Sri Lanka to ban burqa, shut more than 1,000 Islamic schools
کیپشن:   فائل فوٹو
14 مارچ 2021 (10:59) 2021-03-14

کولمبو: سری لنکن حکومت نے مسلمان میتوں کو جلانے کے بعد ایک اور انتہائی متنازع اقدام اٹھاتے ہوئے ملک میں تمام اسلامی سکولوں بند اور خواتین پر برقع پہننے کی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بیان ایک سری لنکن وزیر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اب ملک میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو کوئی چاہے سکول کھول کر اس میں اپنی پسند کی تعلیم دینا شروع کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ برقع سے دہشتگردی کے واقعات ہونے کا خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں اگرچہ مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور وہ اقلیت میں ہیں تاہم قلیل تعداد کے باوجود وہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار اسلامی مدرسے اور سکول بھی قائم ہیں۔

گزشتہ روز سری لنکن وزیر سارتھ ویراسکیرا نے اعلان ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برقع پر پابندی کیلئے قانونی مسودے پر دستخط کئے جا چکے ہیں، اب اسے منظوری کیلئے کابینہ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

سری لنکن وزیر سارتھ ویراسکیرا کا کہنا تھا کہ خواتین کا برقع پہننا مذہبی انتہا پسندی ہے، ہمارے معاشرے میں اس چیز کا ماضی میں کوئی رجحان نہیں تھا لیکن حالیہ سالوں میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اس لئے اس پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2019ء میں سری لنکا میں گرجا گھروں پر ہونے والے خود کش حملوں کے بعد خواتین کے برقع پہننے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی تھی جسے اب قانونی شکل دے کر مستقل کیا جا رہا ہے۔

سارتھ ویراسکیرا نے ملک میں اسلامی تعلیم دینے والے مدرسوں اور سکولوں پر پابندی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے ملکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو کوئی چاہے، بچوں کو اپنی مرضی کی تعلیم دینا شروع کر دے۔


ای پیپر