Umer Khan Jozi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
14 مارچ 2021 (12:15) 2021-03-14

جولوگ کل تک عمران خان کے وزیراعظم بننے کیلئے رب کے حضورگڑگڑاکر دعائیں مانگتے تھے آج وہی لوگ عمرانی حکومت سے نجات کیلئے ہاتھ اٹھارہے ہیں۔نئی نسل کوشائدکہ یہ کچھ نیالگے لیکن اس ملک کی سیاست ،حکومت اورعوام کی عادت وروایت سے واقف لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ملک میں آنے والے کی خوشی پر جس طرح مٹھائیاں تقسیم کرکے بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں اسی طرح پھرجانے والے کی خوشی میں بھی نہ صرف شادیانے بجائے جاتے ہیں بلکہ دل اورگریبان کھول کر لڈو بھی تقسیم کئے جاتے ہیں۔ کفن چورسے کفن چورکاباپ توبہترتھاوہ کم ازکم مردوں کی بے حرمتی اوربے عزتی تونہیں کرتا تھا والی بات ہے۔ ہرنئے آنے والے سے پھرپہلے والا ہمیں اچھالگتاہے لیکن وقت پھر گزر چکا ہوتا ہے۔ آج بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کفن چوروں سے وہ چور نوازشریف اور ڈاکو زرداری بہتر بہت بہتر تھے جو چوری چکاریاں توکرتے تھے لیکن کم ازکم ان غریبوں کی غربت اوربیروزگاری کامذاق تونہیں اڑاتے تھے۔موجودہ حکمرانوںنے توکفن چورکے بیٹے کی طرح ہرحدکراس اورپاس کردی ہے۔ان سے غریب محفوظ ہیں اورنہ ہی امیر۔ اتنے برے حالات تونوازشریف اورآصف علی زرداری کے دورمیں بھی نہیں تھے۔کہاجارہاہے کہ نوازشریف اورآصف علی زرداری نے ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ یقینا لوٹا ہو گا کیونکہ اس ملک میں کوئی انسانی فرشتہ بھی لوٹ مارکے لئے ہی سیاست میں آتاہے۔اللہ کی رضاء اورخوشنودی کے لئے تواس ملک میں کوئی سانپ بھی نہیں مارتا۔ پھر جو انتخابی مہم اور تشہیر پر لاکھوں اور کروڑوں روپے لگائیں وہ پھربھلاملک اورقوم کو کیسے نہیں لوٹیں گے۔۔؟ باقی ممالک کا تو نہیں پتہ۔ لیکن ہمارے اس ملک میں سیاست کاتوبنیادی مقصدہی لوٹ مارہے۔ یہاں کوئی شریف ہو یا زرداری، کوئی اناڑی ہو یا 

