تحریک انصاف کے فالوورز کا مخمصہ
14 مارچ 2019 2019-03-14

تحریک انصاف کے فالوورز اور سپورٹرز کا یہ پختہ یقین ہے کہ عمران خان پہلا وزیراعظم ہے جس سے مقتدرہ خوفزدہ ہے جو اپنی مرضی کرتا ہے اور یہ جو نان اسٹیٹ ایکٹرز کو لے کر کارروائی ہو رہی ہے۔ اس کا تمام کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ یہ عمران خان کا فیصلہ تھا اور ان تحریکی سپورٹرز کو یہ یقین بھی ہے کہ اس ملک میں سویلین سپریمیسی کا سورج عمران خان کے دور حکومت میں ہی طلوع ہو گا اور اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست سے نکل جائے گی اور ملک معاشی طور پر ترقی کر جائے گا۔ ان فالوورز کا یہ بھی یقین ہے کہ اگر عمران خان یہ سب کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس کی وجہ کرپٹ سیاسی مافیا ہو گا جو احتساب سے خوفزدہ ہے اور جس نے عمران حکومت کے خلاف گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ شاید اسی لیے پیش بندی کے طور پر کرپٹ مافیا کا نعرہ زندہ رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ناکامی کا جواز گھڑا جا سکے۔ پچھلے دنوں جب ایک پی ٹی آئی سپورٹر نے میرے سامنے عمران حکومت کو درپیش کرپٹ مافیا کے ہاتھوں مشکلات کا ذکر کیا تو میں نے وہاں موجود اپنے آٹھ دس پی ٹی آئی ہارڈ کور دوستوں سے پوچھا۔ کرپٹ مافیا تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ حکومتیں ان کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنتیں۔ آپ اگر مجھے ان سات ماہ میں پی ٹی آئی حکومت کا کوئی ایک ایسا مثبت قدم بتا دیں جو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے اٹھایا گیا ہو اور جس سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ہوا ہو تو میں آپ کا مشکور ہوں گا اور اپنی نالائقی تسلیم کر لوں گا۔ اس پر پی ٹی آئی کے وہ تمام سپورٹرز میری شکل دیکھنے لگے اور پھر ایک دوسری کی شکل تکنے لگے۔ آخر ایک بندے نے ہمت کرکے کہا۔ ہماری نظر میں ایسی کوئی پالیسی یا قدم نہیں

ہے جس سے ریاستی آمدن بڑھی ہو۔ سوائے اس کے کہ نئی ٹیکسیشن پالیسی آئی ہے اور حکومت نے کچھ ریوینو اکٹھا کیا ہے۔ میرا جواب تھا۔ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں اضافہ کرکے اور سبسڈیز کو ختم کرکے آمدن میں اضافہ کرنا لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر اگر یہ اضافی ٹیکس موجودہ ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جائے جبکہ صورت حال یہ ہے۔ اسٹیٹ بنک کی ہی رپورٹ کے مطابق مالی سال کی اس ششماہی میں ٹیکس وصولی میں بہت زیادہ کمی ہوئی ہے اور نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ نہیں ہو سکا جن کے متعلق عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں بار بار یہ اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت ملنے پر ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ کرے گا اور نئے ٹیکس دہندگان سے آٹھ کھرب روپے اکٹھے کرے گا۔ اسی طرع منی لانڈرنگ، رشوت پر قابو پا کر آمدن میں اضافہ ہو گا اور لوٹی ہوء دولت واپس لا کر اور بچتوں سے بھی آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے عمران حکومت کی یہ تمام معاشی پالیسیاں ناکام ہو گئی ہیں۔ اور آ جا کر ادھار اور قرض لے کر حکومت چلائی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ ترقیاتی فنڈ میں بھی کٹوتیاں لگائی جا رہی ہیں اور اب تو سی پیک کے فنڈز بھی نکالے جا رہے ہیں اور جرمانوں اور فیسوں میں اضافہ کرکے کچھ وصولیاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کا خیال تھا۔ روپے کی قیمت میں کمی کرکے برآمدات بڑھ جائیں گی اور تجارتی خسارے میں کمی آئے گی لیکن یہ پالیسی بھی بیک فائر کر گئی۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ تو ہوا لیکن برآمدات میں بڑھوتی نہ ہو سکی۔ اسی طرع سعودی حکومت نے جس سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا تھا۔ وہ کسی کولڈ سٹوریج میں پڑا ٹھنڈی ہوائیں کھا رہا ہے اور حکومت روز مرہ کے معاملات چلانے کے لیے مقامی بنکوں سے دھڑا دھڑ قرض لے رہی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے بھاری سود کی شرائط پر جن بانڈز کا اجراء کیا تھا۔ وہ بھی ناکام ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ بھی قرض کی ہی ایک شکل تھی۔ پی ٹی آئی سپورٹرز اور فالوورز کا مخمصہ یہ ہے۔ ان کے پاس ان تمام ناکامیوں کے دو ہی جوابات ہیں۔ پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں اور کرپٹ مافیا حکومت کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اگر ان کے ساتھ حقائق اور اعدادوشمار کے ساتھ بات کی جائے تو پہلے تو انہیں ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ ان کی پالیسی یہ ہے کہ جو بات ہمیں معلوم نہیں وہ ہے ہی نہیں۔ اس پالیسی کا دوسرا نکتہ یہ ہے۔ بقول ان کے اگر پچھلی حکومتیں اتنی ہی کامیاب تھیں تو ملک کی ایسی حالت کیوں ہے لیکن خدا کا شکر ہے۔ جب سے پی ٹی آئی حکومت میں آئی ہے۔ ان پر کافی تلخ حقیقتیں آشکار ہو رہی ہیں اور یہ معلوم پڑ رہا ہے کہ پیسہ کدھر جا رہا ہے لیکن پی ٹی آئی سپورٹرز کی ایک پالیسی یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات کا کبھی سیدھا جواب نہیں دیتے۔ بات کو گھما دیتے ہیں اور سنجیدہ گفتگو بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرع یہ لوگ پوچھی جانے والی بات کا جواب دینے کی بجائے پوچھنے والے پر براہ راست حملہ کر دیتے ہیں اور کردار کشی شروع کر دیتے ہیں۔ بہرحال یہی سیاسی عصبیت ہے۔ جب کسی لیڈر کے فالوورز دل جمعی کے ساتھ اپنے لیڈر کی ہر بات کا دفاع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس لیڈر کو اسٹیبلشمنٹ کے آہنی ہاتھ لگتے ہیں اور لیڈر اور اس کے فالوورز کا بیانیہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ یہ ہوا۔ بلوچیوں کے ساتھ یہ ہوا۔ ن لیگ کے ساتھ یہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ یہ ہوا۔ اے این پی اور جماعت اسلامی کو ہاتھ لگے۔ ابھی سفر جاری ہے۔ سویلین سپریمیسی کی جدوجہد ایسے ہی کامیاب ہو گی اور شعور ، آگاہی اور ادراک میں یونہی اضافہ ہوتا جائے گا۔


ای پیپر