تھوڑا انتظار…
14 مارچ 2018

یہ بحث بعد میں کہ سینیٹ آف پاکستان کے حالیہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے الیکشن میں کون جیتا۔اس تجزیہ نگاری سے اب کچھ حاصل نہیں ہو گا۔البتہ یہ بحث دلچسپ ہو گی کہ اس گیم میں جو کئی ماہ سے جاری تھی اس میں کون ہارا۔کیا وہ فریق جو بظاہر ہار گیا یا پھر وہ پارٹی جو فتح کے جشن منا رہی ہے۔اس سے بھی اہم تر وہ سوالات ہیں جولمحہ رواں کے بطن سے پھوٹے۔گزرتے وقت کے پوچھے گئے سوالوں کا جواب مستقبل دے گا۔وہ جوابات کتنے درست ہیں کتنے غلط اس کا فیصلہ تاریخ کا محتسب کرے گا۔
سینیٹ کا حالیہ الیکشن اور اس سے جڑے گزشتہ چند ماہ کے واقعات کا تسلسل دیکھا جائے بظاہر کچھ بھی غیر آئینی،غیر قانونی نظر نہیں آتا۔جو کچھ ہوا وہ پراسس طریق کا رقواعدو ضوابط کے مطابق ہوا۔اگرقارئین بوریت محسوس نہ کریں تو دو اڑھائی ماہ پہلے کے ماحول میں چلتے ہیں۔جب سینیٹ کے انتخابات سے قبل ان کے انعقاد کے متعلق دلوں میں وسوسوں کے بیج بوئے جا رہے تھے۔ خدشہ کیا تھا۔بس جی الیکشن نہیں ہونگے۔کیوں؟خدشہ ہے مسلم لیگ(ن) کی سینیٹ میں اکثریت ہو جائے گی۔وہ اپنا چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین سینیٹ لائے گی۔اپنی مرضی کی قانون سازی کرے گی۔سادہ ذہن قلمکار نے سوال پوچھا چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین اپنا منتخب ہو جائے تو کیا صرف دو بندے آئینی ترمیم کر سکتے ہیں۔جواب ندارد، پوچھا آئینی ترمیم کیلئے تو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔اب تو تشریح کار بھی بیٹھے ہیں پھر بھی جواب نہ ملا۔جواب ہوتا تو ملتا۔پھر سوال پوچھا اگر مسلم لیگ(ن) کی اکثریت ایوان بالا میں ہو جائے گی تو کون سی قیامت آ جائے گی۔فوری طور پر جواب آیا،سیاسی طور پر بیلنس بھی تو رکھنا ہے۔جواب سمجھ نہ آیا۔چند ماہ بعد قومی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔کیا ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں پھر وہی اکثریت میں آئے جو آج ہے۔ان کا راستہ روکنے کے سارے انتظام تو ہو چکے۔جواب آیا ابھی بھی کام نہیں بنا۔کل کیا ہو کو ن جانے۔ پھر نیا مباحثہ شروع ہوا۔بذریعہ ٹی وی سکرین۔بوساطت ہر فن مولا اینکر طبقہ الیکٹورل کالج ٹوٹ جائے گا۔کوئی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔صاف نظر آرہا تھا سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) جیت کے بآسانی 40 کے ہندسے تک پہنچ پائے گی۔لیکن با خبر حلقے کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔آصف زرداری صاحب نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو
اکثریت لینے دینگے نہ چیئر مین سینیٹ ان کا بنے گا۔کچھ روز بعد عمران خان بھی لپک کر اسی صفحہ پر پہنچے اور اسی مشن کو ایڈاپٹ کر لیا۔چند ہی روز بعد اچانک بلوچستان سے چپقلش پر مبنی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔اچانک ادھورے ترقیاتی کام یاد آ گئے۔بلو چستان کے حقوق کا آموختہ پڑھا جانے لگا۔چند روز بعد ساری صوبائی کا بینہ نے بغاوت کر دی۔ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی۔جو خود ثناء اللہ زہری کی کابینہ میں موجود تھے۔کچھ روز یہ تھیٹر چلتا رہا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی بلوچستان پہنچے لیکن انجام کار وہی ہوا۔