توہین عدالت کیس :نواز شریف کیخلاف درخواست خار ج
14 مارچ 2018 (16:03) 2018-03-14

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی ایک اور درخواست خارج کر دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے نواز شریف کا بیان غیر سجنیدہ ہے، مگر تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقت نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار شیخ احسن الدین نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے عدالتی توہین کی، نواز شریف نے لاہور ریلی کے دوران عدلیہ کو متنازعہ بنایا اور کہا کہ میری نااہلی 20 کروڑ عوام کے ووٹ کی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کسی اور مقام میں شاید توہین آمیز بات کی گئی ہو، جو مواد آپ نے پیش کیا وہ سیاسی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نواز شریف ، سعد رفیق اور دانیال عزیز کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید اس بیان میں نوازشریف نے حد سے تجاوز نہیں کیا مگر کہیں اور کیا ہوگا۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ کے تین رہنماو¿ں نوازشریف، سعد رفیق اور دانیال عزیز کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ سابق وزیراعظم کے خلاف درخواست گزار ایڈووکیٹ شیخ احسن الدین نے بتایا کہ نواز شریف نے لاہور ریلی کے دوران عدلیہ کو متنازعہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کا فیصلہ 20 کروڑ عوام کی توہین ہے اور عدالت نے انہیں نہیں بلکہ قوم کو نااہل کیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا واقعی نواز شریف نے 20 کروڑ ووٹ لیے تھے؟۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے اور قانون کے مطابق عدالتی فیصلوں پر ہر آدمی کو تبصرہ کرنے کا حق حاصل ہے، شائد اس بیان میں نوازشریف نے حدود کراس نہیں کیں، تاہم کسی اور جگہ حدود کراس کی ہوں گی اور کچھ جگہوں پر اس سے بھی زیادہ کہا ہوگا۔ درخواست گزار احسن الدین نے کہا کہ عدالتی تحمل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ درگزر کرنا اور عدالتی تحمل بھی کوئی چیز ہوتی ہے، ہمارے عدالتی تحمل کی حد آپ سے زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نہیں سمجھتے جو مواد ہمارے سامنے پیش کیا گیا وہ توہین عدالت ہے، نوازشریف نے حد سے تجاوز نہیں کیا، اس لیے توہین عدالت کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔


ای پیپر