کرونا باعث رحمت بھی ہے
14 مارچ 2020 2020-03-14

انسانی فطرت ہے کہ جو چیز اسے بار بار دکھائی جائے اور بتائی جائے وہ اسے اپنے ذہن پر سوار کر لیتا ہے اور تب تک اس کی جان نہیں چھوٹتی جب تک اسے مختلف ماحول فراہم نہیں کر دیا جاتا۔ اٹلی میں ایک ساٹھ سالہ شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تحقیق سے علم ہوا کہ وہ شخص تقریباً دو ماہ سے کرونا کا شکار تھا۔ لیکن وہ اسے معمولی نزلہ زکام سمجھتا رہا۔ وہ شخص اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرتا تھا۔ اس لیے اسے علم نہیں تھا کہ دنیا میں کرونا وائرس بھی موجود ہے اور وہ اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لاعلمی نے اسے اعصابی طور پر مضبوط رکھا اور بغیر کسی سپیشل ٹریٹمنٹ کے وہ کرونا وائرس سے صحتیاب ہو گیا۔ دیگر مریضوں پر بھی جب ٹیسٹ کیے گئے تو علم ہوا کہ لاعلم لوگ کرونا سے جلد صحتیاب ہو رہے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ دراصل انسانی دماغ کا عمل دخل ہے۔ انسان کی سوچ اس کے نوے فیصد مسائل کی وجہ ہوتی ہے۔ آپ سوچ بدلیں مسائل بھی حل ہونے لگ جائیں گے۔

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بڑے بزرگ ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ وہ بلڈ ٹیسٹ نہیں کروانا چاہتے۔ ان کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جائے بغیر طبیعت سنبھل جائے۔ اس سوچ کے پیچھے بھی لاعلمی والی فلاسفی کار فرما ہوتی ہے۔ وہ بیماری سے لاعلم رہنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس دن انھیں بیماری کا علم ہو گیا اس دن وہ نفسیاتی طور پر بھی بیمار ہو جائیں گے۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں سوچتے رہیں گے۔ وہ وہم کا شکار ہو جائیں گے۔ اور وہم کا علاج ناممکن ہے۔ کرونا کے بارے میں سچ بھی یہی ہے کہ اس کے مسائل جسمانی سے زیادہ نفسیاتی ہو گئے ہیں۔ ایک خوف کا عالم ہے۔ ہر وقت میڈیا پر کرونا وائرس کی تشہیر سے انسان کا دماغ کئی طرح کے وسوسوں کا شکار ہو گیا ہے۔ پورا میڈیا شور مچا رہا ہے کہ کرونا نے یہ کر دیا، وہ کر دیا، یہ نقصان وہ تباہی۔ لیکن کوئی اس بات پر زور نہیں دے رہا ہے کہ کرونا کا شکار ہونے والے اٹھانوے فیصد مریض صحت یاب ہو رہے ہیں۔ فطری طور پر انسان کا دماغ منفی پروپیگنڈے کی

طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔ میڈیا اسی پروپیگنڈے کی ذریعے دماغوں کو مائوف کر رہا ہے۔

