منظر بدل گئے پس منظر بدل گئے
14 مارچ 2018

وہ جو کہتے تھے کہ سینیٹ چیئرمین ان کا ہو گا وہ دیکھ سکتے ہیں ایسا نہیں ہوا، وہ ہوا جو ملک کی دوسری دو بڑی سیاسی جماعتیں چاہتی تھیں…!
کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ ’’شیر اک واری فیر‘‘ کا نعرہ لگانے والے عالمی صورت حال کو پیش نظر رکھیں۔ ملکی سیاست کاری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے… روایتی سیاست اب زیادہ دیر نہیں کی جا سکتی ، سماجوں کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ویسے بھی ارتقائی عمل آگے بڑھ رہا ہے جو نت نئے مناظر ابھار رہا ہے اور ان سے رخ پھیرنا مشکل ہے۔ مگر حیرت ہوتی ہے جب مسلم لیگ (ن) اس حقیقت سے انحراف کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا وہ اگلے عام انتخابات میں بھی اپنی کامیابی کا جھنڈا بلند کر رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے… ملک کے سماجی، سیاسی اور معاشی حالات یکسر بدل رہے ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی آئندہ کی حکومت اور حکومتیں منتخب ہوں گی… اسے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب سے بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ مستقبل میں سیاسی منظرنامہ کیسا ہو گا… مگر وہ بضد ہے کہ حکومت اسی کی ہو گی… گئے وہ دن جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق آئندہ مخلوط حکومت قائم ہو گی جس کی ایک جھلک باقاعدہ دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہی قومی مفاد میں ہے۔ ویسے قومی مفاد کی اب تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ چند لوگوں کا ہوتا ہے یا پھر عوام کا… یہ جو بلوچستان سے نو منتخب سینیٹ چیئرمین کو وہاں کے لوگوں کا نمائندہ کہا جا رہا ہے تو یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اب تک جس صوبے سے بھی کوئی وزیراعظم بنایا سینیٹ چیئرمین منتخب ہوا اس نے عوام کی حالت نہیں بدلی۔ بدلی تو اپنی، لہٰذا خواہ مخواہ اس بحث میں پڑنا اور عوام کو اس میں الجھانا عجیب معلوم ہوتا ہے…؟
عوام کو قومی مفاد وغیرہ کی سمجھ اس روز آئے گی جب وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو تبدیل دیکھیں گے۔ انہیں انصاف، ان کی دہلیز پر ملے گا۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں انہیں بلا تفریق میسر آئیں گی۔ مہنگائی و بے روزگاری کے عفریت کو جکڑ لیا جائے گا۔ ابھی تو وہ کچھ یقین کرنے کو تیا رنہیں… انہیں تو سب ایک جیسے نظر آ رہے ہیں، جو ماسک پہنے ہوئے ہیں اور اندر سے ایک دوسرے کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں… عوام، یہ بات بھی نہیں مان سکتے کہ جو کوئی ایوانوں کا سربراہ آئے گا وہ ان کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا… کیونکہ اس کا آنا بھول بھلیوں سے ہوتے ہوئے ہی ممکن ہوتا ہے لہٰذا وہ اس کی پیچیدگیوں کو اپنے ذہن سے الگ کرے گا تو کچھ سوچے گا… اس کے بعد تو وہ بھول بھی جائے گا کہ عوام کا مفاد کیا ہوتا ہے… لہٰذا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں جو پچھلی چھے سات دہائیوں سے کہی جا رہی ہیں؟
ہاں تو بات ہو رہی تھی شیر والوں کی جو ایک واری فیر کا اعلان کر رہے ہیں، ڈھنڈورا پیٹ کر… انہیں علم ہو جانا چاہیے کہ جب سینیٹ کے انتخاب میں ان کے ساتھی ان کے قرب سے محروم ہو سکتے ہیں تو عام انتخابات میں بھی وہ اِدھر سے اُدھر ہو سکتے ہیں بلکہ ہونا شروع ہو گئے ہیں لہٰذ ا وہ اقتدار کے مزے خیالوں میں تو لے سکتے ہیں عملاً نہیں کیونکہ عوام کی غالب اکثریت ان سے ناراض ہے۔ انہوں نے ان کو دیا کچھ نہیں… فقط نعرے دیے ہیں۔ بنیادی چیز ہوتی ہے انصاف، جو وہ عام نہیں کر سکی نہ ہی آسان اور سستا کر سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سماجی اقدار سے لے کر انتظامی معاملات تک سب متاثر ہیں… مگر اس طرف تو توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا گیا اور دولت بارے ہی سوچ بچار کی گئی… جو عدالتوں میں جا کر کسی گہری سوچ میں پڑ گئی ہے… اور وہ واویلا کر رہی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے؟
