خواتین اپنے تقدس پر حرف نہ آنے دیں…!
14 مارچ 2020 2020-03-14

خواتین کے عالمی دن پر جہاں اپنے آپ کو روشن خیال اور لبرل کہلوانے والی خواتین نے اپنی ہی قبیل کے مردوں کے تعاون سے خواتین کے حقوق کے نام پر "عورت مارچ" کے سائے تلے جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا وہاں دینی اور مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان سے متعلقہ حلقوں اور تنظیموں نے بھی "یومِ حیاء " اور "یومِ تکریم نسواں"کے تحت جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرکے خواتین کے حقوق کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی۔ خواتین کے حقوق پر بات کرنا یا خواتین جن حقوق سے محروم ہیں ان کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا کوئی ایسی معیوب بات نہیں لیکن کیا ضروری ہے کہ اس کے لیے یکسر الگ اور ایک دوسرے کے مخالف اور متحارب پلیٹ فارم استعمال کیے جائیں ۔ کیا ہمارا مذہب، ہمارا معاشرہ ، ہماری دینی اقدار ، ہماری تہذیب ، ہماری روایات، ہمارا آئین ، ہمارا قانون اور ہمارا کلچر خواتین کے جن حقوق کا تعین کرتا ہے کیا وہ زیادہ پڑھی لکھی اور لبرل خواتین کے لیے کچھ اور ہیں اور دینی ماحول میں پڑھی لکھی اور مشرقی روایات و اقدار کی پابند گھریلو خواتین کے لیے کچھ اور ہیں۔ یقینا ایسا کچھ نہیں ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ "عورت مارچ" کے تحت ریلیوں ، جلسوں اور جلوسوں میں جو تقاریر ہوئیں، جو نعرے بلند کیے گئے اور جو بینرز اور پوسٹرز لہرائے گئے ان کے مقابلے میں "یومِ حیا" اور "یوم تکریم نسواں"کے اجتماعات میں ان سے یکسر مختلف تقاریر ہی نہیں ہوئیںبلکہ جو نعرے بلند ہوئے اور جو پوسٹرز اور بینرز وغیرہ آویزاں کیے گئے وہ بھی ان سے یکسر مختلف تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ اور کس بنا پر یہ تضاد پچھلے سالوں میں (ذرا کم یا اتنا ہی) اور اس سال (کچھ زیادہ یا اتنا ہی) نمایاں ہوکر سامنے آیا۔

ذرا غور کریں اور کسی حد تک گہرائی میں جا کر دیکھیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ خواتین کے حقوق جنھیں ہم حقوق نسواں بھی کہہ سکتے ہیںکے حوالے سے یہ تضاد یا ژولیدہ فکری اس نعرے یا موٹو کی وجہ سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے جسے لکھتے ہوئے میرا قلم تذبذب کا شکار ہے اور وہ نام نہاد لبرل اور روشن خیال کہلوانے اور اس پر فخر کرنے والی خواتین کا "میرا جسم، میری مرضی" کا رسوائے زمانہ نعرہ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اپنے آپ کو لبر ل اور روشن خیال کہلوانے والی زیادہ پڑھی لکھی خواتین پاکباز نہیں ہوتیں۔وہ شرم و حیا کی پیکر نہ بھی ہوں تب بھی شرم و حیا سے یکسر خالی نہیں ہوتیں۔ پھر ماں ، بہن ، بیٹی یا بیوی کی حیثیت سے عورت کے جو روپ ہیں اتنے پاکیزہ ، مقدس اور محترم ہیں کہ خواتین خواہ کتنی آزاد خیال اور روشن خیال کیوں نہ ہوں یا قدامت پسندی اور روایات و اقدار کی پابند نہ بھی ہوں پھر بھی ان میں پاکبازی اور شرم و حیا جیسی صفات کا کسی نہ کسی صورت میں اور کسی نہ کسی حد تک پایا جانا فطری اور لازمی امر ہے۔ پھر ایسے میں "میرا جسم ، میری مرضی" جیسا عریاں نعرہ بلند کرنا ماں، بہن ، بیٹی اور بیوی کے روپ میں

عورت کو حاصل بلند ، مقدس اور محترم مقام سے گرانے کا سبب تو ہو سکتا ہے لیکن عورت کے مقام اور مرتبے کے شایانِ شاں نہیں کہلا سکتا۔ کیا مردوں کی عقل پر پردے پڑگئے ہیں یا عورتیں اتنی آزادخیال ، منہ پھٹ اور شرم و حیا سے خالی ہو گئی ہیں کہ انھوں نے "میرا جسم ، میر ی مرضی"کہہ کر اپنی (یا اپنے جسم کی ) قیمت لگوانی شروع کر دی ہے۔

