صادق سنجرانی کی فتح اور 2018ء کے انتخابات
14 مارچ 2018 2018-03-14

تمام تر پیش گوئیوں کے برعکس سینیٹ میں حزب اختلاف کے امیدوار صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ ظفر الحق محض 46 ووٹ لے سکے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ بہت سخت اور قریبی مقابلہ ہوگا اور چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ ایک دو ووٹوں کی اکثریت سے ہوگا۔ مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ صادق سنجرانی 11 ووٹوں کی برتری سے یہ انتخاب جیت گئے۔
صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ بن گئے ہیں۔ اس سے پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کوئی سینیٹر چیئرمین منتخب نہیں ہوا تھا۔ اس طرح پاکستانی جمہوریت نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔ صادق سنجرانی اور ان کے حامیوں کو یہ کامیابی مبارک ہو۔ سینیٹ کے انتخاب کا عوام کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ عوام کے شعور،امنگوں اور جذبات کا آئینہ دار اور عکاس ہوتا ہے۔سینیٹ کی جنگ دراصل پاکستانی اشرافیہ کی باہمی لڑائی ہوتی ہے۔ یہ اس عددی قوت کا اظہار ہوتی ہے جو کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پاس موجود ہوتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے نتائج نے یہ واضح کردیا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس سینیٹ میں اکثریت موجود نہیں اور ابھی تک حزب مخالف کاپلڑا بھاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے اور چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ مسلم لیگ (ن) والے اس صورتحال کا ذمہ دار مقتدر حلقوں کو قرار دے کر دل کی بھڑاس نکالیں یا اپنے پسندیدہ ہدف آصف زرداری کو نشانہ بنائیں مگر اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ مجھے تو ان تجزیہ نگاروں اور ماہرین پر حیرت ہوتی ہے جو بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے تاش کے پتوں کی طرح بکھرنے کے باوجود یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروالے گی۔ اگر یہی ہونا تھا تو پھر اتنی بھاگ دوڑ اور محنت کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے حیرت تو اس بات کی ہے کہ جس سیاست میں اصولوں ، نظریات اور اخلاقیات کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس کے نتائج عوام پر کیسے مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
اشرافیہ کی سیاست کا ایک اور مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ اب سیاسی اشرافیہ اپنی تمام تر توجہ اگلے عام انتخابات پر مرکوز کرے گی۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے جو جوڑ توڑ ہوا اس کے نتیجے میں اگلا سیاسی منظر نامہ بہت حد تک واضح ہوگیا ہے۔ سیاسی صف بندی اب واضح ہوتی جارہی ہے۔ اگلے دو ماہ میں صورت حال مزید بہتر ہوجائے گی۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے مل کر مسلم لیگ(ن) کا راستہ روکا۔ ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے ایک بار پھر گونج رہے ہیں۔ عمران خان مباکباد وصول کر رہے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کا بول بالا کیا ہے اور غیر جمہوری قوتوں کو شکست دی ہے۔ سینیٹ کے انتخاب میں مافیا کی شکست کے جس عمل کا آغاز ہوا ہے وہ اسے آگے بڑھاتے ہوئے عام انتخابات میں بھی اس مافیا کو شکست دے کر جمہوریت اور عوام کا بول بالا کریں گے۔
سینیٹ کے انتخابات سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ بالآخر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف اتحاد بنا لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اس اتحاد سے ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اسی طرح کے اتحاد وہ پیپلزپارٹی کے خلاف بنایا کرتی تھی اور جس طرح اس وقت دونوں جماعتیں یہ سب کچھ اپنے اعلیٰ اور ارفع اصولوں، نظریات اور فکر کے تحت کر رہی ہیں اسی طرح کی سیاست مسلم لیگ (ن) بھی کیا کرتی تھی۔
ہر سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سیاسی حقائق کے مطابق اپنی حکمت عملی اور لائحہ عمل تشکیل دے۔ ہر سیاسی جماعت کا یہ حق ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اس نے مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر اور ہم آہنگ ہو کر سیاست کرنی ہے یا ان کے خلاف سیاست کرنی ہے۔ ان کے زیر سایہ رہنا ہے یا آزادی سے فیصلے کرنے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کو یہ فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب سیاسی اشرافیہ اپنے مفادات اور طاقت کے کھیل کے فیصلوں کو جمہوریت کی سر بلندی اور عوام کی فتح قرار دیتی ہے۔ ہماری سیاست کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ سیاسی رہنما اپنے دکھوں، زخموں اور تکالیف کو تو سیاسی بیانئے کا حصہ بناتے ہیں مگر 70سالوں سے سسکتے، ظلم سہتے ، قدم قدم پر اس نظام کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے عوام سیاسی اشرافیہ کے بیانئے کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے دکھ ، درد ، تکالیف اور مشکلات ان کے سیاسی بیانئے کا حصہ نہیں ہیں۔ سیاسی اشرافیہ کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں ہے کہ غریب عوام کو صحت اور تعلیم مل رہی ہے یا نہیں۔ انہیں روز گار دستیاب ہے یا نہیں۔ ان کی سیاست کا محور اور مرکز مفادات اور طاقت کا حصول ہے۔ طاقت اور مفادات کے حصول میں ہماری سیاسی اشرافیہ کسی نظریئے ، اصول اور اخلاقیات کو حائل نہیں ہونے دیتی۔
ہر جماعت اورقیادت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سیاست کا رخ متعین کرے مگر یہ سب کچھ عوام اور جمہوریت کے نام پر نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس سے نہ تو جمہوریت کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کو۔ سینیٹ کے نتائج نے دو چیزیں واضح کردی ہیں کہ عام انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ جبکہ عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کو روکنے کے لئے اتحاد کے نام پر ایک ملغوبہ وجود میں آئے گا۔ یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم عمران خان بن جائیں یا پھر بلوچستان سے ایک اور آزاد گروپ وجود میں آئے اور وزارت عظمیٰ لے اڑے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آصف زرداری کا کوئی ذاتی دوست اور خیر خواہ وزیراعظم بن جائے اور اک زرداری ایک بار پھر سب پر بھاری پڑے۔
ایک بات بہت واضح ہے کہ نوازشریف کے خلاف چلنے والے نیب ریفرنس پر فیصلے عام انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے آئیں گے۔ اس وقت انتخابی مہم اپنے عروج پر ہوگی۔ اگر نوازشریف کو سزا ہوگئی تو مسلم لیگ(ن) پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے نوازشریف بچ نکلے تو پھر زور کا رن پڑے گا۔ مگر اس کے امکانات بہت کم ہیں۔
یہ بات بہت واضح ہوتی جارہی ہے کہ اگلے عام انتخابات کاہدف مسلم لیگ(ن) ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اگلے انتخابات کے بعد اس تکلیف اور دکھ کا احساس ہو جس سے وہ تمام جماعتیں دو چار ہوتی رہی ہیں جو مقتدر قوتوں کے بیانیے اور مقاصد کے راستے میں حائل ہوتی رہی ہیں یا پھر ان کی جگہ نہیں بنتی۔


ای پیپر