بلاول نواز شریف ملاقات، میثاق جمہوریت کے احیاء کا امکان
14 مارچ 2019 2019-03-14

وزیراعظم عمران خان نے شاید پہلی مرتبہ براہ راست پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس سے پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں بلاول کی تقریر پر تنقید کی تھی۔ حکمران جماعت کے دو اہم رہنماؤں کی جانب سے اچانک پیپلزپارٹی کے نوجوان رہنما کو نشانہ بنانا عجیب لگا۔ ورنہ ان کے والد آصف علی زرداری پر ہی تنقید نشانہ رہے ہیں۔ لیکن بعد میں رونما ہونے والے واقعات نے یہ عیاں کر دیا کہ بلاول کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔ وزراعظم عمران خان کی تقریر کے دو روز بعد بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔بعد میں وہ سندھ پہنچے اور کراچی میں سندھ اسمبلی میں آئے اور اہم پریس کانفرنس کی ۔

موجودہ اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد بلاول بھٹو مسلسل اسلام آباد میں رہے، انہوں نے قریب سے پارلیمانی سیاست کا مشاہدہ کیا، اور مختلف لیڈروں سے ملاقاتیں اور رابطے کئے۔ دوسری جانب آصف علی زرداری خرابی صحت کی بناء پر زیادہ سرگرم نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ ابھی بھی انہیں منی لانڈرنگ اور مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات کا سامنا ہے۔ تجزیہ نگار آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کو خارج ازامکان قرار نہیں دے رہے ہیں۔ جبکہ خود زرادری بھی گزشتہ دو ماہ سے اس گرفتاری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی میں بلاول بھٹو کا رول بڑھ گیا ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ بلاول اب پارٹی اور میں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

میاں نوازشریف کے جیل میں علاج کروانے سے انکار نے ایک نئی صورتحال پید اکردی ہے۔ جس کی یہ توضیح کی جارہی ہے کہ میاں صاحب ڈٹ گئے ہیں اور حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔اس صورتحال میں بلاول بھٹو کی ان سے ملاقات یقیناًاہمیت کی حامل ہے۔کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف کے درمیان بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ بلاول بھٹو کی حالیہ ملاقات اسی کا تسلسل لگتا ہے۔

ملاقات کے بعد اگرچہ بلاول بھٹو زرادری نے یہ کہا کہ میاں صاحب سے ملاقات الائنس کیلئے نہیں تھی‘اتحاد کی باتیں قبل از وقت ہیں لیکن ملاقات صرف مزاج پرسی کے لئے نہیں تھی۔ بلکہ اس کے لئے تھی کہ ہسپتال داخل ہو کر علاج کرانے سے انکار سے سامنے آیا کہ ڈیل کی جو باتیں ہو رہی تھیں وہ ڈیل نہیں ہو سکی۔

پیپلزپارٹی بھی اب یہی سمجھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ نواز شریف اصولوں پرقائم ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ڈیل ہوئی یا نواز شریف سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ نواز شریف اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے‘ بلاول بھٹو نے میاں کا جملہ بھی دہرایا کہ وہ نظریاتی بن گئے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کئی مواقع پر قریب آتی رہیں اور بعض اوقات قریب آتے آتے دور ہو گئیَں، ایسا بھی ہوا کہ ان دونوں پارٹیوں نے آپس میں قربت کے بعض مواقع گنوائے۔ نواز بلاول ملاقات کے بعد سویلین بالادستی کے لئے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان لندن میں ہونے والا میثاق جمہوریت ایک مرتبہ پھر زیر بحث آگیا۔ ملاقات میں میثاق جمہوریت پر بات ہوئی ہے کہ ہمیں اسے فعال او رمضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ میثاق جمہوریت کے تمام نکات پر عملدر آمد نہ ہونا پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی ناکامی ہے۔تاہم وہ کہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت کو نئے سرے سے لانا ہو گا۔

وجہ مزاج پرسی ہی سہی لیکن ملاقات کے دوران ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کے سواتمام دیگر جماعتوں سے نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا۔ یعنی تحریک انصاف کے خلاف یا وہ فارمولا جس کے تحت تحریک انصاف کو حکومت دی گئی، اس کے خلاف ایک متحدہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ پاکستان کی جو سیاسی مشکلات، نظام میں کمزوریاں ہیں ان کا حل نکالنا چاہیے۔

سیاسی صورتحال میں ایک اورتبدلی کسی بھی وقت رونما ہو سکتی ہے۔ کیونکہ چوہدری برادران کے خلاف مقدمات کھلنے جا رہے ہیں ۔ اس صورت میں ق لیگ حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تحریکِ انصاف کے لئے پنجاب میں حکمرانی جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ دباؤ وفاقی حکومت تک بھی جاسکتا ہے۔

پاکستان کی جو سیاسی مشکلات، نظام میں کمزوریاں ہیں ان کا حل نکالنا چاہیے۔عدلیہ انتظامیہ بیوروکریسی اور سسٹم کے اندر پائے جانے والے چیک اینڈ بیلنس جب فیل ہو جاتے ہیں تب ایسی صورتحال بنتی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے بلاول بھٹو جو نکات اٹھا رہے ہیں ہیں ان کو اس طرح سے سمویا جاسکتا ہے۔ میثاق جمہوریت کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔ میثاق جمہوریت کے تحت عدالتی اصلاحات پر کام ہونا تھا، آمریت کے دور میں جو کالے قانون بنائے گئے انہیں ختم کرنا تھا جو نہیں کئے گئے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اس پر غور ہونا چاہیے۔ نیب میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ جمہوریت اور اٹھارہویں ترمیم پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم سیاست کا حصہ بنانے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پیپلزپارٹی جیل بھرو تحریک اور لانگ مارچ کے لئے بھی تیار ہے۔ بلاول بھٹو کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد سندھ آمد اور سندھ اسمبلی کا دورہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کی گرفتاری ،ان کے گھر پر نیب کے چھاپے اور سندھ کے مقدمات راولپنڈی منتقلی کے خلاف موبلائزیشن کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اتحاد کی صورت میں ان اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائی حکومت کے لئے ایک اور مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کی بیماری اور جیل سے باہر علاج کرانے کے دباؤ کا سامنا نہیں کر رہی۔ اب پیپلزپارٹی نے بھی اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ تحریک انصاف اپوزیشن کے سامنے ڈٹ جانے سے گریز کر رہی ہے ۔ ممکن ہے کہ حکومت کو میاں نوازشریف کو پیرول پر رہا کرنا پڑے۔


ای پیپر