، ناچ گانے، آتش بازیاں، بے حیائی کے مظاہرے۔ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب نمونۂ عمل بن گئی۔ اسلام آباد میں سیاحت کے نام پر تین روزہ نمائش میلہ، فیملی فیسٹول سجایا گیا، جو حسب توقع کھیل تماشوں، کھانے پینے کے ہمراہ راگ رنگ کے بھرپور اہتمام لیے ہوئے تھا۔ 

ایک طرف سیاسی جوڑتوڑ، خرید وفروخت، سرپھٹول جوتا بازی عروج پر ہے۔ دوسری طرف ہر بہانے سے ناچنے گانے شغل میلے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ معیشت بدترین حال میں ہے۔ مہنگائی سانس سلب کیے دے رہی ہے، مگر سرکاری اہتمام ہائے ہاؤہو دیکھ کر کہیں گمان نہیں ہوتا کہ ملک کسی نازک دور سے گزر رہا ہے یا قومی سطح پر ہمیں سنگین بحرانوں کا سامنا ہے۔ کورونا کی وبا نے پوری دنیا تلپٹ کرکے رکھ دی ہے۔ اب یکایک ہم پر ازسرنو اس کی یلغار ہے، جو محدود عافیت کا وقت ملا تھا اس میں تلافیِ مافات کی فرصت ہی نہ تھی، بجائے اس کے کہ جنگی بنیادوں پر تعلیمی کمی پوری ہوتی، سرکاری سطح پر پوری سنجیدگی سے منصوبہ بندی ہنگامی بنیادوں پر کی جاتی۔ امریکا یورپ میں کورونا کی نئی لہر کے پیش نظر یہاں طبی پلاننگ کی فکر ہوتی، پوری قوم کو میلوں ٹھیلوں کی نذر کیے رکھا۔ 

لگتا ہی نہیں کہ یہ قوم حامل قرآن ہے۔ وحی الٰہی اس کے علمی ورثے کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ ’اگر بستیوں کے یہ لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ مگر انہوںنے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑلیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے بے خوف وہی قوم ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو۔‘ (الاعراف۔ 96-99)

جو کسر رہ گئی تھی وہ 8 مارچ کا عالمی فتور پاکستان میں شہر شہر برپا تھا۔ بے فکر خوش حال، خوش باش این جی او زدہ مستغربین، مغربی عورت سے یک جہتی کو سڑکیں ناپ رہی تھیں۔ بیکار مباش کچھ کیا کر، سب کچھ ادھیڑ کر رکھ دیا کر، کے تحت قوم کا اخلاقی فیبرک (لباس) تارتار کرنے کو حیاباختہ ْحلیو ں اور نعروں سے ہنگامہ آرا  رہیں۔ سارا طوفان پدرسری نظام ختم کرکے خودسری نظام قائم کرنے کو کھڑا تھا۔ کسی باپ بھائی کی کیا مجال کہ وہ سردھرا بن کر آمد ورفت میں بہن، بیٹی کو محرم سیکورٹی فراہم کرے! ہاتھوں میں بینر کہہ رہا تھا: یہ میں ہوں، یہ مرا جسم ہے اور یہ میری مرضی ہے اور موصوفہ کا حال حلیہ ہانکے پکارے یہی صدا لگا رہا تھا۔ ٹھمکے لگاتی، لٹکتی مٹکتی، عورت کے وقار کی دھجیاں بکھیرتی، شہر شہر سڑکوں کی خاک پھانک رہی تھیں۔

تین صدیوں زن سے نازن ہوتی، نسوانیت سے نجات پاکر جو مخبوط الحواس عورت آزادی کا سفر طے کرتی مغرب سے برآمد ہوئی ہے، یہ اسی کا چربہ ہے۔ آزادی کے اس وحشت زدہ سفر میں عورت نے عزت ووقار کھویا عفت وعصمت کھوئی، گھر، خاندان، پاکیزہ رشتوں کی محبت کھوئی۔ باکردار نسلیں پروان چڑھانے کی جو ذمہ داری اس کار گہ ِ عالم میں اسے سونپی گئی تھی، یہ اس مقدس اور صبر آزما خونِ جگر طلب فرض سے فرار کی راہ تھی۔ نفسانیت اور حرص وہوس کی دوڑ میں مامتا کا پاکیزہ عمیق جذبہ کھویا گیا۔ دنیا پر ٹرمپ نیتن یاہو اور مودی جیسے درندے اگر مسلط ہوئے تو اس عورت کے فکری انتشار اور بے راہ روی کے شجر خبیثہ کے زہریلے پھل ہیں جو مقدر ٹھہرے۔ بے لباس، بداطوار، حیاباختہ عورتوں کے طوفانِ بدتمیزی کو آزادی مساوات اور خوداختیاری کا نام دیا گیا ہے۔ کہتی ہیں   ؎