کھلاڑی، نمازی ہویاکوئی حاجی، بدمعاش ہو یا کوئی بدنام۔ سب سیاست میں آتے ہی لوٹ مارکے لئے ہیں۔جن کولوٹ مارکی عادت نہ ہویاجوملک وقوم کولوٹنے کے گرنہیں جانتے ہوں وہ تو ایک دوالیکشن لڑنے کے بعدخود آرام اورچپکے سے سائیڈپرہوجاتے ہیں۔ ہمارے علاقے جوزبٹگرام میں ایک صاحب تھے۔اب پتہ نہیں کہ کہاں ہیں۔ انہیں کوئی اسی طرح گھسیٹ کرسیاست میں لائے۔ ممبری کاشوق توہرکسی کو ہوتاہے پھراگرکسی کی تھوڑی سی ذہن سازی کی جائے تویہ شوق ویسے ہی پروان چڑھنے لگتا ہے۔اس صاحب کوبھی کسی نے دن کی روشنی میں کئی خواب اورسپنے دکھائے۔سوان خوابوں اورسپنوں کولیکروہ سیاست کے میدان میں کودے۔ سادگی،شرافت اورایمانداری کے سائے تلے ایک دوالیکشن لڑنے کے بعدجب آنکھیں کھلیں توپتہ چلاکہ سیاست عام شریفوں کاکام نہیں۔اس کے لئے تو رائیونڈ اور لاڑکانہ جیسی زرخیزمٹی سے کوئی خاص شریف اورزرداری جنم لیتے ہیں۔ پھر خودآرام سے سائیڈپرہوگئے۔سالوں بعد پھر جب میری ان سے ملاقات ہوئی تومیں نے گمنامی کی وجہ پوچھی ۔کہنے لگے جوزوی صاحب ۔یہ سیاست ہمارے جیسے شریفوں کاکھیل نہیں۔میں نے صرف ایک دوالیکشن لڑے مگر گھرمیں کام کی کوئی چیزبچی نہیں۔ مزیدایک دوالیکشن اگر لڑتا تو شائد سڑک پر آ جاتا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ برسوں سے الیکشن لڑنے اورسیاست سیاست کھیلنے والے شریفوں اورزرداریوں نے اس ملک کولوٹاہوگاواقعی جی بھرکرلوٹاہوگا۔ہم ہرگزیہ نہیں کہتے کہ سابق حکمرانوں نے اس ملک اورقوم کونہیں لوٹا۔لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ آج کے ان ایمانداروں نے محض دوڈھائی سالوں کے دوران جس طرح اس ملک اورقوم کولوٹااتناتوان خاندانی چوروں اورڈاکوئوں نے بیس اورتیس سالوں میں بھی نہیں لوٹاہوگا۔ادویات کی قیمتوں میں ڈبل وٹرپل اضافہ اورباقی مہنگائی توالگ۔ صرف بجلی اورگیس بلوں کی مدمیں ان دوسالوں کے دوران جس طرح عوام کولوٹاگیاتاریخ میں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔پہلے والے حکمران غریبوں کا صرف پسینہ نچوڑتے تھے ان ایمانداروں نے توپسینے کے ساتھ غریبوں اور امیروں کاخون بھی نچوڑدیاہے لیکن اس کے باوجودملک کے حالات بدسے بدترہوگئے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ پیسہ آخرجاتاکہاں ہے۔۔؟ ترقیاتی کام اس حکومت میں کوئی ہوئے نہیں۔نہ کوئی موٹروے بنی نہ کوئی سکول،کالج اور یونیورسٹی۔ بلکہ پہلے سے منظورشدہ کئی منصوبے بھی اس حکومت نے ختم کرادیئے ہیں۔اس کے باوجودپوچھاجائے توجواب ملتاہے کہ خزانہ خالی ہے۔ملک میں اگرچوروں اورڈاکوئوں نہیں ایمانداروں کی حکمرانی ہے توسوال پھریہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیسہ آخرجاتاکہاں ہے۔۔؟ اور قرضوں پر قرضے لینے کے بعدیہ خزانہ کیسے خالی ہے۔۔؟ چوروں اورڈاکوئوں کی لوٹ ماراورچوری چکاری کے قصے اورکہانیاں تو بہت سنی تھیںمگراب کی بارایمانداروں کی چوری اورچکاریوںکے کارنامے بھی دیکھ لئے۔یہ حکمران واقعی ہم جیسوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔ پہلے والے ہوں یابعدوالے۔حقیقت میں یہ سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔نہ پہلے والے اچھے ہوتے ہیں اورنہ ہی بعدوالے نیک۔یہ سب ایک ہی لوہے کے بنے ہوئے ہیں ۔ہماری دعائوں ،التجائوں اورامنگوں سے آج تک ان میں کوئی لوہانہ موم ہوااورنہ ہی آئندہ کبھی ہو گا۔ ان حکمرانوں کے لئے توہم نے بہت دعائیں مانگیں۔ان کی بارات آنے پر مٹھائیاں بھی ہم نے بہت تقسیم کیں۔لیکن حالات ہمارے پھربھی نہیں بدلے۔اب اگرہم نے خود کو نہیں بدلا توپھرنواز،زرداری اورعمران کی صورت میں یہ عذاب ہم پراسی طرح آتے رہیں گے۔ آخر کب تک ہم ان عذابوں پرمٹھائیاں تقسیم اورجشن مناتے رہیں گے۔۔؟


ای پیپر