’’Neighbour in Arms‘‘
14 مارچ 2018 2018-03-14

ایک طرف ہمارے سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیان بازی کی چاندماری جاری ہے اور دوسری طرف بھارت اور امریکہ پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مہم جوئی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ہی پیج پر دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان شاخِ گل پر زمزموں کی دھنیں تراش رہے ہیں اور پاکستان کے وجود اور قومی سلامتی کے دشمن عناصر ہمارے نشیمن کو برق باریوں کا نشانہ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ رواں سال کے اوائل میں، بھارتی روزنامہ’ ہندوستان ٹائمز‘ میں سابق امریکی سینیٹر لیری پریسلر کا پاکستان کے خلاف عناد اور خبث باطن کے زہر سے بھرا مضمون شائع ہواجس میں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی لیری ہے جس نے پاکستان کے خلاف ’’رسوائے زمانہ ‘‘ پریسلر ترامیم کے مسودے کی تحریر و تسویدکی تھی۔ ان کی بھارت نوازی اور پاکستان دشمنی ڈھکی چھپی نہیں۔ واضح رہے کہ موصوف پاکستان مخالف بھارتی خانہ سازداستانوں کو بیان کرنے کیلئے متنازع کتاب ’’Neighbour in Arms‘‘بھی لکھ چکے ہیں۔ لیری ایسے مصنف بھارتی لابی کے حمایت یافتہ اور باقاعد وظیفہ خوار ہیں۔لیری پریسلر جنوبی ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن سیاستدان ہیں، جس کی عملی سیاست دو دہائیاں قبل ہی ختم ہو چکی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ اچانک دوبارہ حیران کن حد تک متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ انہیں زعم ہے کہ ٹرمپ نے اب لوہا گرم کردیا ہے اور کاری ضربیں لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ لہٰذا اب وہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف موہومہ خدشات اور خانہ ساز الزامات کو پروان چڑھانے کے بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے میدان ِ عمل میں کود پڑے ہیں۔
اس مضمون میں لیری نے ٹرمپ کے پاکستان دشمن رویے، خیالات اور عزم کو سراہا۔ اس نے پاکستان کو ’بدمعاش‘ اور’ دہشت گرد‘ ریاست کہنے پر ٹرمپ کا خیر مقدم بھی کیا۔لیری نے ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی حکمت عملی اور پاکستان پر دبائو ڈالنے کی امریکی پالیسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے۔ اس مضمون میں لیری نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں ،جنہوں نے پاکستان کے خلاف کھلم کھلا مہم جوئی اور دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے پاکستانی غلط بیانیوں پر سرزنش کرنے کی جسارت کی‘۔ اس نے بھارت سے قربت بڑھانے کے فیصلے پر ٹرمپ کو داد بھی دی۔ انہوں نے تحریری ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنے مضمون میں لکھا ’’صدر ٹرمپ نے ایشیا کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کر لی ہے، سینئر بش کے بعد، وہ خطے کے لیے اس قدر وسیع حکمت عملی بنانے والے پہلے امریکی صدر ہیں‘۔ اپنے ان جملوں کی
وضاحت کرتے ہوئے ٹرمپ کی تعریف و توصیف کا شان نزول یہ بیان کیا کہ ’میری توجہ کا مرکز، صدر ٹرمپ کی وہ تقریر ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا اور امریکی امداد منقطع کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا، یقینا انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان تو دے دیا تاہم اس کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہیں گے، اس ناکامی کی وجوہات میں اپنی کتاب ’’Neighbour in Arms‘‘ میں بیان کر چکا ہوں‘‘ ۔آخر میں وہ لکھتے ہیں ’’ پاکستان کو دہشت گرد کہنے پر میں صدر ٹرمپ کا ممنون ہوں،پیشہ ور سفارت کار اور خارجہ پالیسی کے ماہرین ان کے ٹویٹس سے ہم آہنگی نہیں رکھتے اور بسا اوقات میں خود بھی ان کے بیانات سے دنگ رہ جاتا ہوں، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ہیری ٹرومین کی طرح’ نمکین زبان‘ کا استعمال تمام جماعتوں کو بخوبی سمجھ آرہا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ افغان جنگ کے دوران ہی جب امریکی انتظامیہ پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے بھاری رقوم بھیج رہی تھی، امریکہ کے اندر پاکستان کے جوہری پلانٹ پر پائی جانے والی تشویش کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریس نے امریکہ کے غیرملکی امداد کے قانون میں ایک ترمیم کی منظوری دی جسے ’پریسلر‘ ترمیم کا نام دیا گیا۔