پی آئی اے کی نجکاری ہی کیوں؟
14 مارچ 2018 2018-03-14

ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے ایسے حکمرانوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں کہ جو کمال دیدہ دلیری سے ان اداروں کو نیلام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار نے ایسے ریلوے انجن بھی درآمد کر لئے تھے جو ہمارے پلیٹ فارموں کے سائز کے نہیں تھے چنانچہ پلیٹ فارموںکو توڑ کر ان کے سائز کے مطابق کرنا پڑا۔کئی سال قبل کی بات ہے کہ ڈاک خانے کے محکمے کی نجکاری کا بھی بڑا چرچا تھا لیکن بعد میں اس کو روک دیا گیا اور اسے پوسٹل بینک میں بدل دیا گیا ہے یعنی ہمارے ہاں بینکوں کی کمی واقع ہو گئی تھی۔ کسی نجی شخصیت کو فائدہ دینے کے لئے شروع میں خود ہی ایسے اداروں جن کی نجکاری کرنی ہوتی ہے اس کو دانستاً کمزور اور غیر منافع بخش بنانا شروع کر دیا جاتا ہے بعد میں اس کی حالت اتنی بری ہو جاتی ہے کہ نجکاری کے نام پر انہیں اپنے اقرباء کو اونے پونے داموں میں بیچ دیا جاتا ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جس قیمت پر سرکاری قومی ادارے کو بیچا گیا اس کے ثاثے ہی حاصل کی گئی قیمت سے کئی گنا زیادہ تھے جنہیں بعد میں خریدنے والوں نے بیچ کر اپنی خریداری کی قیمت سے کہیں زیادہ منافع حاصل کر لیا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد جناب خاقان عباسی آج کل ایک بار پھر پی آئی اے کی نجکاری کے لئے متحرک ہوئے ہیں کہا یہی جا رہا ہے کیونکہ ان کی نجی ائر لائن ہے وہ اپنی ائر لائن کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔ اس نجکاری میں کس کا کتنا وسیع و عریض فائدہ ہو گا اس کا بعد میں پتہ چلے گا جب چڑیاں کھیت چکی ہوں گی اور ہم کبھی ویران کھیت دیکھیں گے اور کبھی ان موٹی تازی چڑیوں کو۔ ہماری حکومتیں اگر چلتے ہوئے اداروں کو نہیں چلا سکتی ہیں تو پھر وہ کیا کرنے کے لئے اقتدار میں آتی ہیں۔
ماہرین کے خیال میںنجکاری کسی بھی ادارے کو منافع بخش بنانے کا حل نہیں ہے اس سے پہلے بھی مختلف اداروں کی نجکاری کی گئی لیکن وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اداروں کی نجکاری سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان کا سیاسی نظام امیروں اور جاگیرداروں پر ٹیکس نہیں لگنے دیتا۔ ہمارے ملک کی دو تہائی معیشت غیر دستاویزی ہے، اس میں منشیات، قبضہ گروپ، اغواء برائے تاوان اور لوٹ مار کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ 1995ء سے اب تک آئی پی پیز اربوں ڈالر پاکستان سے کما چکی ہیں، اگر یہ پیسہ پاور انفراسٹرکچر کی ترقی پر لگایا جاتا تو توانائی کے شعبہ میں زیادہ بہتری آتی۔ اس صورت میں قومی اداروں کی نجکاری سے کیسے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اسی طرح قومی ائر لائن گو کہ اس وقت خسارے سے دوچار ہے لیکن اس کا یہ خسارہ آج کا نہیں بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے مختلف عوامل ہیں جن میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی، سود کی مد میں اضافہ، اوپن سکائی پالیسی، ویزوں کی پابندیاں اور پرانے طیارے وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ زرِ مبادلہ بھی قومی ائیر لائن کے ذریعے ہی آتا ہے۔ پی آئی اے میں اس وقت 18ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں یہ تعداد دیگر بڑی ائیر لائن کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے لیکن ہمارے ملازمین کی تنخواہیں ان کے مقابلے میں کم ہیں۔ پی آئی اے کے ٹوٹل بجٹ کا 14فیصد تنخواہوں اور مراعات کی مد میں خرچ ہوتا ہے جب کہ دیگر ائیر لائنز اپنے کل بجٹ کا 35فیصد اس مد میں خرچ کرتی ہیں۔ اس وقت پی آئی اے کے پاس جہاز کم ہیں، ہمیں جلد 8-10، 777لانگ رن جہازوں کی ضرورت ہے حکومت کو اس حوالے سے پی آئی اے کو بیل آوٹ دینا چاہئے نہ کہ نجکاری کی جائے۔ آج سے 3دہائیاں قبل تک پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ائیر لائنز میں کیا جاتا تھا جس کو آج ساڑھے تین سو ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ ادوار میں میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں اور عزیز و اقارب کو نوازنے کے لئے نا اہل افراد کو بڑی تعداد میں نوکریاں دی گئیں جس سے، یہ قومی ائیر لائن جو کبھی ملک کا منافع بخش اور پاکستان کی شان بڑھانے والا ادارہ ہوا کرتا تھا اب ناقص کارکردگی کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ نجکاری کمیٹی کے حالیہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ایک ایسی ائیر لائن جو کبھی دنیا بھر کی فضاؤں میں پاکستان کے وقار کا پرچم لہراتے ہوئے لینڈ کرتی رہی ہے اب قومی ملکیت میں نہ رہے۔گزشتہ کئی برسوں سے پی آئی اے ، ریلوے، ڈاکخانہ، پاکستان سٹیل ملز وغیرہ کی کارکردگی سول حکمرانوں کے گڈ گورنس کے دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔
حساس اور قومی اہمیت کے حامل اداروں کی نجکاری ملک کی ایلیٹ کلاس کی ایسی سازش ہے جس کا مقصد قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر یہ ثابت کرنا ہے کہ قومیانے کی پالیسی ایک ناکام پالیسی ہے جب کہ اہم قومی اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کا نظام سوشلسٹ ملکوں نے متعارف کروایا تھا۔ اس نظام کی افادیت کو دیکھ کر سرمایہ دارانہ نظام میں بھی اہم قومی اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کا عمل شروع ہوا اور بیشتر ترقی پزیر ملکوں میں قومی ادارے اب بھی منافع بخش اندازیں چل رہے ہیں لیکن غالباً پاکستان واحد ملک ہے جہاں تمام اہم قومی ادارے نقصان کا شکار ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ قومی ترقی اور معیشت کے حالات بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تصور کو ترویج دی جائے۔ اس سے سرکاری شعبہ کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ شوگر، گھی اور کھاد وغیرہ بنانے والی فیکٹریوں کو پرائیوٹائز کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت کو پی آئی اے کا خسارہ کم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کرنے چاہیں۔ اس ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کے ہزاروں کارخانے بند پڑے ہیں اور روزبروز مزید بند ہو رہے ہیں۔ گو کہ پی آئی اے ، ریلوے، پاکستان، سٹیل مل کو حکومت سبسڈی دے رہی ہے لیکن یہ ادارے ہماری معیشت کی جان ہیں۔ حکومت کو ان اداروں میں پائی جانے والی بد انتظامی اور کرپشن کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیں۔ نجکاری اپنی سرشت میں کرپشن کی علامت ہے اور اس احمقانہ دلیل کو کوئی ذی شعور نہیں مان سکتا کہ نجکاری سے ملک و قوم کو فائدہ ہوتا ہے جیسے کہ ہم نے وضاحت کی ہے کہ نجکاری کے کھیل کا مقصد ایلیٹ کی لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں۔


ای پیپر