جواب آتا ہے کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں… بہرحال مسلم لیگ (ن) کے جیتنے کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں کیونکہ عوام نے یہ نہیں لکھ رکھا کہ وہ اس سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں تو وہ سیاہ کرے یا سفید۔ اس کے ساتھ ہی چلنا ہے۔ وہ انہیں سہولتیں فراہم کرے یا نہیں سر جھکائے اس کے سامنے بیٹھے رہنا ہے… جاری سیاست میں یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں جو دھڑا سیاسی سوچ رکھتے ہیں لہٰذا وہ اس سے ہر موسم میں جڑے رہتے ہیں، اس کی دھڑے سے ہٹ کر یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے ذاتی مفادات بھی ہیں، جو جائز بھی ہو سکتے ہیں اور ناجائز بھی۔ لہٰذا وہ کسی صورت اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے مگر مسلم لیگی قیادتیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ عوام انہیں پسند کرتے ہیں، ان کی پالیسیوں سے متفق ہیں…؟
خیر لگ یہ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ستارے گردش میں ہیں۔ عدالتوں میں چلنے والے کیسوں کا بھی فیصلہ ہونا ہے جن کے بارے میں پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ زیادہ تر اس کے سربراہ کے خلاف آئیں گے جس سے اس کی سیاسی ساکھ کو بہت بڑا دھچکا لگے گا… یوں دوبارہ آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے باوجود بھی میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز اپنے جلسوں میں کہتے ہیں کہ اقتدار ایک بار پھر ان کو حاصل ہو گا تو یقین نہیں آتا… ہو سکتا ہے سیاسی صورت حال اندرون خانہ مختلف ہو… تجزیہ نگاروں نے تو اپنے سامنے موجودہ حالات و واقعات ہی کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کرنا ہوتا ہے… لہٰذا ممکن ہے انہیں سب اچھا اور ہرا ہی ہرا دکھائی دے رہا ہو۔ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب سے بات عیاں ہے کہ پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا… شریف خاندان کو سوچنا چاہیے کہ جمہوریت (انتخابی سیاست) میں کبھی بھی کوئی ایک جماعت یعنی ایک خاندان برسراقتدار نہیں رہ سکتا۔ مغربی و یورپی ممالک میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ایک خاندان وزیراعظم یا صدر کے عہدے پر موجود
ہو…یہ ضرور ہوا ہے کہ دو تین مرتبہ مسلسل کوئی ملک کا سربراہ بن گیا… میاں نواز شریف تو تین بار وزیراعظم رہ چکے… لہٰذا انہیں تو بالکل ہی اس حوالے سے نہیں سوچنا چاہیے… محترمہ مریم نواز کو وہ اپنی جگہ لا سکتے ہیں مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے کہ اب عالمی معاشی اور سیاسی حالات تبدیل ہو رہے ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات، پالیسیاں اور منصوبے تھوڑا سا بدل دیں جن میں سیاسی چہرے بھی شامل ہیں۔ لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی جماعت اور اس کا سربراہ اقتدار میں رہے اور نئے لوگ ملک کی باگ ڈور نہ سنبھالیں… لہٰذا اب دونوں جماعتوں میں سے کلی اختیارات کسی کے پاس نہیں ہوں گے ایک توازن قائم ہو گا… کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں کوئی سماجی و معاشی امور سر انجام نہیں دیئے عوام دوستی سے متعلق بھی اس کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس کے پیش نظر کہا جا سکے وہ بڑی سنجیدہ تھی… لہٰذا منظر واضح ہے۔ کوئی دھندلاہٹ نہیں کوئی الجھن باقی نہیں… رہی یہ بات کہ نئے چیئرمین پی پی پی کی کوششوں سے منتخب ہوئے اور وہ اس کے مفادات کو عزیز جانیں گے تو یہ خیال درست نہیں۔ اب یہ طے ہے کہ کوئی جماعت انتظامی عہدوں پر اپنے جس بندے کو بھی لائے گی وہ عوام کے لیے ہی کچھ کر کے دکھائے گا… کیونکہ اس وقت ریاست جہاں بیرونی مسائل سے دو چار ہے تو وہاں اندرونی مشکلات بھی اسے در پیش ہیں لہٰذا ذمہ داری کا احساس اس کو کہیں زیادہ ہو گا… اب ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کا وقت گزر گیا… حرف آخر یہ کہ دیکھتے ہیں جناب سنجرانی عوام کی توقعات پر کہاں تک پورا اترتے ہیں۔ اور یہ بات ذہن میں رہے ملکی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جو خوشگوار لمحوں کی طرف لے جا سکتا ہے!


ای پیپر