جوڈیزائن کیا گیا تھا۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔چیف منسٹر تبدیل ہوا باقی ساری کابینہ ایک مرتبہ غیر جھنڈا برداربن گئی۔جو کچھ بھی ہوا اس میں کچھ بھی غیر قانونی غیر آئینی نہ تھا۔کوئی کہے بھی تو کیا۔آگے چلتے ہیں ایک روز بلوچستان کی ساری صوبائی کابینہ بلاول ہاؤس کھانے پر پہنچی۔پلان بی تیار ہوا۔سادہ ذہن حیران تھے۔ایسی پارٹی جس کے پاس صوبائی اسمبلی میں کوئی سیٹ نہیں وہ کیسے بلوچستان سے سیٹ جیتے گی۔پیپلز پارٹی سندھ کے سوا اور کے پی سے ایک آدھ سیٹ کے ایوان بالا سے کیسے نشستیں لے گی۔ہم سادہ لوگوں کو ایسی پیچیدگیوں کا پتا ہوتا تو پھر قلم کلرکی کرتے۔کون جانتا تھا کہ آزادی کیسی نعمت ہے۔آزاد امید وار کے طور پر جیتنا بھی تو ممکن ہے۔ماضی میں ایک آدھ سیٹ آزاد منش امیدوار جیت جایا کرتے تھے۔اس مرتبہ تو پلان کچھ اور تھا۔پیپلز پارٹی نے سندھ سے بھر پور مینڈیٹ لیا۔ایم کیو ایم کے حصے بخرے ہوئے۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی سے غیر رسمی الائنس ہوا۔چوہدری سرور کو مسلم لیگ(ق) کے تعاون سے سیٹ ملی۔جوابی طور پر پی ٹی آئی نے بھی پیپلز پارٹی کو دو نشستیں کے پی میں بطور زر تلافی دیں۔سینیٹ کا الیکشن ہوا۔کپتان نے ووٹ بیچنے والوں پر خوب لعن طعن کی۔کچھ روز گرجے،برسے پھر خاموش ہو گئے۔ہارس ٹریڈنگ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ بھول گئے۔کیونکہ جو کچھ ہوا وہ ملی بھگت اور پلان بی کا حصہ تھا۔ہاں البتہ مشن پوری طرح مکمل ہوا۔مسلم لیگ سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی۔آخر کار تیسرا اور آخری مرحلہ آ گیا۔مسلم لیگ کے پاس اب بھی چیئر مین سینیٹ کے لیے مطلوبہ اکثریت تھی۔لیکن نواز شریف کا خیال تھا کہ افہام و تفہیم سے کا م لیا جائے۔لہٰذا رضا ربانی کا نام تجویز کر دیا گیا۔ان کو کیا معلوم تھا کہ صاف انکار ہو جائے گا۔اس مرتبہ تو جناب چیئر مین آصف زرداری رضا ربانی کو سینیٹ کا ٹکٹ بھی دینے کیلئے تیار نہ تھے۔وہ تو بلاول کی ضد آڑے آئی۔ورنہ وہ بھی سابق ہو چکے ہوتے۔سینیٹ کے چیئرمین ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کیلئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو فوکل پرسن بنایا گیا۔آصف زرداری نے اپنے 20 ووٹ تھیلے میں ڈالے۔بوساطت ڈاکٹر قیوم سومرو کوئٹہ روانہ کر دیے۔اگلے روز عمران خان نے اپنے تیرہ ووٹ پلیٹ میں رکھے اور آزاد گروپ کے حوالے کر دیے۔پیچھے پیچھے ایم کیو ایم فاٹا بعض دیگر چلے آئے۔مسافر اکٹھے ہوتے رہے کارواں بنتا گیا۔ مسلم لیگ (ن)اس کے باوجود میدان میں رہی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ مات ہو چکی۔راجہ ظفر الحق کی نامزدگی کامطلب تھا کہ وہ یہ جنگ جیتنے کیلئے نہیں لڑ رہی۔ سینیٹ کا الیکشن ختم ہو چکا۔تاریخ اس بات کا تجزیہ ضرور کرے گی کہ پیپلز پارٹی نے گھر آئی چیئر مین شپ کیوں ٹھکرا ئی۔شاید اس لیے کہ اب چیئر مین بھی ان کا اور ڈپٹی چیئر مین بھی جیالا۔جو بساط آصف زرداری نے سجائی تھی اس میں وہ کامیاب رہے۔اخلاقی شکست ہوئی تو پی ٹی آئی کی۔جس نے اپنی بائیس سالہ جدو جہد کو داخل دفتر کر دیا۔اس کو جوائن کر لیا جس کو سب سے بڑی بیماری قرار دیا۔اگلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ الائنس آگے بڑھے گا اس جواب کیلئے کچھ روز انتظار کریں۔


ای پیپر