عالمگیریت کورونا کی زد میں
14 مارچ 2020 2020-03-14

پوری دنیا آج کوروناوائرس کے خوف کی گرفت میں ہے۔ یوں کہئے کہ (Panic Attack)گھبراہٹ اضطرابی وحشت کے دورے پڑرہے ہیں۔ جرمن چانسلر مرکل یہاں تک کہہ گزریں کہ دوتہائی جرمن اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ ہاتھ مت ملائو!(خیر سگالی اظہار کیلئے) آنکھوں میں ذرا زیادہ دیر جھانک لو!‘(دونوں طرف خوفزدہ آنکھیں بہت مثبت یا صحت مندانہ پیغام تونہ دیں گی)تاہم تسلی دی کہ بجٹ کی فکر کئے بغیر ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے عا لمگیرو باقرار دے دیا ہے۔یورپ اور امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

چنانچہ اثرات ہر طرف نمایاں ہیں۔ کولمبیا، ہاروڈ جیسی یونیورسٹیاں بند کرکے آن لائن کردی گئی ہیں۔تفریحات، سیاحت، ضیافتیں، دل لگیاں سبھی اس دل کو لگی کے ہاتھوں ٹھنڈی پڑ چکی ہیں۔ عالمی اقتصادیات لرزہ براندام ہیں۔ 10کھرب ڈالر کا ٹیکا لگا ہے ایک اندازے کے مطابق! جس دنیا میں عورت کا چہرہ ڈھانپنا قانوناً جرم تھا۔ جرمانہ 300 یورو تھا نقاب اوڑھنے پر۔ اب وہاں مرد بھی نقاب (ماسک) پہنے پھرنے پر مجبور ہے۔ جہاں دنیا کے اخباروں میں مسلمان عورت کی یورپی ساحل پر تصویر شائع ہوئی تھی کہ ساحل سمندر پر سرتاپالباس پہننا جرم تھا۔ پولیس اس کے سر پر کھڑی کپڑے کم کرنے پر بضد ہے، آج سرتاپا خلائی مخلوق بنے اوڑھے ڈھانپے لپیٹے پھرنے پر مجبور ہیں! کہاں مروہ شربینی کو بھری عدالت میں حجاب پر قتل کر دیا گیاتھا۔ کورونا کے جبرنے انہیں بالباس کردیا ۔عورت کو مغرب نے نوکریوں کے چولہے میں جھونک کر گھروں کے چولہے بند کروا دیئے۔ ملٹی نیشنل فاسٹ فوڈ پر قوموں کو لگا دیا۔ کورونا کی احتیاط میں فاسٹ فوڈ بھی اب چھوڑنی پڑ گئی!ٹرمپ نے یورپ پر30روزہ سفری پابندی عائد کر دی ۔ دنیا کی تجارت اور معیشت کو ایک اور دھچکا لگا! لاس اینجلس کی سب بڑی بندرگاہ پر آمدورفت 25فی صد گرگئی۔ بھاری نقصان عالمی فضائی سروس کو پہنچا۔ شہروں گھروںمیں محصور ہواجا رہا ہے۔سرمایہ دارانہ عالمی نظام کا کوئی جزء،شعبہ ایسا نہیں جسے نقصان نہ پہنچاہو۔ عالمگیریت کا چرچا (مواصلاتی انقلاب کے ذریعے ) جو دنیا کو اپنی گرفت میں کئی دیائیوںسے لئے ہوئے تھا، کورونا کے ایک ہلے میںزیر ہوگیا۔ دنیا بھر میں عالمی استحصالی طاقتوں نے کمزور قوموں کو معاشی، سیاسی،معاشرتی،تعلیمی، اخلاقی اعتبار سے اپنے شکنجے میں لے کر جس طرح کھوکھلاکیا۔ انسانیت کو جنگوں کے چرکے لگا کر خون کی ندیاں بہائیں۔ اخلاقیات، اقدار کی ہر سطح پر دھجیاں اڑائیں۔ساری توپوںکے دہانے عالمی سطح پر اسلام کی طرف پھیر دیئے۔ اللہ کی کبریائی، رسالت کے ازلی سلسلے اور ختم نبوت کا تمسخر اڑایا۔ آج کو رونا وائرس کو آیات قرآنی کے آئینے میں دیکھئے۔ قرآن کے کلام اللہ ہونے پر دلیل بناتے ہوئے قسم کھائی گئی ہے:پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے کہ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے‘۔ (الحاقۃ۔43) آنکھ سے نہ دکھائی دینے والے کوورونا کی قسم! جس نے تمہیں بھی متکبر نمرود کی طرح مبہوت کر دیا۔ (براہیمی ؑ دلیل سے بھی اور موت بن کر نھنبھناتے مچھر سے بھی کہ یہ کائنات بے خدا نہیں) اللہ اس کا خالق مالک رب ہے! اس نے یہ لا منتہا کائنات عبث پیدا نہیں کی۔ تم آپے سے باہر ہوئے پھر رہے تھے۔ انسانیت پر تم نے ہیرو شیما ناگا ساکی سے لے کر آج تک گھن گرج سے موت برسائی تھی۔ ’کیا اس

نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟… کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا؟ ‘ (البلد۔ 5,7) تمہاری شتر بے مہاریوں کو، لگام دینے والا کیا کوئی نہیں؟ اللہ کہتا ہے : ’اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی‘… (یٰسین۔28) اپنی بے پناہ طاقت کے گھمنڈ میں کمزور انسانوں پر قیامت ڈھاتی سپر پاورز، ان دیکھے عذاب کے بھنور میں کلبلا رہی ہیں۔ ہائی ٹیک دنیا جس دشمن کا مقابلہ کر رہی ہے، یو این نے عالمی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے، وہ دشمن نظر تک نہیں آتا۔ کورونا زمین پر سب سے چھوٹی زندہ چیز بیکٹیریا سے 500 گنا چھوٹی ہے۔ ڈینگی کے مچھر کی تو پھر اس کے مقابلے میں کوئی ’پرسنلیٹی‘ (شخصیت!) تھی، آواز دے کر حملہ کرتا تھا۔ پرے باندھ کر اڑتا پھرتا تھا، مگر کورونا، تکبر کے منہ پر ان دیکھا جھانپڑ ہے زیر و زبر کر دینے والا! اسی دوران ایک تصویر ایران، افغانستان، پاکستان بھارت کے مشترکہ دشمن کی بھی تھی۔ پیلے رنگ کی دو انگلیوں کی گرفت میں صحرائی ٹڈی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک ہاتھ اپنے کان پر رکھے، سر پر دو انٹینے کھڑے، ایک ہاتھ (برائے مصافحہ) پھیلائے دیکھی جا سکتی ہے۔ خبر اس منحنی سی ٹڈی کی یہ تھی کہ جنوب مغربی ایشیائی ممالک کے ماہرین ٹڈی اہلکار، FAO کے ہیڈ کوارٹر میں سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ ہائی لیول تکنیکی کمیٹی بنایا جانا زیر غور ہے، روم میں ویڈیو کانفرنس جاری ہے زراعت کو در پیش اس خطرے سے۔ (صرف بلوچستان میں 4.8کروڑ ایکڑ اس کے حملے کی زد میں ہے) ٹڈی دل کے مقابل دو ایٹمی دشمن ملک یک جا ہیں! کورونا ، ڈینگی، ٹڈی سے نمٹتے ذرا یہ بھی پڑھ دیکھئے: ہاں اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے۔ (البقرۃ: 26) برسرزمین کفر کی سونڈ کو داغ لگانے والی ایک طرف اللہ کی یہ مخلوق ہے حقیر، ننھی سی۔ دوسری جانب اعلیٰ و اشرف المخلوقات میں بہترین خلائق صحابہ کرامؓ کے راستے پر چلنے والے طالبان کی محیر العقول فتح ہے۔ امریکہ نے اپنے 49 اتحادی ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے شکست تسلیم کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں!

