مارشل لاء… مارشل لاء کے بغیر
14 مارچ 2018 2018-03-14

سینیٹ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) یا کسی ایسی جماعت اور اس کی قیادت کا جو نظر نہ آنے والی قوتوں کے ڈھب پر پوری طرح چلنے کو تیا رنہ ہو اکثریت حاصل کر کے قومی اسمبلی کے ساتھ ایوان بالا میں بھی قانون سازی کی طنابیں اپنے ہاتھوں میں لے لینے کا امکان ہمارے ’’صاحبان ذی وقار‘‘ کے لیے ہمیشہ سوہان روح رہا ہے… مارچ 2000ء میں اس کے امکانات پیدا ہو گئے تھے… چنانچہ 12 اکتوبر 1999ء کے شب خون کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ معاملات کی نوبت سینیٹ کے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت کی اکثریت حاصل کرنے تک نہ پہنچ پائے… سینیٹ کیا نواز حکومت سے ہی جان چھڑا لی گئی… اس مرتبہ عالمی حالات اور داخلی صورت حال کی وجہ سے براہ راست مارشل لاء یا فوجی راج نافذ کرنا ممکن نہیں رہا تھا… مگر 2018ء تیزی سے قریب آ رہا تھا … سینیٹ کے 52 ارکان کا چناؤ اور قومی انتخابات سر پر کھڑے تھے… نواز کی دونوں میں کامیابی کی پیش گوئیاں زبان زد عام تھیں… چنانچہ پہلے باغی سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو موسیٰ کی طرح اپنے گھر میں پلا تھا کرپشن کے غیر ثابت شدہ الزامات کے تحت سخت معاندانہ فضا تیار کی گئی… پانامہ، پانامہ ہو گئی… اس مقصد کے لیے بنائی گئی ’جے آئی ٹی‘ کو کوئی ثبوت نہ ملا تو اقامہ کا بھونڈا سہارا لیا گیا… نواز کو گھر بھیج دیا گیا مگر اس کی عوامی مقبولیت اور اسمبلیوں میں جماعت کی وحدت میں کمی نہ آئی… چنانچہ سینیٹ کے ایوان بالا کو اپنی مٹھی میں لینے کی خاطر بلوچستان اسمبلی کے اندر منفرد نوعیت کا سرجیکل آپریشن شروع ہوا… پہلے مرحلے پر محلاتی سازشوں کو فروغ دے کر وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرائی گئی… حالانکہ عام حالات میں اس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا… ساڑے چار ماہ کے اندر عام انتخابات ہونے والے تھے… آئینی اور جمہوری عمل کے تحت وفاق اور باقی صوبوں کی مانند بلوچستان کی حکومت بھی خاتمے کے قریب تھی وزیراعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری اور ان کے ارکان کابینہ کو یکم جون تک بوریا بستر لپیٹ لینا تھا… موجودہ اسمبلی کا وجود بھی باقی نہیں رہنا تھا… اس موقع پر وزیراعلیٰ کی حکومت کے خاتمے کے لیے قرار داد لا کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ایک بے معنی عمل سے زیادہ درجہ نہ رکھتا تھا… لیکن مقصود کچھ اور تھا… باغی اراکین میں سے ایسے نوجوان کو صوبائی حکومت کے اعلیٰ منصب پر لا بٹھایا گیا جس کی اپنی جماعت کے اسمبلی میں کل چھ اراکین تھے اور وہ خود بھی پانچ سو عوامی ووٹ لے کر ایوان میں پہنچا تھا… ضرورت ایسے آدمی کی تھی جو سیاسی کمر میں ریڑھ کی ہڈی نہ رکھتا ہو… جیسے اور جب چاہے مروڑ لیا جائے… سو عبدالقدوس بزنجو صاحب نئے وزیراعلیٰ بن گئے… معاً بعد سینیٹ کے لیے 52 ارکان کے چناؤ کا مرحلہ در پیش تھا… اس راہ کو آسان بنانے کے لیے سپریم کورٹ کا تازہ ترین فیصلہ کام آیا جس کے تحت نا اہل سابق وزیراعظم کی جماعت کے امیدوار اپنی پارٹی کا انتخابی نشان استعمال نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کی نامزدگی کا فیصلہ برطرف ہونے والے نواز شریف