پٹرول پر ٹیکس ڈکیتی ہے
14 مارچ 2020 2020-03-14

کرونا وائرس نے دنیا بھر کے سیاسی سماجی اور اقتصادی حلقوں میں تہلکہ مچا رکھا ہے پوری دنیا پر خوف کے سائے ہیں ایئر لائن کمپنیاں ہوٹل انڈسٹری اور سٹاک ایکسچینج فیل ہو رہے ہیں اور کاروبار پر مندی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ معیشت کا پہیہ سست ہونے کی وجہ سے توانائی کی کھپت میں کمی آنے سے عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں 30سالہ تاریخ کی کم ترین سطح پر گر جانے کی وجہ سے ایک بحران پیدا ہو گیا ہے جو دگرگوں حالات کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔

اس ہفتے دنیا کی پیٹرو ڈالر انڈسٹری میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہوا جب تیل برآمد کرنے والے دو اہم ممالک روس اور سعودی عرب کے مابین تیل کی عالمی قیمتوں میں گراوٹ کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے تجویز دی کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک باہمی رضا مندی سے تیل کی یومیہ پیداوار میں 15لاکھ بیرل کی کمی کر دیں تا کہ قیمتوں کو مزید گرنے سے روکا جا سکے کیونکہ یہ قیمتیں ڈیمانڈ سپلائی فارمولے کے تحت متعین ہوتی ہیں۔ ویانا میں ہونے والے اس اجلاس میں روس نے یہ تجویز مسترد کر دی جس کے بعد سعودی قیادت نے غصے میں آ کر فوری ردعمل کے طور پر تیل کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کر دیا جو پوری دنیا کے لیے ایک سرپرائز تھی یاد رہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ اس فہرست میں سعودی عرب دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکی تیل نکالنے پر اٹھنے والی پیداواری لاگت چونکہ بہت زیادہ ہے لہٰذا موجودہ صورت حال میں امریکہ اس گیم سے آؤٹ ہے کیونکہ پرڈکشن کاسٹ سے کم پر وہ عالمی مارکیٹ سے تیل خرید سکتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا تیل کا بڑا حصہ انہیں قومی ضروریات کے لیے مقامی طور پر درکار ہے اس لیے پٹرول کی ایکسپورٹ کی دوڑ میں امریکہ شامل نہیں ہے جس کے بعد سعودی اور روس بڑے پلیئر ہیں۔

سعودی عرب کو پٹرول پیدا کرنے والے ممالک میں اپنے حریفوں پر اس لیے بھی سبقت حاصل ہے کہ سعودی عرب کی پیداواری لاگت دنیا بھر میں سب سے کم ہے لہٰذا وہ کم ترین قیمت پر تیل بیچنے کی استطاعت رکھتا ہے مگر سعودی عرب کی کمزوری یہ ہے کہ اس نے گزشتہ نصف صدی میں ٹریلین ڈالر کمانے کے باوجود اپنی قومی معیشت کو توسیع نہیں دی کہ ان کا تیل پر انحصار کم ہو سکے۔ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کا ویژن 2030منصوبہ لانچ کیا گیا ہے مگر اس کی راہ میں بے پناہ چیلنجز حائل ہیں اور موجودہ حالات میں یہ منصوبہ خطرے میں پڑ گیا ہے دوسری طرف آئی ایم ایف کی رپورٹ یہ ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتیں اگلے 5 سال تک 50ڈالر فی بیرل سے کم سطح پر برقرار رہی تو پھر سعودی عرب بحرین اور اومان جیسے ممالک دیوالیہ ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر جو چند سال پہلے 750 بلین ڈالر تھے اب 500 بلین سے کم ہو چکے ہیں

اور ان میں مزید قلت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

امریکہ اس ساری صورت حال کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی جنگ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا کو سستا پٹرول حاصل ہو گا مگر اندر سے انہیں بڑی تکلیف ہے کہ امریکی تیل کمپنیاں معطل ہیں اور تیل کے نئے ذخائر کی تلاش کا کام بھی وقتی طور پر روک دیا گیا ہے امریکہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر آگیا ہے اور جب مارکیٹ ایک بار پھر اُٹھے گی تو وہ بھی شامل ہو جائے گا یہ بڑی پیچیدہ گیم ہے جس میں قدرتی طور پر بھی کسی کو اجارہ داری حاصل نہیں۔

