گودڑ سائیں کی باتیں
14 مارچ 2018 2018-03-14

میں اپنے پروفیسر دوست کے ساتھ قبرستان کے ایک کونے میں بنی ایک جھونپڑی نما چھپر میں دھان کی پرالی سے تیار شدہ چٹائی پر بیٹھا ہوا تھا۔کئی دنوں کے وعدے کے بعد وہ مجھے اپنے بابا گودڑ سائیں سے ملوانے لایا تھا ،جہاں اور بھی کچھ لوگ موجود تھے۔ہمارے سامنے ایک دبلا پتلا شخص بیٹھا تھا۔لطافت کے نور سے اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ہڈیوں کے اس ڈھانچے سے آواز آرہی تھی :
”بھئی ہم نے تو خود کو اپنے جسم کے حجرے میں قید کیا ہوا ہے۔اس حجرے میں صرف دل کا چراغ جلتا ہے اور جب من روشن ہو جائے تو ہر شے صاف نظر آنے لگتی ہے۔وسوسوں کی مکھیاں جان چھوڑ دیتی ہیں۔جو کچھ نظر آرہا ہے ہم تو اس پر بڑے راضی ہیں کہ اُس ذاتِ ذوالجلال کی رضا کے بغیر ایک ذرہ بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتا۔جب آدمی کے دل میں ایسا یقین اپنی جڑ پکڑ لے تو وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔اسے نہ صرف یہ کہ اپنی سمجھ آجاتی ہے بلکہ دنیا بھی اس پر منکشف ہونے لگتی ہے۔ سو عزیزو! شکوہ اور شکایت کی عادت ترک کر دو،غصہ آئے بھی تو برداشت کرو،اِس سے دل میں برداشت پیدا ہوتی ہے او ریہی نفس پر کنٹرول کی ریاضت ہے“۔
کچھ دیر کو محفل میں مکمل سناٹا تھا۔میرے دل میں سوالات کا طوفان تھا مگر سبھی خاموش تھے سو میں نے بھی چپ بھلی جانی۔ہمیں اس محفل میں آئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ہماری آمد پر آواز کچھ دھیمی ہوئی اور توقف کے بعد پھر چمکنے لگی تھی۔
میں صاحب آواز یعنی ہڈیوں کے ڈھانچے کو غورسے دیکھ رہا تھا۔اس کے تن پر ململ کا ایک کرتا تھا جس میں ریڑھ کی ہڈی سے لگا پیٹ اور پسلیاں صاف نظر آرہی تھیں۔بولتے وقت یوں لگتا جیسے اس ہڈیوں کے ڈھانچے سے روشنی سی پھوٹ رہی ہو۔قریب دو تین ادھیڑ عمر لوگ بیٹھے تھے۔میرے آس پاس دو دیہاتی نوجوان اور تھوڑا سا آگے کوئی عمر رسیدہ شخص بیٹھا تھا جس کا چہرہ صاحبِ محفل کی طرف تھا۔
مجھے یہاں میرا پروفیسر دوست لایا تھا۔اس نے بتایا کہ تین ماہ بعد گودڑ سائیں اپنی چپ کا روزہ چند گھنٹوںکے لئے کھولتے ہیں۔ورنہ کئی کئی ماہ وہ کسی سے کلام نہیں کرتے۔بعض اوقات پیدل پہاڑوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔وہ ہرشخص کو اپنی محفل میں آنے نہیں دیتے۔ان کے قریبی لوگوں سے ایک ہفتہ قبل پوچھنا پڑتا ہے۔ایک درخواست نما چٹ سی ان کے حجرے میں ڈال دی جاتی۔واپس چٹ آجائے تو چٹ پر لکھے نام کو ملاقات کا وقت نہیں ملتا۔مجھے اچھا لگا جب پروفیسر نے بتایاکہ میرے نام کی چٹ واپس نہیں آئی اور یوں محفل میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی۔
