چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں چند معروضات
14 مارچ 2018 2018-03-14

چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار کو خبر ملی کے پھول نگر میں واقع ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج میں بچوں سے زائد فیسیں لی جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے پانامہ کیس کے نگران جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کو ساتھ لیا اور وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ عدالت چھوڑ کر ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ریڈ کریسنٹ کالج کے طلبا کو چیف جسٹس صاحب کے آنے کا علم ہوا تو انھوں نے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ اساتذہ اور انتظامیہ نے طلبا کو سمجھانے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ایک نہ سنی اور احتجاج جاری رکھا۔ جیسے ہی چیف جسٹس میڈیکل کالج پہنچے طلبا ان کے گرد جمع ہو گئے اور فیسوں میں اضافے کی شکایت کی ۔
چیف جسٹس صاحب نے میدان میں ہی کھلی کچہری لگا لی۔ طلبا سے پر امن رہنے کو کہا اور وائس پرنسپل سے فیسوں میں اضافے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی۔ وائس پرنسپل نے جرم کا اقرار کیا تو چیف جسٹس صاحب نے کھلی کچہری میں ہی اسے سزا سنا کر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ کالج کا اکاونٹس سیکشن سیل کیا اور اعلان کیا کہ باقی کی تفتیش میں عدالت جا کر کروں گا۔ چیف جسٹس صاحب نے کھلی کچہری میں مزید نعرہ لگایا کہ کالج نے جو زائد فیسیس لی ہیں انھیں ہر حال میں واپس کرنا ہوں گی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔جیسے ہی چیف صاحب نے سزا سنائی طلبا چیف جسٹس صاحب کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے حق میں پر شگاف نعرے بلند کیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار زندہ باد۔ چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار۔ قدم بڑھاؤ ثاقب نثار ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیا۔ اور ایک انگلی ہلا ہلا کر اعلان کرتے رہے کہ ہم اس ہسپتال کا تفصیلی معائنہ بھی کریں گے ہمارے خیال میں ہسپتال گورنمنٹ کے طے شدہ اصولوں پر نہیں چل رہا۔ چیف جسٹس صاحب ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج کا ہنگامی دورہ کر کے
واپس چلے گئے لیکن پاکستانی عوام کے لئے بہت سے سوالات چھوڑ گئے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب آپ اس وقت ملک پاکستان کے سب سے بڑے جج ہیں۔ آپ کا عہدہ ملک پاکستان کا سب سے مضبوط عہدہ تصور کیا جاتا ہے لیکن آپ بھی پاکستانی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ آپ کا کوئی بھی جملہ کوئی بھی عمل اور کوئی بھی رویہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ شبہ بھی گزرے کہ آپ کا جھکاؤ کسی ایک پارٹی کی طرف ہے،آپ کے فیصلے سیاسی ہیں یا آپ کا لب و لہجہ اور باڈی لینگویج سیاسی ہے۔ اگر وقت کے قاضی پر سیاسی ہونے یا کسی ایک پارٹی کی طرف جھکاؤ ہونے کا شبہ ہونے لگے تو عوام کا اس پر سے اعتماد اٹھ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس صاحب آپ نے جو کام ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج جا کر کیا اور جس طرح سے ہاتھ ہلا کر سیاسی نعروں کے جواب دیتے رہے یہ آپ کے شیان شان نہیں ہے۔ سپریم کورٹ ریاست کا سب سے مضبوط اور اعلی ادارہ ہے آپ کے پاس لاکھوں کیس ایسے پڑے ہیں جن کے سائیلین سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے سارے کیس چھوڑ کر میڈیکل کالج جا کر کھلی کچہری لگانا مناسب سمجھا جبکہ آپ یہ کام میڈیکل کالج کے پرنسپل اور پنجاب کے ایجوکیشن منسٹر کو سپریم کورٹ بلا کر بھی کر سکتے تھے۔ آپ سپریم کورٹ میں بیٹھے بیٹھے اگر کالج سیل کرنے کا حکم دے دیتے تب بھی کالج سیل ہو جانا تھا اور وائس پرنسپل نے بھی گرفتار ہو جانا تھا لیکن بیوروکریٹ یا منسٹر کے کام آپ نے گھنٹوں کا سفر طے کر کے، وی آئی پی پروٹوکول لے کر اور بڑی عدالت کی بجائے ایک چھوٹی کھلی کچہری لگا کر ایک سیاستدان کے لب و لہجے میں کیے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب آپ کے اس عمل سے طالب علموں کو فائدہ ضرور ہو گیا لیکن عدلیہ کی حدود کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا کام عدالت میں بیٹھ کر حقائق کی بنیاد پر فیصلے دینا ہے یا عدالتی کاروائی چھوڑ کر ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز کے دورے کرنا اور حکومت کو گالیاں نکالنا ہے۔ آپ کے اس عمل سے طالب علموں کوجو فائدہ ہو گا وہ عارضی ہو گا۔ کیونکہ آپ کتنے میڈیکل کالجز کو جا جا کر چیک کریں گے اور کتنے ہسپتالوں کی حالت زار ہر ماتم کریں گے؟ آپ یہ سب کچھ نہیں کر سکیں گے اس کی وجہ آپ کی نیت کی خرابی نہیں بلکہ غلط طریقہ کار ہے۔ آپ ہر ہسپتال جانے کی بجائے از خود نوٹس لے کر تمام میڈیکل کالجز کے پرنسپلز اور ایم ایس کو سپریم کورٹ بلائیں۔ ان سے فیسوں کا حساب،بینک سٹیٹمنٹس، اکاونٹنگ بکس اور سہولیات سے متعلق ریکارڈ سپریم کورٹ منگوا کر اس کی تفتیش کریں اور جو بھی مجرم قرار پائے سخت سے سخت سزا سنائیں۔ یہ سزا کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ اور وکیل کا چہرہ دیکھ کر نہ سنائی جائے بلکہ ایسا فیصلہ دیا جائے جو دنیا کی کسی بھی عدالت میں متوازن فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے۔
چیف جسٹس صاحب ہمیں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ہماری اولین ذمہ داری کیا ہے؟ ہمیں کس بات کی تنخواہ دی جاتی ہے؟اور ہماری ترجیحات کیا کیا ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس صاحب آج آپ میڈیکل کالج پر ایکشن کر کے کر ہیرو بن گئے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جب تک آپ چیف جسٹس رہیں گے یہ میڈیکل کالجز اور ہسپتال اپنی حدود سے تجاوز نہیں کریں گے لیکن جب آپ ریٹائرڈ ہو جائیں گے پھر کیا ہو گا؟ پھر یہ میڈیکل کالجز ڈاکو بن کر طلبا کو لوٹنے لگیں گے۔ اور کوئی بھی طلبا کا پرسان حال نہیں ہو گا کیونکہ آپ نے جو کام کیا وہ عارضی اور وقتی ہے۔ اس کا اثر شخصیت کے جاتے ہی ختم ہو جاتا ہے اور یہ ہی ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
اگر آپ واقعی میں ملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو براہ مہربانی انصاف کا ایسا صاف، شفاف اور تیز نظام بنا جائیں کہ آپ کے جانے کے بعد بھی فیسیں بڑھنے کے پراگر کوئی طالب علم عدالت سے رجوع کرے تو اسے فوری انصاف مل جائے۔ اگر کوئی مریض ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شکایت درج کروائے تو اسے انصاف اس کی دہلیز پر ہی مل جائے۔ اگر کوئی جج کرپشن کرتا پکڑا جائے تو اس بھی عام آدمی کی طرح سزا دی جائے۔ اگر کوئی جرنیل یا فوجی ملک کے ساتھ غداری کا مرتکب ہو تو ہمارا عدالتی نظام اسے عبرت کا نشان بنانے میں وقت نہ لگائے اور جس دن آپ نے یہ کام کر لیا آپ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس صاحب جس دن عوام کا عدالتوں کے نظام پر اعتماد بحال ہو گیا اس دن آپ کو کالج اور ہسپتال جاجا کر اور میڈیا کے سامنے آ کر اپنے انصاف کا شور نہیں مچانا پڑے گا۔ پاکستانی عوام اندھی ،گونگی اور بحری نہیں ہے وہ انصاف کے معیار بھی جانتی ہے اور عدلیہ کی حدود سے بھی بخوبی واقف ہے۔ آپ صرف عدالت ٹھیک کر لیں یہ ہسپتال، کالجز، پانی، بجلی، گیس، خوراک، ہوا اور دوائیوں کے تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ ظلم کا نظام چل سکتا ہے لیکن نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔


ای پیپر