ملکی معیشت۔۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟!
14 مارچ 2019 2019-03-14

بات ملکی معیشت کی صورتِ حال کی ہو رہی تھی ۔سابقہ وفاقی وزیر خزانہ اور معروف ماہرِ اِقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مستند معاصر ’’بزنس ریکارڈر میں‘‘ چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں اِس کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اُن کے مطابق حکومت کے معیشت کے بارے میں سب اچھا کہ دعوؤں کے برعکس اِس میں تنزلی کی صورت بدستور قائم ہے۔ قومی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقوم میں کمی ، گیس اور بجلی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے اور روپے کی قدر میں 30فیصد تک کمی اور شرح سُود میں اضافے جیسے اقدامات کے باوجود اِس میں بہتری کی کوئی صورت سامنے نہیں آ سکتی ہے۔ پچھلے چھ ماہ میں صنعتی پیداوار (Manufacturing)کے شعبے میں 15بڑے صنعتی گروپوں میں سے 10صنعتی گروپوں کی پیداوار میں کمی ہوئی جو مجموعی طور پر 2فیصد رہی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق تعمیرات کا شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ جس کا نتیجہ سیمنٹ کی پیداوار میں 2فیصد کمی اور لوہے اور سٹیل کی مصنوعات میں 8فیصد کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اِسی طرح زرعی پیداوار میں کمی کا نتیجہ چینی اور ٹیکسٹائل جیسی زراعت پر انحصار کرنے والAgro Basedصنعتوں کی پیداوار میں کمی کا سبب بنا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنے تجزیے میں اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ مالی سال میں شرح نمو میں اعلان کردہ اضافے کی بجائے 3فیصدتک کمی ہو سکتی ہے۔ 2009-2010کے مالی سال میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جب اِس میں متوقع اضافے کی بجائے 2فیصد کمی سامنے آئی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ افراطِ زر میں اضافہ 6.9%سے بڑھ کر 9.9%تک پہنچ گیا ہے۔ جِس سے مہنگائی میں اضافہ ہی نہیں ہوا ہے بلکہ مکانوں کے کرائے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔کم آمدنی والے طبقات اِس سے بُری طرح مُتاثر ہو رہے ہیں۔مالی سال کے پہلے سات ماہ میں مالیاتی خسارہ 3%رہا ہے۔ جس میں کمی کی کوئی سبیل سامنے نہیں آسکی ہے ۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مُلکی معیشت کے بارے میں جِس تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے کُچھ اور حلقے بھی اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘میں ’’اکونومیک انٹیلی جینٹس یونٹ ‘‘کی جائزہ رپورٹ چھپی ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2019کے دوران مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور اِس کی شرح بلند رہے گی۔رپورٹ کے مطابق گیس اور بجلی کے نرحوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی اِس کے بڑے عوامل ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری میں افراطِ زر کی شرح 56ماہ کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 4.5%اضافہ ہوا اور زرعی پیداوار میں کمی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔

ماہرین کے جائزے ،تجزیے اور اداروں کی رپورٹیں اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں جنہیں جھُٹلانا آسان نہیں ہوتا لیکن کُچھ برسرِ زمین حقائق روزِ روشن کی طرح اِتنے عیاں ہوتے ہیں کہ اُن کے لیے کِسی طرح کے اعدادو شمار کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بذاتِ خود وہ اپنا ثبوت آپ ہوتے ہیں۔مہنگائی ،اشیائے صرف کی قیمتوں اور گیس اوربجلی کے نِرخوں میں اضافہ ایسی حقیقت ہے جو اِتنی ظاہر باہر ہے جِسے جھُٹلایا نہیں جاسکتا ۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی بھی ایسی حقیقت ہے جس کے اثرات ہر سو دِکھائی دیتے ہیں۔حالیہ مہینوں میں کِسی بڑے ترقیاتی منصوبے کا سنگِ بنیاد نہیں رکھا جا سکا نہ ہی کوئی تعمیراتی کام شروع ہیں۔ یہاں تک عوامی فلاح و بہبود کے چھوٹے بڑے کام بھی رُکے ہوئے ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ۔اُن کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا کہ فنڈز نہیں ہیں۔تعلیم اور صحت جیسے مفادِ عامہ کے شعبوں میں بھی یہی صورتِ حال ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عُمر اور اُن کے قائد وزیراعظم جناب عمران خان در پیش صورتِ حال کی ذمہ داری سابقہ حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ آخر آپ کو حکومت سنبھالے 210سے زائد دن ہو چُکے ہیں۔آپ نے روپے کی قدر میں انتہائی حد تک کمی کردی ۔آپ نے گیس کے نرخوں میں 146%تک اِتنا بڑا اضافہ کر دیا کہ عوام الناس کی چیخ و پکار اقتدارکے اِیوانوں تک جا پہنچی اور وزیراعظم جناب عمران خان کو خُود یہ ہدایت کرنی پڑی کہ گیس کے نرخوں پر نظر ثانی کی جائے اور عوام کو لُوٹ مار سے چھُٹکارہ دیا جائے۔اب بجلی کے نرخوں میں 2روپے فی یونٹ تک مجوزہ اضافہ کوئی معمولی اضافہ نہیں۔موجودہ ٹھنڈے موسم میں بجلی کا استعمال کم ہے