میں انہی سوچوں میں گم تھاکہ میرا نام لیا گیا ۔میں چونکا تو آواز آئی :” پوچھیں ،بے دھڑک پوچھیں، آپ ہمارے مہمان ہیں“۔
مجھے حوصلہ ہوا، میں نے دھیمے دھیمے اپنے ایک دو سوال پیش کر دئےے۔میں نے پوچھا : آپ سے ملاقات کا ویزا کیوں لینا پڑتا ہے؟سبھی کو ملاقات کا شرف کیوں نہیں بخشا جاتا؟
بڑی بڑی پلکیں اٹھیں ،پھر جھکیں اور ہونٹوں پر مسکان دمکی، پھر آہستہ سے آواز آئی: ” بعض لوگ صرف مرادیں مانگنے آتے ہیں،بس ایسے افراد سے کنارہ کیا ہوا ہے۔انسان کی حرص بڑھ گئی ہے، اسے اپنی ”ایکسپائری ڈیٹ “ کی خبر نہیں۔وہ ہوا میں لاٹھی چلائے جاتا ہے۔پل کی خبرنہیں اور وہ کیا کیا پلان بناتارہتاہے“۔
ان کی بات شاید آگے چلتی مگر ایک نوجوان نے اپناسوال داغ دیا : ” بابا جی ! تقوٰی کیا ہے؟“
بابا جی کے لبوں پر مسکراہٹ چمکی اور فرمایا : ” زیادہ علم تو نہیں ہے مگر ایک بار سنا تھا: تقویٰ کا مصدر ”وقایہ“ ہے ہمیں عربی تو نہیں آتی مگر وقایہ کے معنی حفظ اور نگہداری ہے۔تقویٰ بھی اپنے آپ کو محفوظ بنانے اور اپنے نفس پر کنٹرول حاصل کرنے کا ذریعہ ہے“۔
بات پر فل سٹاپ لگا تو میں نے اپنی گرہ کھلوانے کی کوشش کی۔
” یہ چپ رہنے میں کیا بھید ہے؟ “۔ فرمایا: ”چپ خیر ہے،کائنات کی بیشتر مخلوق چپ چاپ اپنے اپنے دائرے میں اپنے اپنے فرائض پر مامور ہے۔درخت چپ ہیں۔چاہے کوئی کاٹ ڈالے مگر سایہ اور پھل سب کے لےے۔۔ ۔۔کائنات کی کئی اشیا ءمیں چپ پھیلی ہوئی ہے۔زیادہ بولنے سے بیٹری خرچ ہوتی ہے۔بے سرا ،بے مقصد بولنے سے چپ بھلی نہیں کیا؟ بے جا بولنا بھی اسرا ف کے زمرے میں آتا ہے“۔یہ جواب مکمل ہوا تو دوسرا سوال آگیا : ”موت کیہ شے وے “ ( موت کیا ہے؟ )یہ ایک ادھیڑ عمر پڑھا لکھا شخص سوال کر رہا تھا۔ آواز آئی : ” موت تبدیلی ¿حالت کا نام ہے ۔جو شخص سوتے وقت اپنے سارے دن کا احتساب کر کے سوئے اسے خوف سے نجات مل جاتی ہے۔یہی نہیں نفس کو باادب بنانے کے لےے بھی یہ ضروری ہے“۔ اب محفل کا رنگ اچانک بدل گیا ۔ ایک نوجوان نے عارفانہ کلام شروع کر دیا۔اس کی پُر سوز آواز سے ایک روح پرور سناٹا چھا گیا۔
بناں مرشد راہ نہ ہتھ آوے
دُدھ باہج نہ رجدی کھیر سائیں
کلام ختم ہوا تو لنگر کی تقسیم شروع ہوئی ، انہی چٹائیوں پر دال ،چٹنی اور خمیری روٹی آ گئی۔دس بارہ لو گ بڑے سکون سے لنچ کر رہے تھے۔سائیں محفل سے اٹھ گئے تھے۔پروفیسر نے مجھے بتایا کہ ایک زمانے میں گرمیوں سردیوں میں ایک گودڑی میں لپٹے رہتے تھے۔وہیں سے ان کا نام گودڑ سائیں پڑ ا۔جوانی میں کچھ عرصہ فوج میں بھی رہے ہیں۔پھر بری اما م کے ”مچ “ پر بھی ڈیوٹی دی۔ لنگر کے بعد قہوے کا دور چلا ۔ کچھ دیر اور بیٹھنے کے بعد ہم واپس چل دیئے، پروفیسر کی گاڑی پر نصرت فتح علی خاں کی آواز گونج رہی تھی ::
میں نیواں مرا مرشد اچا اچیاںدے سنگ لائی
صدقے جاواں انہاں اچیاں توں
جنہاں نیویاں نال نبھائی


ای پیپر