ری پبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر کے نام سے منسوب اس ترمیم کے تحت امریکی صدر کو پابند کیا گیا کہ وہ ہر سال امداد دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ پاکستان جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔پریسلر ترمیم کے تحت امریکی صدور 1989ء تک اس بات کی تصدیق کرتے رہے کہ پاکستان جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو امداد ملتی رہی۔لیکن 1990ء میں اس وقت کے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے یہ تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ پاکستان جوہری بم نہیں بنا رہا جس کے بعد پاکستان کی زیادہ تر معاشی اور تمام فوجی امداد معطل ہو گئی اور امریکہ نے پاکستان کے لیے ایف سولہ طیاروں کی فراہمی بھی روک دی۔1991 سے 2000تک وقتاً فوقتاً جو امداد ملی اس کی مجموعی مالیت 50 کروڑ ڈالر تھی۔
بھارتی پراپیگنڈے اور ٹرمپ کے بیانات کے علی الرغم امریکی تھنک ٹینک سینٹرل فار گلوبل ڈویلپمنٹ اور امریکی کانگریس کی رپورٹ کی جانب سے فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ نے 2002ء سے 2015ء تک کیری لوگر کے تحت ملنے والی امداد سمیت مجموعی طور پر 39 ارب 93 کروڑ ڈالر دیے۔دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ 2001ء سے 2015ء کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی ادائیگی یعنی کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت ملنے والے 13 ارب ڈالر امداد نہیں ہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے پاکستان کی امداد کے لیے پہلا معاہدہ 1954 ء میں کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت پاکستان نے اگلے دس سالوں کے دوران تین ارب 20کروڑ ڈالر امریکی امداد میں حاصل کیے۔ امداد کا بڑا حصہ جنرل ایوب خان کے دور میں ملا۔1965ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد امریکہ نے دونوں ملکوں کی امداد میں بڑی حد تک کمی کر دی تھی۔ 1979ء میں پاکستان میں جوہری پلانٹ کی موجودگی کے انکشاف کو جواز بنا کر امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے خوراک کے سوا پاکستان کی تمام امداد روک دی۔افغانستان میں سوویت یونین کی فوجوں کے داخلے کے بعد پاکستان کی امداد نہ صرف بحال کر دی گئی بلکہ اس دوران پاکستان کو بہت زیادہ فوجی امداد ملی۔امریکہ نے افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کو نکالنے میں مدد کرنے پر 1980 ء سے 1990 ء کے دوران جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر کی رقم دی۔
پریسلر کی ہرزہ سرائی سے قطع نظریہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مبینہ بین الاقوامی جنگ کی فرنٹ لائن سٹیٹ اور اپنے نان نیٹو اتحادی کو دھمکا تی چلی آرہی ہے۔ امریکی حکام جو کہ دنیا میں تہذیب اور شائستگی کے بلاشرکت غیرے ٹینڈر ہولڈر ہونے کے دعوے دار ہیں کیا ان سے یہ استفسار کیا جا سکتا ہے کہ اپنے اتحادیوں پر برسرعام جارحانہ تنقید کس ’برانڈ ‘کی تہذیب اور کس’ نسل ‘ کی شائستگی کی عکاسی کرتی ہے۔کون نہیں جانتا کہ پاکستان دو بار امریکی جنگ لڑ چکا ہے۔ ایک جنگ میں ہمیں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کا ’انعام‘ ملا اور نائن الیون کے بعد ڈیڑھ عشرے پر محیط مشروط تعاون اور اتحاد کا ’صلہ‘ پاکستان کے جنوب سے شمال تک بدامنی، تخریب کاری، دہشت گردی، پاک افغان سرحد پر 36 بھارتی قونصل خانے اور خودکش بمبار ملے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہئے کہ ٹرمپ کے مذکورہ بیان کے فوری بعد بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف بلیم گیم شروع کئے ہوئے ہے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کے لئے کذب و افتراء کے ہر حربے سے کام لیا جائے۔
حقیقت تویہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ ہمارے سکیورٹی اداروں اور عوام نے خطے سے دہشت گردی کی بیخ کنی میں بے پناہ اور لائق رشک قربانیاں دیں۔ اب تو امریکی بھی مانتے ہیں کہ پاکستان کی قربانیاں عدیم النظیرہیں۔ اس تناظر میں امریکیوں کو ادراک ہوچکا ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے پاکستان کی رفاقت کے ساتھ اور تعاون ازبس ضروری ہے۔ پاکستان کی حمایت کے بغیر افغان امن نا ممکن ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا قہر و عتاب پاکستان پر اس لئے بھی ہے کہ سی پیک اس کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی کونسل، کابینہ اور پارلیمان کے اجلاس میں جہاں دیگر معاملات و مسائل پر غور کیا جائے وہاں چین کے ساتھ مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو اولین ترجیح دی جائے۔ علاقائی امن اور خطے میں عدم توازن کے خاتمے کے لئے یہ اقدام ازبس ضروری ہے۔


ای پیپر