حکومت پاکستان عالمی مسابقتی جنگ سے بالکل بے نیاز ہے چاہیے تو یہ تھا کہ پٹرول کی قیمت میں 35 فیصد کمی کے بعد ملک میں صارفین کے لیے قیمت کم کی جاتی حکومت نے عوام کے ساتھ ایک نئی تجارتی جنگ شروع کر دی ہے اور تیل کی فی لٹر قیمت میں کمی کرنے سے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں اوگرا کی طرف سے 10 روپے کمی کی سفارش کی گئی حکومت نے 10 روپے کم کیے اور اس کے ساتھ ہی پٹرول پر ٹیکس لیوی میں 5 روپے کا اضافہ کر دیا گویا عوام کو صرف 5 روپے کی حقیقی کمی دی گئی۔ حکومت پاکستان پٹرول کی فروخت پر مختلف ٹیکسوں کی مد میں فی لٹر 34 سے 40 روپے تک وصول کرتی ہے عوام کو یاد ہو گا کہ جب پٹرول 90 روپے لٹر ہوتا تھا تو موجودہ حکومت کے اقتصادی گرو اسد عمر کاکہا کرتے تھے کہ ٹیکس ختم کر دیں تو ملک میں 45 روپے لیٹر ہو جائے گا مگر بد قسمتی سے جب یہ حکومت برسراقتدار آئی تو اس نے سب سے پہلا وار پٹرول کی قیمت پر کیا۔ ایک ہی ہلے میں 9 روپے کا اضافہ کرنے کا کارنامہ اسی حکومت کو جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جب اس ہفتے کابینہ سے کہا کہ عوام کو فوری ریلیف دیں تو تجزیہ نگاروں نے اندازے لگا لیے کہ پٹرول کی قیمت 25 روپے تک کم ہو جائے گی مگر تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ پٹرول پر بھاری ٹیکسوں کے بعد ہمیں جو دوگنا منافع مل رہا ہے اس میں عوام کو واپس آنے کی بجائے گردشی قرضوں میں کمی کے لیے لگا دی جائے۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں پٹرول کی حیثیت وہی ہے جو انسانی جسم میں خون کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی امپورٹ کا 26 فیصد حصہ پٹرول پر مشتمل ہے جس پر کثیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ پٹرول کی امپورٹ کی مقدار ہماری صنعتی ترقی سے براہ راست منسلک ہے جتنا زیادہ پٹرول امپورٹ ہو گا اس سے معیشت کا پہیہ تیز ہو گا اسے ایک معاشی indicator کا درجہ حاصل ہے۔ آخر حکومت پٹرول کی امپورٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ کا کیا جواز رکھتی ہے اس سوال کا جواب بڑا تکلیف دہ ہے۔ بات ہمارے ناقص ٹیکس نظام پر آجاتی ہے۔ پٹرول پر ٹیکس لگا کر ریونیو اکٹھا کرنا چونکہ آسان ترین نسخہ ہے لہٰذا حکومت اسے اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ "Tax without consent is robbery" یعنی زیردستی لیا گیا ٹیکس ڈکیتی کے مترادف ہے اور پاکستان میں حکومت یہ کام فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہے۔

پاکستان میں چونکہ براہ راست ٹیکس کا نظام نہیں ہے حکومت 80 فیصد محصولات بالواسطہ ٹیکسوںسے حاصل کیے جاتے ہیں جس کے جال میں صرف غریب لوگ آتے ہیں ہمارے ہاں غریب آدمی امیروں سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ صرف 20 فیصد براہ راست ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے۔ اس صورت حال کو اکنامکس کی زبان میں Regressive Taxation کہا جاتا ہے جس میں چھوٹے طبقے پر ٹیکس امیروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی بجاے پٹرولیم پر ٹیکس بڑھاتی چلی جاتی ہے جو کہ غیر اخلاقی ، غیر دانشمندانہ اور غیر پیداواری ہے۔ اس سے عوام سے لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔ اپنی معاشی مشکلات کو جواز بنا کر بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو آگ لگا دینا کسی لحاظ سے بھی اچھی طرز حکمرانی نہیں کہلاتا۔ اس وقت جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر بحث چل رہی ہے حکومت نے گیس کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


ای پیپر