میڈیا بتا رہا ہے کہ پوری دنیا میں ہیجان کی کیفیت برپا ہے۔ ایک سو انتیس ممالک کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں اور باقی ابھی لائن میں ہیں۔ کاروباری معاملات کا یہ حال ہے کہ امریکہ سمیت کئی ممالک کی سٹاک ایکسچینج تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگئی ہے۔امپورٹ، ایکسپورٹ بند ہے۔ کئی ماہ کا راشن گھروں میں جمع کر لیا گیا ہے۔ ہاتھ ملانے، گلے ملنے، سکول جانے سمیت تمام پبلک مقامات پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ترکی کے صدر نے ایک ملاقات کے دوران میزبان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کینیڈا کے وزیراعظم کی اہلیہ میں بھی کرونا کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ وائرس برطانیہ کے حالیہ دورے سے ان میں منتقل ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کچھ بیرونی وفود اور امریکی قانونی مشیروں میں کرونا وائرس پازیٹو آیا ہے۔ ان افراد کی چند دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایران، اٹلی کی صورتحال کا تو نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ وزیر، مشیر، صدور اور جزل تک اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس وائرس نے محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ نہ کوئی بندہ رہا اور نہ بندہ نواز۔ اس طرح کی خبریں آدھے خالی گلاس کی مانند ہیں۔ جبکہ اس بات پر زور نہیں دیا جارہا کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ چین نے اسی فیصد تک کرونا وائرس پر قابو پا لیا ہے۔ بارہ مارچ کو پورے چین میں کرونا سے صرف سات اموات ہوئی ہیں۔ یہ خبر حوصلہ افزا بھی ہے اور تسلی بخش بھی ہے۔ خبر یہ دینی چاہیے کہ چونکہ چین نے دوائی ایجاد کیے بغیر چند دنوں کی سٹریٹیجی سے کرونا پر قابو پا لیا ہے۔ اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نارمل احتیاط کریں اور معمول کی زندگی جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ گرم ممالک میں کرونا کے پھیلنے کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یعنی کہ ایک دو ماہ بعد گرمی کی وجہ سے کرونا اپنی موت خود مر سکتا ہے۔ خوف و ہراس مت پھیلائیں۔ کیونکہ انسان کے غیر ضروری مسائل کی سب سے بڑی وجہ خوف ہی ہے۔

خبر اس طرح بھی دی جا سکتی ہے کہ کرونا کے باعث تیل کے کم استعمال سے ایک مخصوص طبقے اور آئل کمپنیوں کو نقصان ضرور ہوا لیکن دنیا کے نوے فیصد کاروباروں کے لیے بہتر خبر ہے۔ عام آدمی پر اس کے مثبت اثرات آئیں گے۔ دنیا میں مہنگائی کم ہو گی۔ دنیا میں اس وقت نہ صرف تیل بلکہ کوئلہ، کاٹن، چمڑا سمیت ہزاروں اشیا ایسی ہیں جن کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ جو ممالک صرف درآمدات پر انحصار کر رہے تھے انھیں مقامی سطح پر پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے مینوفیکچرنگ کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ جو بہترین پھل اور سبزیاں امیر ممالک کو بھیج کر مقامی لوگوں کو اس سے محروم رکھا جاتا تھا اب وہ کم ریٹ پر بآسانی خریدی جا سکیں گی۔ جن ممالک کے کرنٹ اکاونٹ خسارے پورے نہیں ہو رہے تھے وہ اب سرپلس میں جا سکتے ہیں۔ جہاں شرح سود ڈبل فیگر میں تھی وہ سنگل ڈیجٹ میں آ سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کاروباری ایکٹیویٹی بڑھ سکتی ہے۔ بہت سے شعبوں میں خودمختار ہو سکتے ہیں۔ نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔طاقت کے مراکز بدل سکتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ کس طرح چند ممالک اپنی اجارہ داری سے تیل کے نام پر دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔

کرونا کو اگر مذہبی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس وائرس نے دنیا کو اپنی موت یاد کروا دی ہے۔ ہر ذی شعور شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ میں نے زندگی کا جو سامان تیار کر رکھا ہے وہ تو ایک ہی لمحے میں مجھ سے چھن سکتا ہے۔ انسان کی یہ بے بسی ایک مرتبہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور کس وقت یہاں سے جانا پڑ جائے کوئی پتہ نہیں۔ گو کہ یہ حقیقت دنیا کے تمام انسانوں کو پہلے سے معلوم ہے۔ لیکن روزانہ کی بنیاد پر اور ایک ہی وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر اس کا احساس شاید پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ انیسویں صدی کے شروع میں انفلوئنزا اور بعدازاں دیگر وائرسز میں اموات کی شرح کرونا سے زیادہ تھی لیکن دنیا کے گلوبل ویلج نہ ہونے کے باعث عالمی سطح پر ان کا وہ خوف موجود نہیں تھا جو کرونا وائرس سے متعلق ہے۔


ای پیپر