حجاب یا۔۔’’ہے جاب‘‘۔۔
14 مارچ 2019 2019-03-14

دوستو،آج آپ سے دو مختلف موضوعات پر بات کرنے کا من چاہ رہا ہے ۔۔ویسے تو ہمارا من صرف ’’من ڈے‘‘ کو یہ باتیں کرنے کا تھا لیکن چونکہ ’’من ڈے‘‘ کو ہمارا کالم نہیں آتا، اس لئے آج آپ سے اپنی فضول یات کریں گے۔۔ پہلے پی ایس ایل کی بات کرتے ہیں۔۔پھر مشہور زمانہ عورت مارچ کا ذکر کریں گے۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ عثمانیوں نے یونان پر،منگولوں نے بغداد پر،اور قلندروں نے رانافواد پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔۔یقین مانیں رانا فواد صرف میرا ہی نہیں پورے ملک کا فیوریٹ ہے ، اتنا معصوم اور پیارا سا یہ بندہ واقعی ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز کا مستحق ہے جس نے کروڑوں روپے لٹادیئے لیکن قلندر جب پی ایس ایل سے گیا تو دونوں ہاتھ خالی تھے۔۔ کراچی والوں نے رانا جی کو مشورہ دیا ہے کہ ،اتنی ذلت سے تواچھا ہے باقی زندگی تبلیغ میں گزارلیں، ہمارے پیارے دوست نے بھی قیمتی مشورہ دے ڈالا، کہتے ہیں، رانا جی سمندر پاس ہے سیر کرانے کے بہانے ٹیم لے جائیں اور وہی پھینک آئیں،اگلے پی ایس ایل میں نئی ٹیم تیارکریں۔۔چرچل نے کہا تھا باؤنڈری کی لمبائی اسکرٹ کی طرح رکھنی چاہئے،نہ تو اتنی بڑی ہوکہ انگرام اور اے بی ڈی ویلیئر چھکے مارسکیں ،نہ ہی اتنی چھوٹی کہ شاداب اور عماد چھکے مارسکیں۔۔دیکھا جائے تو کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم بہت بڑاہے لیکن باؤنڈری اتنی چھوٹی ہے کہ اسے ایک کونے پر کھسکا کر یہاں بیک وقت دو میچ کروائے جا سکتے ہیں۔۔انڈین کرکٹ ٹیم نے بھی اپنی فوج کو ذلیل کرادیا، آرمی کیپ پہن کر کھیلے اور آسٹریلیا کے ہاتھوں ہارتے گئے۔۔انڈیا پر یادآیا، پائلٹ ابھی نند نے بھارتی خفیہ ایجینسیز کوبتا دیا ہے کہ بھٹو ابھی تک زندہ ہے اور ملک ’’ڈیزل‘‘ کے بغیر چل رہا ہے ۔۔باباجی پارک میں بیٹھے تھے،ہم نے ان سے پوچھ لیا، باباجی، پینسٹھ کی جنگ ہوئی تھی تو کیا ہوا تھا؟؟ سوال سن کر باباجی ہلکے سے مسکرائے، ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا، سگریٹ کی گُل کو چٹکی بجاکر گرایا اور کہنے لگے۔۔ پْتر مینوں یاد اے چنگی طرح میرا وڈا پْتر ہویا سی۔۔ہم نے کہا،اب پھر جنگ کی باتیں ہونے لگی ہیں۔۔باباجی برجستہ بولے۔۔ فیر پْتر ہن جو اللہ نوں منظور ۔۔