خواتین کی حقوق کی بات کی جائے تو کسی کواس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے نعرے اور سلوگن بلند کیے جائیں جو دین کی لا فانی اور ابدی تعلیمات کے منافی ہی نہ ہو ں بلکہ ہماری تہذیب، ہماری روایات و اقداراور ہماری معاشرتی زندگی کی بھی نفی کرنے والے ہوں۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ حقوق کا دائرہ کار کیا ہے۔ ہمار ا دین جو ہمارا نظریہ حیات ہے وہ صنف نازک کو کونسے حقوق دیتا ہے اور ان حقوق کے ساتھ کون سے فرائض کو وابستہ کرتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ پیغمبر اسلام ، ہادی برحق حضرت محمد ؐنے عورت کا جو مقام متعین فرمایا اس سے بڑھ کر عورت کو کوئی اور درجہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ آپ ؐکا فرمان ہے کہ جنت ، ماں (جو عورت ہے)کے قدموں تلے ہے۔ پھر آپ ؐنے عورت کی تکریم اس طرح بھی بیان فرمائی کہ تین بار آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ تم پر سب سے زیادہ حق تمہاری ماں کا ہے اور اس کے بعد (چوتھے درجے پر ) تم پر حق تمہارے باپ کا ہے۔ نبی پاک ؐکے پاکیزہ اور مقدس فرمان اور آپؐ اور آپ ؐکے صحابہ کرام ؓکی رشد و ہدایت میں لپٹی پاکیزہ زندگیوں میں عورتوں کو جو مقام حاصل رہا ہے وہ ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پھر اس سے بھی زیادہ افضل اور اہم بات اللہ کریم کی آخری کتاب قران کریم میں عورتوں کے حقوق کا واضح الفاظ میں ذکر ہے۔ قرآن کریم میں وراثت میں ان کے حق کا ذکر موجود ہے تو مردوں کے مقابلے میں ان کی گواہی یا شہادت کا حوالہ بھی موجود ہے کہ ایک مردکی گواہی کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی یکساں وزن رکھتی ہے۔ اب اتنے واضح اور صریح احکامات کے باوجود روشن خیالی اور آزاد روی کے زعم میں حقوق نسواں کی حدود ادھر سے ادھر کرنا یا ان سے بڑھ کر حقوق کی بات کرنا یا "میرا جسم میر مرضی" جیسے نعرے بلند کرنا بیمار ذہن کی عکاسی تو ہو سکتی ہے لیکن ہماری روایات واقدار اور دین کی تعلیمات سے ان کی کوئی مطابقت نہیں ہو سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور ہماری معاشرتی روایات کے مطابق مرد خاندان کا سربراہ ، نگران اور کفیل ہوتا ہے۔ وسائل مہیا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے جبکہ عورت ان وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش ، نگہداشت اور گھرانے کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے ۔مرد اور عورت کے حقوق و فرائض کی یہ تقسیم اتنی فطری اور خوب صورت ہے کہ اس پر پوری طرح عمل ہو تو پھر کسی طرح کی پریشانی یا الجھن کا سامنا نہیں ہو سکتا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے مغر ب یا غیر مسلم معاشروں کی اندھی تقلید کے شوق میں دین کی ابدی و لافانی تعلیمات سے دوری اختیار کرکے اپنے لیے مسائل اور مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ جہاں تک "عورت مارچ "یا "میرا جسم میری مرضی" جیسے سلوگن کا تعلق ہے کون کہتا ہے کہ عورت کا جسم اس کی مرضی کے تحت نہیں ہے۔ عورت ، ماں ، بہن بیٹی اور بیوی کے مختلف روپوں میں جو وضائف اور فرائض سر انجام دیتی ہے اور اپنے جسم کو تکالیف اور آزمائشوں میں مبتلا کر تی ہے تو کیا یہ کسی جبر اور مجبوری کا نتیجہ ہوتا ہے یا وہ اپنی مرضی اور منشاء سے سب کچھ کرتی ہے۔ یقینا یہ سب کچھ اس کی فطرت ، اس کی روح اور اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔ ماں کی حیثیت سے عورت کا وجود سراپہ شفقت اور محبت کا پیکر اور قربانی دینے اور اپنے آرام و سکون کو تج دینے کا بے مثال نمونہ ہوتا ہے۔ بہن کی حیثیت سے عورت خلوص ، ایثار اور بے پنا ہ محبت کی پیکر ہوتی ہے۔ بیوی کی حیثیت سے وہ اپنے شوہر کی ہمراز ،اس کے دکھ درد کی شریک ، اس کی ہمسفر اور زندگی کی اونچی نیچی راہوں پر اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی ہوتی ہے۔ بیٹی کی حیثیت سے وہ اپنے گھرانے کی نیک نامی ، شرافت اور روایات کو جلا بخشنے والی شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ عورت کے ان مختلف روپوں میں "میرا جسم میری مرضی "کا عریاں نعرہ اور سلوگن کہاںسے آگیا یقینا اس کی کوئی گنجائش نہیں بنتی ۔


ای پیپر