جسم شعلہ  بنا  روح  باغی ہوئی

اب مروت نہیں اپنا حق چاہیے

گھروں کے سکون وقرار ووقار ان شعلہ بدن، باغی روحوں نے چھین لیے۔ درست کہتی ہیں ناچ کر کہ یہ مروت کے لائق نہیں رہیں۔ چودہ صدیوں کی اخلاقی میراث کے پرزے اڑاتی اس چند سالہ کہانی کا حرف حرف بغاوت پر مبنی نئی نسل سے سبھی اقدار چھیننے کے نعروں سے مسلح ہے۔ پوری a,b,c جاری کی ہے۔ نمونہ دیکھ لیجیے۔ اس میں ’a‘ سے آزاد ہے تو Q سے قندیل بلوچ۔ وہ لڑکی جو آزادی کے نام پر حیا کے پرخچے اڑاتی سوشل میڈیا پر سیاہیاں بکھیرتی قتل ہوگئی۔ اسے نسوانی بہادری کا نمونہ بناکر آج کی عورت کے لیے رول ماڈل بنایا ہے۔ ’L‘ سے سکوٹر پر ٹانگیں پھیلاکر مردانہ وار سڑکیں ناپنے کو دوپٹے کی قید سے آزاد لڑکی دکھاکر لکھا ہے۔ ’لو بیٹھ گئی صحیح سے!‘ یہ معراج ہے آزادی وترقی کی جس تک پہنچنا ان کا خواب ہے! یہ بھی غم ہے کہ گھر سے دھنیا پودینہ، دہی لینے، تنور کی لائن میں لگنے لڑکا کیوں جاتا ہے! ان کا اعتراض ہے کہ ایسا صرف ہراسانی کے خوف سے ہے! غرض بہکے بھٹکے دماغوں کی ایسی اختراعات ہیں کہ حیران ہوں، دل کو پیٹوں کہ روؤں جگر کو میں! تھرک تھرک کر گا بجا رہی تھیں۔ ’یہ زمین ہم سب کی ہے مردوں کی جاگیر نہیں۔ یہ سڑکیں/ یہ شہر ہم سب کے ہیں مردوں کی جاگیر نہیں‘۔ کچھ سڑکیں (جو ان کی فکر نارسا کی طرح ادھڑی ہوئی ہوں) ان کے نام کر دیجیے شاید کچھ تشفی ہوجائے...!!

مغرب میں اس دیوانگی کی خبر لینے کو خود آزادیٔ نسواں کی ہی ایک پرانی بھاری بھرکم دانشور، پروفیسر خاتون ان کی زبردست نقاد بن کر انہیں آئینہ دکھاتی ہے۔ اب اسے (ان کے ہاتھوں) مرد مظلوم نظر آنے لگ گیا ہے۔ کمیلا اینا پا لیا کہتی ہے۔ ’عورت غالب صنف ہے۔ مرد کو بہت کچھ ثابت کرکے دکھانا ہوتا ہے کہ وہ عورت کی توجہ کے لائق ہے۔‘ اس ایک جملے میں جہان معنی پنہاں ہے۔ مغربی مرد تو خود بگڑا تگڑا بے راہ رو ہے۔ مسلم (نارمل) مرد پوری زندگی عورت (بیوی) کی پاکیزہ رفاقت نبھانے کے لیے گھر بچوں کے لیے کولہو کے بیل کی طرح جتا بال سفید کرکے 60 سال کی عمر میں گھر لوٹتا ہے تھکا ماندہ! انہیں مکھی کی طرح معاشرے کی بہترین مثالیں چھوڑ کر فلموں ڈراموں سکرینوں کے ہاتھوں بگڑے مردوں کی گئی گزری کہانیاں ہی راس آتی ہیں۔ انہی کولئے واویلا کناں رہتی ہیں۔ کمیلا زنا بالجبر (ریپ) پر بھی عورت کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے۔ ’میں مردوں کو ریپ کے لیے مورد الزام ٹھہرانے سے بیزار ہوں، جیسے اس میں عورت کا کوئی کردار ہی نہیں۔ ‘ اس میں وہ پُرکشش بن کر مرد کے گرد منڈلانے اور اسے سگنل بھیجنے پر عورت کو مطعون کرتی ہے۔ غرض یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں! علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی! مگر یہ علاج کروانے پر راضی تو ہوں! 

دستِ ہر نااہل بیمارت کند

سوئے مادر آ کہ تیمارت کند

مغرب کی تشنہ بہکی بھٹکی رلی ہوئی عورت اسلام کے دامن رحمت میں آکر شفایاب ہو رہی ہے۔ ہماری اردو سمجھ نہیں آتی تو طالبان کے ہاں سے آب حیات پانے والی ایوان ریڈلے ہی سے انگریزی میں سمجھ لو۔ مغرب کے ہوس پرستوں کے ہاتھوں برباد ہوئی عورت کے لیے ایوان ہی کی طرح قرآن میں شفا ہے۔ ’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا، حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔‘ (الملک۔ 14) خالق سے بڑھ کر ہماری نفسیات، ضروریات کون جان سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہم سے محبت کرنے والا خیرخواہ کون ہوگا؟ ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے بس!


ای پیپر