معاشرتی عدم برداشت : خطرے کی گھنٹی

14 مارچ 2018

چوہدری فرخ شہزاد

لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے پروگرام میں میاں نواز شریف کی آمد پر پیش آنے والے توہین آمیز واقعہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اس سے ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی عدم برداشت ، انتہاء پسندی اور پرامن بقائے باہمی کے فقدان کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ جو کچھ ہوا ہے یہ ہونا ہی تھا اور اس طرح کے واقعات آئندہ بھی ہوں گے کیونکہ اختلافات رائے کے احترام کا پیمانہ ٹوٹ چکا ہے۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بڑی فکر سے الجھائی ہے
جس تواتر کے ساتھ ٹی وی ٹاک شوز کے اندر اینکر پرسن اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے سیاستدانوں کو لڑاتے آ رہے ہیں یہ اس کا نقطہ کمال ہے اس میں ہم کلی طور پر میڈیا کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ سیاستدان اتنے معصوم اور سادہ نہیں ہیں کہ وہ ایک اینکر کے اشتعال دلانے پر اپنے مخالف کی ایسی تیسی کر دیں۔ یہاں تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کے فلور پر ایک وزیر نے اپوزیشن کی ایک خاتون رکن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے مگر اسے سزا نہیں دی گئی۔ ایک حکومتی رکن قومی اسمبلی نے ایوان کے کاریڈور میں مخالف جماعت کے رکن کی بہن کے بارے میں انتہائی گھٹیا الزام لگا دیا مگر کچھ نہیں ہوا۔ نواز شریف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے ایک دن پہلے رانا ثناء اللہ ٹی وی پر کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس پنکی پیرنی نہیں ہے اس لئے ہم پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ قبل ازیں فیصل آباد سے ایک اور حکمران جماعت کے رکن میاں عبدالمنان بھی ایسی ہی نفرت انگیز بات کر چکے ہیں ۔ اتفاق کی بات ہے کہ ن لیگ کے فیصل آباد ہی سے تعلق رکھنے والے ایک اور وزیر طلال چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ ہم پانچ سال کی کارکردگی کی بنیاد پر اور تحریک انصاف پانچ بچوں کی ماں سے شادی کی بناء پر عوام میں 2010ء کے لئے ووٹ مانگنے جا رہے ہیں اتنے زہر آلود اور نفرت انگیز بیانات کے بعد اور ٹی وی چینلوں پر روزانہ بنیادوں پر جاری طوفان بدتمیزی کی خاموش حوصلہ افزائی کے بعد اگر دیکھا جائے تو یہ واقعہ خطرے کی ایک ایسی گھنٹی ہے جس کا سدباب نہایت ضروری ہے۔
حکمران جماعت نے کچھ عرصہ پہلے اپوزیشن لیڈر شیخ رشید کو بے عزت کرانے کے لئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک کارکن کو تیار کیا جس نے شیخ صاحب پر کیچڑ اچھالا اور جسمانی طور پر ان پر دست درازی بھی کی جس پر ن لیگی قیادت کافی لطف اندوز ہوتی رہی۔ یہ ایک لمحۂ فکرہے۔
یہاں پر ہمیں اس واقعہ کو ایک اور زاویے سے دیکھنا ہو گا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے اپنی ایک ملازمہ کے ساتھ خفیہ معاشقہ کی ایک ویڈیو فوٹیج امریکی میڈیا کے ہاتھ آ گئی جس کی بناء پر کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ میڈیا نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ مونیکا لیونسکی کا بوسہ لینے کے 5 سیکنڈ سے کم اس منظر کو انہوں نے لاکھوں دفعہ دنیا بھر کے سامنے نشر کیا جبکہ یہ صرف ایک واقعہ تھا۔ یہی حال پاکستانی میڈیا کا ہے نوا زشریف کے ساتھ جو ناروا سلوک ہوا وہ ایک سیکنڈ کا واقعہ تھا مگر میڈیا نے اسے دنیا بھر میں ملین مرتبہ چلا کر میاں صاحب کے لئے توہین اور بے عزتی کا سامان فراہم کر دیا۔ وہ یہ بھی کر سکتے تھے کہ جامعہ نعیمیہ کی خبر کی کوریج کے دوران رپورٹرز سے اتنا کہلوا دیتے کہ نواز شریف کی تقریر کے دوران ایک شخص نے ان کی جانب کوئی چیز اچھال دی جس بدنظمی پر اسے انتظامیہ نے پکڑ لیا۔ خبر نشر کرنا بری بات نہیں ہے مگر اسے مزے لے لے کر بار بار چلانا اور چیخ چیخ کر اس کی کمنٹری کرنا افسوسناک ہے۔