اشرف غنی نے قیدیوں کی رہائی پر اٹکنا، اکڑنا چاہا مگر بالآخر جھکنا پڑ رہا ہے۔ ادھر 17 صوبوںمیں سینکڑوں افغان فوجی اہلکاروں نے اسلحہ پھینک دیا، جوق در جوق جا بجا تائب ہو کر طالبان سے آمل رہے ہیں۔ اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے موقع پر نا معلوم حملہ آوروں نے 10 راکٹوں کی سلامی دے ڈالی۔ دو راکٹ قریب آ ن گرے۔ اشرف غنی اور زلمے خلیل زاد بال بال بچے۔ موسیقی کی جگہ پولیس اور ایمبولینسوں کے سائرن بج رہے تھے۔ کابل میں سائرن قومی ترانے کی جگہ لے چکے ہیں۔ اب کہانی مکمل ہو رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ اشرف غنی (جو پرانا روسی گماشتہ، خلقی، کمیونزم کا مبلغ تھا) اپنی عیسائی لبنانی بیوی کے ہمراہ امریکہ/ یورپ لوٹ جائے۔ زلمے خلیل زاد بھی پرچمی کمیونسٹ تھا، جسے بمع یہودی بیوی امریکہ راس آ گیا۔ خدمات کی تکمیل پر امریکہ سے خراج پائیں گے۔ کابل سے این جی اوز والیوں کا بھی انخلاء ہو گا۔ شاید وقتی پڑاؤ ہماری مارچینوں کے پاس ہو جو 8 مارچ کا پسینہ پونچھ رہی ہیں۔ اس دفعہ ان کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے۔ باوجودیکہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی چولیں فلموں، ڈراموں، شوبز، ماڈلنگ کی صنعت نے ہلا ڈالی ہیں۔ لیکن یہ عورتیں اس مرتبہ گراوٹ کی ساری حدیں پار کر گئیں جس پر سبھی بھنا اٹھے! حیا باختگی کا ہاتھ گھر، خاندان اجاڑنے کو پدر سری نظام ختم کرنے کے واویلے میں ہر مرد کا گریبان چاک کرنے کے در پے ہوا۔ پاکستان میں معاشرتی سطح پر انتشار اور باہم جو تم پیزار کی فضا بنانے کی یہ سازش ناکام ہوئی۔ مٹھی بھر طلاق شدہ چنڈال چوکڑی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے جس مشن پر مامور ہے وہ تمامتر بگاڑ کے باوجود ان شاء اللہ یہاں راہ نہ پا سکے گی۔ ’’پدر سری نظام‘‘ کے نام پر سعودی عرب و دیگر مسلم ممالک میں بھی اس طبقے نے فتور مچایا۔ مغرب کی بے نام و نشان بن باپ کی مجہول النسب عورتوں کی طرح پاکستان میں یہ نعرہ اٹھانے کی جرأت انہوں نے کی؟ اللہ بچیوں کے سروں پر غیرت مند باپ بھائیوں کو سلامت رکھے۔ پاکستانی عورت شوہر بچوں کی محبت میں گندھی کھانے پکاتی، گرم کر کے دیتی ، موزے ڈھونڈتی سکینت، مؤدت بھرے گھروں میں شاد آباد رہے۔ سڑکیں ناپنا، اس پر بھنگڑے ڈالنا، گلا پھاڑ نعرے لگانا، خود کو تماشا بنانا اس طبقے کو مبارک ہو۔ جنہیں دیکھ کر ان کے ہم نوا مرد بھی اس مرتبہ کہہ اٹھے۔ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

عورت کی عظمت ماں ہونے سے عبارت ہے۔ یہ رتبۂ بلند اماں حوا، تمام انسانیت کی ماں سے شروع ہوا۔ قرآن میں جا بجا حوالہ بنا۔ تقدس ، احترام اور وقار کی علامت بن کر !

زمانہ خلق ہے میں ذریعۂ تخلیق ٹھہری ہوں

مجھے اس منصب تخلیق پر مامور رہنے دو

نہیں محتاج میری ذات مصنوعی سہاروں کی

حیا کی پاس داری سے مثال حور رہنے دو

ردا ہے یہ تحفظ کی مجھے مستور رہنے دو!


ای پیپر