کی زیر صدارت ہوا تھا… یہ سب آزاد امیدواروں کے طو رپر میدان میں اترنے پر مجبور ہوئے… ایک نے اپنی وفا داری تبدیل نہ کی… دوسری جانب حریف جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو روایتی انتخابی گھوڑوں کی خرید و فروخت کی کھلی چھٹی تھی… ضمیر خریدے بھی گئے اور بیچے بھی گئے… عمران خان کی جماعت نے زرداری صاحب پر الزام لگایا انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کے درجن بھر اراکین اسمبلی کا سودا کیا ہے… کراچی میں ایم کیو ایم بھی نوحہ کناں ہوئی… پیپلزپارٹی کے سربراہ کے مال و زر نے اس کے یہاں بھی نقب لگائی ہے… ادھر لاہور میں پی ٹی آئی کے چودھری سرور کو جس انداز سے ووٹ ملے اس پر بھی سوال اٹھے… اس سب کے باوجود نواز کی مسلم
لیگ واحد بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری تو ارض پاکستان کے ناخداؤں کا ماتھا پھر ٹھنکا… طے پایا سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمینوں کے عہدے واحد اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کی جھولی میں ہرگز نہیں گرنے دیے جائیں گے…اوپر والوں کے خفیہ ہاتھ نے کرشمہ دکھایا… عمران خان اور زرداری صاحب جیسے صبح شام ایک دوسرے کی مذمت بلکہ سیاسی گالیاں دینے میں آخری حد تک چلے جانے والے لیڈروں کے درمیان ایک دم اتحاد وجود میں آگیا… صادق سنجرانی صاحب جیسے غیر معروف سینیٹر کو چیئرمین اور وائس چیئرمین کا عہدہ پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والو کو دے کر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو شکست دینے کی خاطر آگ اور پانی کا ملاپ ہو گیا… باقیوں کے سودے ہوئے یا رعب ڈالا گیا… واحد اکثریتی جماعت عملاً اقلیت میں تبدیل ہو کر رہ گئی…ایک معتبر تبصرہ نگار نے لکھا ہے ’’سینٹ چیئرمین کے لیے پولنگ سے پہلے تک حکمران اتحاد کے پاس اپوزیشن 50 سینیٹرز کے مقابلے میں 52 کی اکثریت تھی… لیکن جب بیلٹ بکس کھلے تو حکمران اتحاد بڑے مارجن سے ہار چکا تھا… اور یہ کہ بیلٹ بکس کھلنے پر ووٹوں کی تعداد تبدیل کیوں تھی‘‘۔
یوں پارلیمنٹ کا ایوان بالا اپنے دامن پر بدنامی کے کئی داغ لگوا کر ہماری کشتی کے ناخداؤں کی مٹھی میں آ گیا ہے… مرضی کے نتائج حاصل کرنے کا ایک ’’کامیاب‘‘ تجربہ کر لیا گیا ہے… کیا یہ ساری مشق یا کارروائی آنے والے عام قومی انتخابات کے لیے ٹریلر کا کام دے گی… وہاں بھی امکانی اکثریت کو اقلیت کو بدل کر رکھ دینے کی نت نئی تدابیر اختیار کی جائیں گی… حسب منشا نتائج حاصل کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جائیں گے… ایک آپشن یہ ہے حالات کی سنگینی کو جواز بنا کر سپریم کورٹ کا فیصلہ حاصل کر کے نگران انتظامیہ کی جگہ ’’غیر جانبدار‘‘ یا ماہرین (ٹیکنو کریٹس) پر مشتمل دو یا تین سال کے لیے عبوری حکومت قائم کر دی جائے… یہ سب مرضی کے لوگ ہوں گے… ان کے نام صادق سنجرانی صاحب کی مانند پردہ غیب سے نمودار ہوں گے… اس کے بعد جب ’’ناپسندیدہ‘‘ سیاستدانوں کی مکمل طور پر صفائی کر دی جائے گی تو عام انتخابات کا شیڈول طے کیا جائے گا… دو برس لگ سکتے ہیں تین بھی… ضرورت محسوس کی گئی تو اس سے بھی زیادہ مگر یہ تجربہ پہلے دہرایا گیا… ناکام ہوا… ’پہلے احتساب پھر انتخاب‘ کا نعرہ کئی مرتبہ لگا… ڈکٹیٹروں نے اسے اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ایک