اب کچھ بات عورت مارچ کی۔۔کہتے ہیں بیوی سے اختلاف بالکل ایسا ہی جیسے شہد کے چھتے میں ’’وٹے‘‘ مارے جائیں۔۔معروف ناول نگارمحمد حنیف اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ۔۔’’عورت مارچ سے سب سے زیادہ سلگی بھی اس لیے کہ عورتوں نے کھل کر جگتیں لگائیں۔ ہمارے تھکے ہارے مردوں میں بھی بڑے انقلابی ہیں لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان کے نعرے ان سے بھی زیادہ تھکے ہارے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق کی معراج ’تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘ ہے ۔عورت مارچ میں نعروں، مطالبوں اور پوسٹروں کی ایسی نئی بہار دیکھی گئی جو پہلے کسی سیاسی تحریک میں بھی نظر نہیں آئی۔ یہی جگتیں اگر افتخار ٹھاکر لگائے تو ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ پائے اور عورت لگائے تو ہماری تہذیب کی بنیادیں ہل جائیں۔۔‘‘ہمارا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ بازار میں چلتے ہوئے آپ ایک زوردار آواز دیں۔۔اوئے جوروکے غلام۔۔دس میں سے نو حضرات لازمی مڑ کر آپ کی طرف دیکھیں گے، ایک ایسے معاشرے میں پھر بھی خواتین کو حقوق نہ ملنے کی شکایت ہے تو حیرت کا مقام ہے ۔۔ ہمارے پیارے دوست کاکہنا ہے کہ ۔۔کھانا خود گرم کرنے کے طعنے دینے والی بیبیوں سے گزارش ہے کہ اب کچن میں رکھے جار بھی خود ہی کھولا کیجئے گا۔۔ان کا مزید فرمانا ہے کہ ۔۔سارے ہی دن یوم خواتین ہیں۔ مرد کادن تو وہ ہوتا ہے جب زوجہ ماجدہ میکے میں ہوتی ہے ۔۔۔ایک لاہوری نے اپنے دوست سے کہا۔۔ یار جدوں میرا ویہا (شادی) ہویا سی ناں تے مینوں اپنی ووہٹی اینی سوہنی لگدی سی کہ دل کر دا سی کھا ای جاواں۔۔دوست پوچھ بیٹھا۔۔تے ہُن؟؟ لاہوری نے اداس لہجے میں کہا۔۔ چنگا سی جے کھا ای جاندا !

عورت مارچ تو ہونا تھا ہوگیا، اب چوبیس مارچ کو’’مردمارچ‘‘ کا بھی اعلان کیا گیا ہے ، یہ مردمارچ کراچی میں ہورہا ہے ۔۔ چلیں فرض کرتے ہیں اس سے پہلے خواتین کا ایک اور مارچ ہوجاتا ہے یہ تمام برقعہ پوش خواتین ہوں اور ہاتھوں میں پلے کارڈز ہوں کہ۔۔ عورت کاروبار کا اشتہار نہیں۔۔ہوٹل کے بستروں کی چادریں خود بدلو۔۔جہاز میں مسافروں کا دل خود بہلاؤ ۔۔شیونگ مشین کے اشتہار میں تصویر خود کی لگاؤ ۔۔ بڑے صاحب کی پرسنل سکریٹری اب سے خود بنو ۔۔اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچیوں کے لئے حجاب ضروری قرار دو۔۔ایسے نعروں کا کیا ردعمل سامنے آتا؟؟ ہمارے دوست فردوس جمال کہتے ہیں کہ ۔۔مذکورہ سب نعرے اور تمام مطالبے آئین پاکستان کی رو سے جائز ،درست اور صحیح ہیں۔۔لیکن اگر پھر بھی ایسا جلوس نکلتا تو پوری دنیا چیختی،فرنگی ، یہودی اور مغربی میڈیا زہراگلتا۔۔ہمارے دیسی لبرلز طنز و تنقید کے تیر برساتے،ہمارا میڈیا اس پر ٹاک شوز کرتا،شدت پسندی کا لیبل لگتا،بنیاد پرستی کا رونا رویا جاتا اور شاید حکومت دباؤ میں آ کر جلوس نکالنے والیوں کے خلاف حرکت میں آتی،گرفتاریاں عمل میں آتیں۔ستم ظریفی ہے کہ مدینے کی ریاست کا نعرہ لگانے والی حکومت کے دور میں منظم انداز میں فحاشی کو فروغ دینے کے لیے دیسی آنٹیوں کا ایک ٹولہ بیرونی این جی اوز نے ہائر کیا،وہ ٹانگیں پھیلا کر پوز دیتی رہیں،اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا گیا مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔مغرب میں مسلمان عورتیں پردے ( حجاب ) کیلئے لڑ رہی ہیں اور پاکستان میں برہنگی کے لئے۔۔ایسی قوم کو یوم خواتین کی کیا ضرورت جسے یہ بتایاگیا ہو کہ ماں کو روز دیکھنا حج کا ثواب۔۔بہن پر خرچ کرنا بہترین صدقہ، بیٹی کی بہترین پرورش پر جنت میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا ہمسائیہ ہونا۔۔بیوی کو مسکرا کر دیکھنے سے مالک (اللہ سبحانہ تعالیٰ) کی خوشنودی ملتی ہے ۔۔ہم مسلمانوں کا تو ہر روز ہی یوم خواتین ہوتا ہے ۔


ای پیپر