اس طرح کے واقعات ہماری سیاست میں ایک نئے اور تاریک باب کا اضافہ ہیں جس کے معاشرے پر برے اثرات مرتب ہوں گے جس سے کسی کی عزت اور پگڑی محفوظ نہیں رہے گی۔ لاہور میں اس واقعہ کے فوراً بعد فیصل آباد میں عمران خان کے جلسے میں ایک شخص نے ان پر جوتا پھینکنے کی ناکام کوشش کی جسے پکڑ لیا گیا۔ اس نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے رانا ثناء اللہ کے داماد شہریار رانا نے بھیجا تھا کہ عمران خان کو جوتا مارنا ہے۔ یہ ایک منفی روش چل پڑی ہے جس کی ظاہری طور پر تو ہرطرف سے مذمت کی جا رہی ہے لیکن اندر سے مخالفین خوش ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی منافقت کی عکاسی ہے۔ نواز شریف چونکہ عوام سے ملنے والی پذیرائی کو عوام کی عدالت کا فیصلہ قرار دیتے تھے لہٰذا ان کے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی عوام کی عدالت کا فیصلہ ہے اسے بھی مقبول کیا جائے۔ حالانکہ ایک شخص کے فعل کا موازنہ ایک لاکھ افراد سے نہیں کیا جا سکتا۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ عدم برداشت کا سب سے زیادہ شکار ہمارے مذہبی طبقوں کے افراد ہیں۔ حالیہ واقعہ بھی ایک مذہبی ادارے کے رکن کی جانب سے پیش آیا ہے جو کہ ختم نبوتؐ کے حلف میں ترمیم پر نواز شریف سے نالاں تھا۔ سننے میں آ رہا ہے کہ جامعہ نعیمیہ کے کچھ سکالرز اور علماء نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا جس کی وجہ بھی ن لیگ کی ختم نبوتؐ پر اختیار کی گئی ترمیم تھی جو بعد ازاں واپس لی گئی۔ ابھی تک تو اس واقعہ کو مخالفین انٹرٹیمنٹ کے طور پر لے رہے ہیں لیکن اگر اسے ختم نبوتؐ سے جوڑ دیا گیا تو یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ میڈیا اور سیاستدان اس معاملے میں بال کی کھال اتارنے سے گریز کریں۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو ایک دفعہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں گئے تو کچھ خواتین نے انہیں اپنے جوتے دکھائے۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ جوتا دکھانا ہی جوتا مارنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ بھٹو صاحب اندر سے سمجھ گئے کہ معاملہ کیا ہے مگر وہ سیاسی ذہن کے مالک تھے انہوں نے بات بدلتے ہوئے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ آپ لوگ جوتوں کی بڑھتی ہوئی قیمت پر احتجاج کر رہی ہیں اگر پیپلز پارٹی برسراقتدار آ گئی تو ہم آپ کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے قیمتوں میں کمی لائیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ خصوصاً محترمہ مریم نواز شریف اپنے والد کی شان و شوکت کو جس حد تک لے جا رہی ہیں اس سے بھی عام پبلک میں بے چینی کی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ میاں صاحب کی وزیر اعظم کے عہدے سے برخاستگی اور پارٹی صدارت سے محرومی کے بعد اب انہیں قائد کا اعزاز بخشا گیا ہے تا کہ ان کے رتبے کو قائداعظم کے قریب لایا جا سکے۔ کل کے واقعہ کے بعد مریم بی بی نے انہیں قوم کا باپ بھی کہہ دیا بلکہ مخالفانہ رویوں کو حضرت محمدؐ کی کفار سے تکالیف کے مشابہ قرار دیا جو کہ غلط بھی ہے اور مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش ہے۔ جس کا ردعمل یہ ہوا ہے کہ عوام کو میاں صاحب کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی چھوٹی لگنے لگی ہے۔ میاں صاحب کے بریگیڈ میں خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق، طلال چوہدری ، عابد شیر علی اور دانیال عزیز اور مشاہد حسین جیسے جو ڈائمنڈ موجود ہیں ان کی تقاریر اور بیانات پر غور کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عدم برداشت کا جو سلسلہ عوامی طور پر شروع ہوا ہے اس کے تھمنے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ
Those who make peaceful revolution impossible make the violent revolution inevitable
جو لوگ پرامن انقلاب کو ناممکن بناتے ہیں وہ پرتشدد انقلاب کی راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ ن لیگ والے نواز شریف کو اہرام مصر جیسا دیوتا بنا کر پیش کریں گے تو ردعمل تو آئے گا۔ اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں اور عدم برداشت کے سیلاب کا راستہ روکیں۔ اس معاملے میں پاکستان عالمی طور پر پہلے ہی سپرپاورز کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔

مزیدخبریں