بلاول زرداری کے درست نشانے
14 مارچ 2019 2019-03-14

13 مارچ کو پاکستان کی سیاست کے حوالے سے دو بڑے واقعات رونما ہوئے۔ایک اقوام متحدہ کی جانب سے پلوامہ واقعہ کے اہم مبینہ کردار مولانا مسعود اظہر کو عا لمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کرنے کی قرار داد کامیاب نہ ہوسکی کیوں کہ پاکستان کو مشکل سے بچاتے ہوئے چین نے دوستی کا حق اد ا کیا اور قراداد کو نہ صرف ویٹو کر دیا بلکہ ایک خوف ناک سازش بھی ناکام ہو گئی ،یہ تازہ سازش بھارت کی جانب سے سوچ سمجھ کر کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ سے قرارداد ناکام ہونے کے بعد مودی سرکار کو بڑا دھجکا لگا ہے۔ اگر مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہو جاتا تو مودی کو آنے والے الیکشن میں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع مل سکتا تھا۔ مگر اب مودی کے لیے ہنوز دہلی دور است والا معاملہ ہے۔ پریشانی کا عالم دیکھئے کہ بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج وزیر اعظم عمران خان کو طعنہ زنی کر رہی ہیں کہ وہ بہادر ہیں تو ملا مسعود کو ان کے حوالے کیوں نہیں کرتے۔ کیا خوب ہے ، خواہش کتنی معصوم ہے۔اقوام متحدہ بھی سیاست زدہ ہو گیا ہے۔ جب پاکستان کا نام آیا تو پاکستان نے پلوامہ کے حوالے سے دو ٹوک موقف لیا کہ اگر ثبوت ہیں ہم کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن کچے ثبوت کی بنیاد پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس مسعود اظہر کا معاملہ لے کر اقوام متحدہ چلے گئے۔اب چین نے اپنا ویٹو اس لیے استعمال کیا کہ ساری بڑی طاقتیں مل کر غضب ڈھانے جارہی تھیں۔ ہندوستان نے جو ثبوت دیے ہیں وہ اتنے مستند نہیں ہیں۔جو عادل ڈار کی آڈیو کیسٹ ہے وہ مشکوک ہے۔جس سے پلوامہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ دہشت گرد مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دلانے کی مودی حکومت کی کوششوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ یوں چین نے مسعود اظہر کو گلوبل ٹیررسٹ کی فہرست میں داخل ہونے سے بچا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ قرارداد بھی منسوخ ہو گئی ہے جس میں مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گردی قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے بھارت کی یہ پہلی کوشش نہی تھی اس سے قبل بھی بھارت مولانا مسعود اظہر کا یہ معاملہ تین مرتبہ اٹھا چکا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ عالمی فورم پر چین واحد بڑی طاقت ہے جو پاکستان کا مقدمہ لڑ رہی ہے ہمارا معاملہ یہ ہے پاکستان کی حکومت میں کچھ وزیروں کا کردار سازش سے بھر ہوا ہے۔ سی پیک کے خلاف آوازیں اٹھانے والوں کے لیے چین کی شہد سے میٹھی دوستی کا کردار قابل فخر ہے۔ اس پس منظر میں بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اپنی 13 مارچ کی پریس کانفرنس میں گرما دیا ہے ۔پہلی بار وہ اپنے نا نا اور والدہ کے نقش ثانی لگے ہیں۔ بلاول بھٹو کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے وقت میں سیاست میں نمودار ہوئے جب اس نے اپنی ماں کو دہشت گردی میں کھویا تھا۔ تھر پارکر میں انکے بارے میں وزیر اعظم نے ایسی زبان استعمال کی جو وزیر اعظم کے شایان شان نہیں تھی۔ بلاول کی جانب سے اس کا جواب تو آنا تھا کہ وہ پارٹی پر پرچی

