نقیب اﷲ قتل کیس میں اہم پیش رفت ،کیاراﺅ انوار سیاسی پناہ میں ہے ؟

14 مارچ 2018 (15:22)

اسلام آباد: نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی کو راو¿ انوار کا ایک اور خط موصول ہوا ہے ۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت کے معاون وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ نقیب اللہ کیس میں 24 ملزمان ہیں لیکن ابھی تک 10 لوگ ہی گرفتار ہوئے ہیں، ریاست کی اتھارٹی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ راو¿ انوار کا ایک اور خط آیا ہے ، معلوم نہیں یہ اصلی ہے یا نقلی، لیکن اسے فائل میں رکھوا دیا ہے ، راو انوار کہتے ہیں اکاونٹ کھول دیں ، رپورٹ آرہی ہے لیکن پراگریس نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں کے مطابق تمام مشتبہ افراد نے موبائل نمبر بند کر دئیے ہیں، آئی ایس آئی کے مطابق سندھ پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں ، ایم آئی کے مطابق انکے پاس ٹیکنیکل معاونت کے ذرائع محدود ہیں لیکن پولیس سے تعاون کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ راو¿ انوار کا ایک اور خط آیا ہے ، معلوم نہیں خط اصلی ہے یانقلی، خط کو فائل میں رکھوا دیا ہے ، خط میں رائو انوار نے کہا ہے کہ ان کے بینک اکاو¿نٹ بحال کردیں، پولیس کی رپورٹس تو مل رہی ہیں لیکن کیس میں پیش رفت نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا ایم آئی اورآئی ایس آئی آپ کی معاونت کررہے ہیں، جس پرآئی جی سندھ نے کہا کہ دونوں سیکیورٹی ادارے معاونت کررہے ہیں، اب تک 12 ملزمان گرفتارہوچکے ہیں، باقی ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں، پہلی ایف آئی آر منسوخ کردی ہے ۔ مقدمے کا چالان داخل کردیا ہے ۔


جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ظاہرہے کوئی نہ کوئی ملزمان کو تحفظ فراہم کررہا ہے ، کیا شرپسند انھیں تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا یہ ایک بڑا سوال ہے ، کیا راو¿ انوارسیاسی پناہ میں نہیں ہے ، جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ بطور ذمہ دار آفیسر یہ نہیں کہہ سکتا کہ راو¿ انوار سیاسی پناہ میں ہے ، اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہمارے صوبے میں نہیں اور اس کی آخری لوکیشن بھیرہ تھی۔

چیف جسٹس نے عدالت کا آئی جی سندھ کو راو¿انوارکی کراچی اور اسلام آباد سی سی ٹی وی فوٹیج پر ان کیمرا بریفنگ دینے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہوسکتا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد مل جائے ہم وہ دیکھنا چاہتے ہیں، عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر جنرل ائیرپورٹس سیکیورٹی کو بھی طلب کرلیا۔ کیس کی مزید سماعت اب 16 مارچ کو کراچی رجسٹری میں ہوگی۔

واضح رہے کہ نقیب اللہ کو کراچی میں گرفتار کرنے کے بعد جعلی مقابلے میں 3 مزید افراد کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا، راو¿ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ نقیب مطلوب دہشتگرد تھا تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا کہ وہ بے گناہ تھا اور اسے گرفتار کرنے کے کئی روزبعد ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

مزیدخبریں