14 مارچ 2018

کیا ذہین دماغ کسی قوم یا مذہب کی میراث ہوتا ہے ، کیا آپ مقویات ، روغنیات ، بادام ، پستے استعمال کر کے جینیئس ہو سکتے ہیں ؟ کیسے ہر پیدا ہونے والا انسان دوسروں سے مختلف ہوتا ہے اور کیا وجہ ہے کہ ایک انسان چار گھنٹے کام کر کے اتنا کماتا ہے جتنا سینکڑوں مزدور 18گھنٹے شدید محنت کر کے نہیں کما پاتے اور کیا اب یہ ثابت نہیں ہو چکا کہ ہر انسان دماغی اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی اعلیٰ دماغی کا تعلق اس کے مذہب ، اس کے خاندان ، اس کے ماحول سے نہیں ہوتا بلکہ جینئیس انسان دنیا کے کسی بھی کونے ، محل یا جھونپڑی میں کسی بھی وقت پیدا ہو سکتا ہے۔ اس دنیا کی آبادی اس وقت 7ارب کے قریب ہے جس میں بسنے والے یہ تقریباً سات ارب لوگ الگ شکلیں ، الگ دماغ لیکر پیدا ہوئے ہیں۔ ان سات ارب لوگوں کا سچ مختلف ہے اور ان کے دماغ بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ لیکن آزاد قومیں ، یا جن کو ہم درحقیقت قوم کہہ سکتے ہیں ان کا اپنے معاشرے میں پیدا ہونے والے ان دماغوں ، ان جینئیس کے ساتھ سلوک کیسا ہوتا ہے؟۔ وہ ان اعلیٰ دماغوںکو کس طریقے سے عزت و تکریم دیتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو اس کائنات کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کیلئے کیسے کوشاں رہتے ہیں اور کیسے ان کی ذاتیات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
آئن سٹائن کے بعد انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسدان اور سب سے بڑا دماغ سٹیفن ہاکنگ ہم میں نہیں رہا۔ سٹیفن ہاکنگ کی موت کی خبر ملی اور میرے دماغ نے دکھ کی ایک دبیز چادر اوڑھ لی ۔مجھے سٹیفن کے وہ الفاظ یاد آنے لگے جب اس نے کہا کہ ’’ایک موقع پر میرا یہ خیال تھا کہ میں فزکس کا اختتام دیکھ کر جائوںگاجیسا کہ ہم جانتے ہیں مگر اب میرا خیال ہے کہ دریافتوں کا یہ حیرت کدہ میرے جانے کے بعد بھی اپنا لمبا سفر جاری رکھے گا‘‘۔
سٹیفن ہاکنگ میرا پسندیدہ انسان تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اکثر دوستوں کی محفل میں یہ سوال کرتا تھا کہ سوچیں اگرسٹیفن ہاکنگ خدانخواستہ پاکستان میں پیدا ہوتا تو اس کا کیا حال ہوتا ، کیا وہ 76 سال کی عمر تک زندہ رہ پاتا ، جو انسان بول سکتا ہو نہ ہل سکتا ہو۔ اپنی گردن تک نہ ہلا سکتا ہو اس کے ساتھ پاکستان میں کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت تلخ سوال ہے جس کے جواب میں ہم لوگ آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی مذہب کی تھیوری نکال لیتا ہے ، کوئی مغرب کی ذہنی غلامی کا طعنہ دیتا ہے لیکن اس سوال کا جواب مجھے آج تک کوئی نہ دے سکا۔ میں اکثر اپنے دوستوں سے پوچھا کرتا کہ کیا سٹیفن داتا دربار کے باہر کسی کچرے کے ڈھیر پر نہ پڑا ہوتا۔ اور اگر اسے کوئی نرم اور حساس دل فیملی مل بھی جاتی تو کیا کوئی بھی اس کی ذہنی ذہانت کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ۔ کیا اس طرح کے لوگ ہم اکثر ٹوٹی ہوئی وہیل چیئرز پر چوکوں میں مانگتے ہوئے نہیں دیکھتے ؟