ایک آدھ ماہ بعد جب موسم گرم ہوجائے گا تو پھر بجلی کا استعمال بھی بڑھ جائے گا اُس وقت بجلی کے بِلوں میں تو بے تخاشا اضافہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ اشیائے صرف کی قیمتوں کی طرف دیکھا جائے تو بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل ہر گھر کی ضرروت ہیں اِن کے پانچ لیٹر یا پانچ کلو کے ٹِن کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں میں کم از کم 100روپے اضافہ ہو چُکا ہے ۔یہی صورتِ حال چائے (پتی)، ٹوتھ پیسٹ، نہانے کے صابنوں، واشنگ پاؤڈراور اِسی طرح کی روزمرہ استعمال کی کتنی ہی دوسری چیزوں کی ہے ۔ سچی بات ہے عوام کو جو ایک طرح کی فراخی محسوس ہونی چاہیے اُس کا دُور دُورتک نام ونشان نہیں اُلٹا تنگی اور تنگی داما ں کا احساس قوی سے قوی تر ہوتا جا رہا ہے ۔اللہ کرے گندم اور خریف کی دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو ،اِن کی دستیابی عام ہو اور قیمتوں میں کمی آسکے ۔

بات معیشت کی صورتِ حال کے جائزے سے چلی تھی واپس اُسی طرف آتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ترجمان کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی دُوسری قسط مِلنے کے بعد زرِ مبادلہ کے ذخائر 15ارب 96کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں۔مُتحدہ عرب امارات سے ہونے والے 3ارب ڈالر کے معاہدے کے باقی ماندہ 1ارب ڈالر اگلے ماہ مِل جائیں گے۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے یہ طے پایا تھا کہ وہ تین ،تین ارب ڈالر (دونوں کے مِلا کرکُل 6ارب ڈالر )تین سال کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھوائیں گے ۔پاکستان اِں پر سعودی عرب کو 3%اور مُتحدہ عرب امارات کو 3.18%کی شرح سے سُود اد ا کرے گا ۔سعودی عرب پاکستان کا انتہائی قریبی دوست اور برادر اسلامی مُلک ہے اور ماضی میں بھی پاکستان کو مُشکل اقتصادی صورت سے دو چار ہونے کی بناء پر اُس کی مدد اورتعاون ہمیشہ حاصل رہا ہے ۔مئی 2013میں مُسلم لیگ ن کی حکومت بنی اور میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا تو سعودی عرب نے موجودہ 3ارب کے’’ نمائشی قرضے ‘‘جس پر سُود بھی واجب الا ادا کی بجائے برادر اسلامی مُلک پاکستان کو 1.5ارب ڈالر کی (ناقابلِ واپسی )امداد دی۔مُتحدہ عرب امارات کی طرف سے البتہ اُوپر بیان کردہ 3ارب ڈالر کی خطیر رقم بطورِ ’’نمائشی قرضہ‘‘جِس پر سُود بھی واجب الااداہے دینا کسی حد تک اچنبھے کی بات ہے کہ ماضی میں مُتحدہ امارات کی طرف سے پاکستان پر اِس طرح کی ’’فیاضانہ عنائیت ‘‘کی کوئی مثال نہیں مِلتی ۔تاہم مُتحدہ ارب امارات نے اِس بار یہ’’ فیاضانہ عنائیت ‘‘ کی ہے تو اِس کی قیمت بھی فی الفور ہم سے وصول کر لی ہے ۔او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس )کی وزرائے خارجہ کونسل کے پچھلے دِنوں دبئی میں منعقدہ دو روزہ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کرنا اور پاکستان کی طرف سے اِس کی مخالفت کی درخواست کو درخورِ اعتنا نہ سمجھنا یقیناً’’عرب شہزادوں‘‘ بالخصوص متحدہ عرب امارات کی پاکستان سے اپنی ’’فیاضانہ عنایت‘‘ کی قیمت وصول کرنا ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

ملکی معیشت کی صورتِ حال کے حوالے سے کچھ اور پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ لیکن کالم میں شاید اتنی گنجائش نہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کرے معیشت کو بہتر بنانے کے لئے حکومتی اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہوں اور پاکستان اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔


ای پیپر