سے زائد بار آزمایا… حاصل ماسوائے پھڑ پھڑاتی جمہوریت کو دبوچ کر رکھ دینے کے کچھ نہ ہوا… بعد میں اس نوعیت کے عارضی یا عبوری نظام کو بنگلہ دیش ماڈل کے نام سے شہرت ملی… کیونکہ وہاں اس کا باقاعدہ اور عملی تجربہ کیا گیا… بری طرح ناکام ہوا… اب اس ملک میں کوئی اس کا نام لینا گوارا نہیں کرتا لیکن خود کو پاکستان کی قسمت کا اصل مالک سمجھنے والوں کو یہ تصور بہت بھاتا ہے… اس لیے کہ اس طرح کی عبوری حکومت میں شامل جو بھی فرد ہو گا پروٹوکول والی نوکری کی خاطر ان کی اشیر باد کا محتاج ہو گا… اس کی چوکھٹ پر سر جھکا دینے کو اپنے کیریئر کی معراج سمجھ کر ہر دم وفاداری کا یقین دلاتا اور احکام بجا لاتا رہے گا… یہ تجربہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ناکامی کا منہ دیکھ چکا ہے… ساکھ اس کی باقی نہیں رہی… لہٰذا اسے لوگوں کے گلوں کے نیچے اتارنا چنداں آسان نہ ہو گا… اس کے آغاز کے ساتھ ہی ناکامی کی پیش گوئیاں شروع ہو جائیں گی۔
ایک اور ’’آپشن‘‘ بھی زندہ و متحرک ہے… نواز شریف کو انتخابات سے قبل پانامہ مقدمات میں سے کسی ایک پر جیل ہو سکتی ہے… اور مریم کو بھی کہ باپ کے ساتھ مل کر اور اپنے طور پر بڑے جلسے اور تیکھی تقریریں کر رہی ہے حوالہ زندان کیا جا سکتا ہے… باقی رہ گئے ترقیاتی منصوبوں پر فخر کرنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف جو مسلم لیگ نواز کے نئے نئے صدر بنے ہیں… ان کے خلاف بھی ایک سے زیادہ مقدمات کھل چکے ہیں… ان کے قابل اعتماد بیورو کریٹ افسر احد چیمہ کو نشانہ عبرت بنایا جا رہا ہے لہٰذا چھوٹے بھائی کا علاج بھی دور کی بات نہیں انتخابی عمل کے آغاز سے پہلے اگر پورا شریف خاندان ’’مہمان‘‘ بنا لیا گیا تو چنداں تعجب کی بات نہ ہو گی… اس ماحول میں مسلم لیگ (ن) کو بحیثیت جماعت کھلی ’آزادی‘ ہو گی جیسے چاہے انتخابات میں اپنے امیدواروں کی فوج ظفر موج سمیت حصہ لے… لیکن یہاں بھی ایک قدغن لگ سکتی ہے… سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے کا نزول ہو سکتا ہے… نااہل اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھی قیادت کی جماعت کے امیدواروں کو اخلاقی طور پر چناؤ میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں وہ چاہیں تو آزاد حیثیت سے اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں… جیسا کہ سینٹ کے چنائو میں ہوا… لیجیے مرضی کے نتائج کے حصول کا پورا سامان ہو گیا… اس کے بعد جیسی بھی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی معلق (Hung) ہو گی… اس کی باگیں ’’ہمارے‘‘ ہاتھوں میں ہوں گی… وہاں سے منتخب ہونے والا وزیراعظم تعلق اس کا خواہ کسی بھی جماعت سے ہو فی الحقیقت ’’ہمارا‘‘ کٹھ پتلی بن کر رہے گا… پارلیمنٹ داغدار ہو گی… اس کی نمائندہ جمہوری اور آئینی حیثیت پر کئی سوال اٹھتے رہیں گے… ساکھ کی مالک نہ ہو گی… ہم جو قانون چاہے اس سے منظور کرا سکیں گے… مارشل لاء لگائے بغیر اس کے مزے لوٹیں گے… ایک زرداری سب پہ بھاری کا ’’کمال فن‘‘ ملاحظہ فرمائیے سینیٹ چیئرمین شپ کی محفوظ نشست ’اوپر‘ والوں کی چوکھٹ پر قربان کر دی…اس ماحول میں نواز شریف جیل کے اندر یا باہر ووٹ کی حرمت یا عزت کا جتنا مرضی واویلا مچائے خداوندان ریاست پاکستان کا کتنا کچھ بگاڑ لے گا۔


ای پیپر