وہ ہر طرح سے ایک منفرد انسان تھا ۔1960ء میں 21سالہ سٹیفن اے ایل ایس نامی بیماری میں مبتلا ہوا۔یہ دنیا کا واحد مرض ہے جو آج بھی لاعلاج ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اسے 2سال میں مرجانا چاہیے تھا۔ اس بیماری میں پہلے سٹیفن کی انگلیاں مفلوج ہوئیں ، پھر ہاتھ ، بازو ، اس کا بالائی دھڑ ، پائوں ، ٹانگیں اور سارے جسم کے بعد آخر میں اس کی زبان بھی مفلوج ہوگئی ، اس کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اوردوبارہ کبھی سیدھی نہ ہوسکی۔ پاکستانی کلچر کے مطابق وہ ایک زندہ لاشے میں تبدیل ہو چکا تھا مگر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ وہ ایک معذور کی زندگی نہیں گزارے گا اور اپنے ذہن کو استعمال کرے گا۔ سٹیفن پورے جسم میں صرف اپنی پلکوں کو حرکت دے سکتا تھا اور امریکی قوم کو اس جینئیس کے دماغ کی ضرورت تھی ، درد مند سر جوڑ کر بیٹھے اور کیمبرج یونیورسٹی کے طلبا نے ہاکنگ کیلئے ایک بولنے والا کمپیوٹر بنایا۔ اس کمپیوٹر کا تعلق براہ راست اس کی پلکوں کی حرکت سے تھا ، سٹیفن اپنے خیالات کو پلکوں کے ذریعے مخصوص حرکت دیتا ، کمپیوٹر اس کی پلکوں کی حرکت کو ڈی کوڈ کرتا اور انہیں الفاظ کی شکل دے دیتا۔
پھر سٹیفن انسانی تاریخ کا وہ واحد انسان بن گیا جس نے صرف اپنی پلکوں کی مدد سے بے شمار کتابیں لکھیں۔ اس کی کتاب A Brief History of Time کو نیو یارک ٹائمز نمبر ون بیسٹ سیلر بک کا درجہ ملااور وہ 237ہفتے اس پوزیشن پر برقرار رہی۔ سٹیفن نے کائنات میں ایسا بلیک ہول دریافت کیا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لے رہے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ نے بتایاکہ بلیک ہول کے درمیان کیا ہوتا ہے۔ بلیک ہول جو کہ ہر چیز کو نگل جاتے ہیں حتی کہ روشنی بھی بلیک ہول کا کچھ نہیں بگا سکتی۔اگرآپ بلیک ہول کے درمیان میں سفر کریں تو آپ Singuralirty میں سفر کریں گے۔ Singulatiry میں بلیک ہول کا سارا مادہ ایک نقطے میں سماسکتا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے بتایا کہ خلا کہیں سے بھی خالی نہیں ، یہ ذرات اور مخالف ذرات سے بھری ہوئی ہے جو یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اسی وجہ سے ایک بلیک ہول کے کنارے سے ذرات بلیک ہولز میں گرتے ہیں اور دوسرے مخالف ذرات کو فرار ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس تھیوری کو ہاکنگ ریڈی ایشن کا نام دیا گیا۔ اس کے مطابق یہ ذرات آہستہ آہستہ بلیک ہول کو بھرتے رہتے ہیں ،یہ عمل صدیوں پر محیط ہوتا ہے اور آخر میں یہ ذرات ایک چھوٹے سے ذرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ ذرہ پھٹ جاتا ہے ، اس دھماکے کا اثر کروڑوں ایٹم بم جتنا ہوتا ہے۔اسی دھماکے کو بک بینگ کہا جاتا ہے جس کے بعد ایک بار پھر کائنات ، سیارے ، زندگی وجود میں آتے ہیں اور یہی ایک نئی کائنات کا آغاز ہوتا ہے۔
سٹیفن ہاکنگ ایک بھرپور زندگی گزار کر دنیا سے جا چکا ہے ،اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوا جہاں پر اس کی بیماری اس کی کمزوری نہ بن سکی ، اس کا ملحد ہونا اس کیلئے گالی اور نفرت کا سبب نہ بن سکا۔ تسلیم کہ ابھی ہم قوم بننے کے عمل سے گزر رہے ہیں ، ابھی ہم کسی وہیل چیئر پر بیٹھے انسان کو جینئیس تسلیم نہیںکر پائیں گے لیکن ہم ان تمام پاکستانیوں کو تو تسلیم کر سکتے ہیں جو آج پاکستان میں صرف مذہبی ، نظریاتی اختلافات کی وجہ سے راندہ درگاہ قرار دئیے جا چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان پاکستانیوں کے مذہبی معاملات اور ذاتی کوتاہیوں کو اللہ اور آخرت کے سپرد کر کے انہیں پاکستان کا سرمایہ سمجھیں اور ان پر فخر کرنا شروع کریں۔


ای پیپر