سے مسلط ہوئے ہیں ۔ سوال یہ ہے بلاول تو پرچی سے پارٹی سربراہ بنے ہیں یہاں تو پرچی سے لوگ وزارت عظمی کی کرسی پر پہنچتے رہے ہیں اور کسی حد تک اب بھی پہنچے ہیں یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی ہے۔اپنی تازہ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے عمران خان کی وزارت عظمی تک پہنچنے کا سوال اٹھایا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ہی بلاول نے عمران خان کو ’’ سیلکٹ وزیر اعظم‘‘ کہا تو عمران خان نے اس پر ڈیسک بجایا۔ بلاول بے نظر بھٹو کا بیٹا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی ماں کا تربیت یافتہ ہے۔ ان کی تازہ تابڑ توڑ پریس کانفرنس نے حکومتی اقتدار میں ہلچل مچا دی ہے وہاں مسلم لیگی حلقوں سے بھی ملا جلا رد عمل آیا ہے سوال یہ اٹھنے لگا ہے کہ اب بلاول شہباز شریف کی بجائے اپوزیشن لیڈر بننے کا حق دار ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں ایک مضبوط حلقہ ایسا ہے جو نواز شریف کے بیانیے کو فالو کرتا ہے وہ شہباز کی صدارت کو بھی پسند نہیں کرتا۔آگے چل کے محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن اسی طرح کی سیاست کرنے جا رہی ہے جس سے ان کا اقتدار ختم ہوا۔یہ سب نظر آنے والی باتیں ہیں ۔ایسے موقع پر بلاول نے دہشت گردی کے ’’پکے راگ ‘‘کو چھیڑا ہے نواز شریف اس سے کافی ڈسے ہوئے ہیں۔نواز شریف کی دوسری حکومت اسی ایشو پر ختم ہوئی تھی جب نواز شریف اعلان لاہور کرکے کشمیر کے ایشو حل کرنے کی طرف جارہے تھے تو عین اس موقع پر کارگل کا مدعا نواز شریف کی حکومت کو گرانے کے لیے ہی اٹھا تھا۔ پہلے ہمارا یہی موقف تھا کارگل پر چڑھے لوگ حریت پسند ہیں جو بھی ہو نواز شریف کی مخالف سیاسی جماعتوں کو ایک نعرے اور ایک پیج پر کھڑا کیا گیا۔ الزام یہ لگایا گیاکہ ’’ اعلان واشنگٹن ‘‘کرکے نواز شریف غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اس نعرے کے حق میں مضبوط وہ لوگ تھے جن کو مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد نان سٹیٹ ایکٹر کہا تھا۔تیسری مرتبہ انہی شدت پسندوں نے نواز شریف اور پھر خاقان عباسی کی حکومت کو کمزور کیا۔آج کے حکمران اپنے پورے وسائل کے ساتھ فیض آباد دھرنے والوں کے پیچھے تھے۔ یہ کوئی چھپی بات نہیں ہے ۔ یہ سارے سوال تفصیل کے ساتھ بلاول نے اپنی پریس کانفرنس میں دہرائے ہیں انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کافی قومی مسائل کا احاطہ کیا ہے۔ نیب کا ادارہ بھی آیا ہے نشانے پر۔سپریم کورٹ اور چھپے الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ پر بھی سوال اٹھائے ہیں ۔ وہاں انہوں نے اس سوال کو بھی اٹھایا ہے کہ سیاستدانوں کے خلاف جے آئی ٹی بنتی ہے مگر ان لوگوں کے خلاف کیوں نہیں بنتی جن کا جواب سیاست دانوں کو دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت میں شامل ان تین وزراکی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا ہے جو کالعدم تنظیموں کے رابطہ کار ہیں۔وہاں انہوں نے ان کالعدم تنظیموں کا حوالہ بھی دیا کہ ان کو راتوں رات اس لیے الیکشن کے لیے تیار کیا گیاتاکہ تحریک انصاف کو اقتدار میں لایا جائے۔ بلاول کے اس اعتراض میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ اس کا سارا زور نواز شریف کی مسلم لیگ کو اقتدار میں آنے سے روکنا تھا۔ اس معاملہ میں سابق چیف جسٹس کی انصاف کے نام پر کچھ کوششیں بھی شامل تھیں جب توہین عدالت کے زریعے مسلم لیگ ن کے قد آور سیاست دانوں کو سیاست سے بے دخل کیا گیا۔ یہ عدالت عظمی کا حق ہے کہ وہ عدالت کے وقار کو بلند رکھے۔ مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایک جماعت کیوں ناانصافی کا سوال اٹھا رہی تھی۔ ڈیم بنانا چیف جسٹس کا اچھا کام تھا۔مگر الیکشن سے پہلے اس معاملے سے یوں لگا جیسے سیاست دان نااہل ہیں۔ خود بلاول نے اپنے ایک تجربے کا حوالہ بھی دیا ہے کہ کس طرح ان کو کرپشن میں شامل کیا جارہا ہے۔ بلاول بھٹو کی سیاست میں اس پریس کانفرنس کے زریعے نئے انداز کی انٹری ہے۔اس کے زریعے انہوں نے زبردست سیاسی پتا پھینکا ہے۔جب وہ اپنی ٹیم کو لے کر کوٹ لکھپت جیل گئے اور نواز شریف کی تیماداری کی۔ نواز شریف کے نظریات کو جانچا،ان کی ’’سیف اسٹیم ‘‘ کا اندازہ بھی لگایا۔ بلاول کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ وہاں حکومتی وزر ا کی جانب سے بلاول بھٹو پر زبردست تنقید جاری ہے۔انہیں ملک دشمن نہ جانے کون کون سے القاب سے نوازا جارہا ہے۔ حکومت ایسے نہیں چل سکتی 18 ویں ترمیم ختم کرنے کی جو کہانیاں چل رہی ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتیں مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو چکا ۔۔ جو حکومت اپوزیشن کو دشمن سمجھے وہ کامیاب نہیں ہوسکتے؟


ای پیپر