سینیٹ انتخابات 2018 کے تناظر میں سیاسی منظرنامہ

14 مارچ 2018

عائشہ نور

3 مارچ 2018 کو پاکستان میں سینیٹ انتخابات منعقد ہوئے۔ اگر سینیٹ انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو کئی بے قاعدگیاں و بے ضابطگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی ۔ ہمارے سینیٹ انتخابات میں "ہارس ٹریڈنگ " نتائج پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ گویا ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ووٹ خریدنے کےلیے منڈی لگتی ہے , بولیاں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہی اس مرتبہ بھی ہوا , بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف نے چودہ ارب جبکہ آصف زرداری نے دس ارب روپے مبینہ طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے ووٹ خریدنے کے لیے خرچ کیے۔ دوسرا توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں ثابت شدہ قومی چور اسحٰق ڈارجیسےلوگ بھی اپنی تمام تر بدعنوانی کے باوجود سینیٹ میں پہنچ گئے۔ پھر بھی کہا جاتاہے کہ پارلیمان پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ اور آئین کے آرٹیکل 62, 63 اور 218 کےعملی طور پر نفاذ کا مطالبہ کیوں کیا گیا ؟ ناقدین یاد رکھ لیں کہ پارلیمان کا تقدس وہاں بیٹھے لوگوں کی مرہونِ منت ہوگا اور آرٹیکل 62 , 63 اور 218 کےعملی نفاذ کے بغیر بدعنوان عناصر کو انتخابی عمل سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ موجودہ پارلیمان بتائے کہ اب تک عوام کے لیے پانچ برس کے دوران کتنی قانون سازی ہوئی؟ انتخابی اصلاحات 2017 کے نام پر سنگین مذاق ہوا , مقصد صرف فردواحد کو تقویت پہنچانا تھا۔ ملک کو حقیقی معنوں میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کےلئے چند نکات پر مشتمل ایک مختصر خاکہ پیش خدمت ہے :

نمبر ایک آئین کے آ رٹیکل 62 , 63 اور218کی بنیاد پر نئی انتخابی اصلاحات نافذ کی جائیں ۔ نمبر دو بدعنوان سیاسی مافیا کو انتخابی عمل سے باہر نکالنے کےلیے صرف ان ہی امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے جائیں جو خود کو صادق وامین ثابت کر سکیں۔ نمبر تین اس مقصد کے لیے چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ آف پاکستان خود کرے اور باقی ارکان کے لیے چیف الیکشن کمیشن سے مشاورت لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان ہی تقرر کرے ۔ نمبر چار سینیٹ کو حقیقی معنوں میں مئوثر نمائندہ ادارہ بنانے کےلیے اراکین کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جائے تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا کلچر ختم ہو اور ایوانِ بالا کے وقار میں اضافہ ہو۔ نمبر پانچ پولنگ کے عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ نمبر چھ مجوزہ انتخابی اصلاحات اور ضروری آئینی ترامیم کے لیے مخصوص مدت کےلیے نگران قومی حکومت قائم کی جائے ۔ نمبر سات نگران حکومت مقررہ مدت کے اندر انتخابی اصلاحات کرکے اپنی زیر نگرانی عام انتخابات کے انعقاد کی پابند ہو ۔ نمبر آٹھ نگران قومی حکومت اپنی مقررہ مدت ختم ہونے پر از خود ختم متصور ہو۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نگراں قومی حکومت کے سوال پر جن لوگوں کی چیخیں نکلتی ہیں یا سازش کی بو آنے لگتی ہے , وہ سالہاسال سے پارلیمان میں بیٹھے کیا کررہے ہیں؟ ایسے مطالبات کا سامنے آنا قومی تقاضا بن چکا ہے کیونکہ مققنہ میں بیٹھے لوگ قانون سازی نہیں کررہے کیونکہ وہ اصلاحات کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ووٹ کی طاقت ثابت کرنے کے شوقین جمہورے بذاتِ خود جمہوری استحکام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابی معرکوں کے نتائج پی ٹی آئی کویہ سمجھنے کےلیےکافی ہیں کہ قبل از اصلاحات عام انتخابات ایک لا حاصل مشق ثابت ہوں گے۔ ماضی میں قبل از اصلاحات انتخابات کا پی اے ٹی کی جانب سے بائیکاٹ بھی ہوا , جس سے سیاسی مافیا نے انتخابی میدان خالی رہ جانے سے فائدہ بھی اٹھایا, برسراقتدار بھی آگئے اور اصلاحات بھی نہیں ہونے دیں۔ اب جبکہ حزبِ اختلاف کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے ۔ پی ٹی آئی , پی پی پی اور پی اے ٹی کی راہیں جدا ہوچکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر قبل از اصلاحات عام انتخابات ہو گئے تو نتائج سینیٹ انتخابات جیسے ہوں گے۔ اول تو کوئی سیاسی جماعت قومی مینڈیٹ لے کر حکومت نہیں بنا سکے گی ۔ لہٰذا سیاسی جوڑ توڑ ہوں گے اور ایک کمزور مخلوط حکومت بنے گی۔ میرے خیال میں پنجاب میں اگر ن لیگ , سندھ میں پیپلزپارٹی , اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اکثریت حاصل کرتی ہیں تو میں اسے قومی قیادت کا فقدان بھی قرار دوں گی۔ تو لازماً یہ سوال پیدا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو اس کا جواب بھی یہ ہی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ کیونکہ یہ انتخابی نظام میرٹ پرقومی قیادت کے چناو میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ جس وفاقی نظام میں قومی جماعتوں اور قومی قیادتوں کا فقدان ہو جائے ۔ وہاں لازماً صوبائیت کی جڑیں گہری ہوجاتی ہیں اور وفاق کمزور ہونے لگتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہی وہ سازگار حالات ہوں گے جو نواز شریف کو شیخ مجیب ثانی اور مریم صفدر کو شیخ حسینہ واجد دوئم بننے کا موقع اور جواز فراہم کریں گے۔ میں قوم کو مستقبل کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کردینا چاہتی ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں ۔ ورنہ خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہیں بدلتی۔

مزیدخبریں