” ہمارے آخری نبی اور سَبزہِ فکر “
14 مارچ 2018

ایران کے ایک مذہبی راہنما بہاءالحق خدا اُسے اور اُس کے خیالات و نظریات کو غارت کرے، نعوذ باللہ اُس نے ہرزہ سرائی کی تھی اور اُس کے بے شمار پیر وکار بھی پیدا ہو گئے تھے۔ کہ قرآن پاک فرقانِ حمید چُودہ سو سال پہلے نازل ہوئی پرانی کتاب ہے ، جبکہ موجودہ دور کے تقاضے اور نظریات بدل چکے ہیں لہٰذا قرآن مجید میں انہیں ضروریات کے مطابق ترمیم کی جائے، امام خمینی جب شہنشاہِ ایران کی وطن سے جلا وطنی کے بعد ایران کے حکمران بنے ، تو انہوں نے اِس ملعون فتنے کے پیرو کاروں کو مُلک سے زبردستی نکال دیا، وہاں سے ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ براستہ پاکستان دوسرے مخصوص مُلکوں کو چلے گئے،
بہاءالحق کے نظریات کے پیروکاروں کو ”بہائی“ کہا جاتا ہے،
ایک دفعہ میری اُن سے اِس معاملے میں گفتگو ہوئی تو میں نے اُن بدبختوں سے پوچھا کہ تم قرآن پاک کو اللہ کی الہامی کتاب مانتے ہو؟ اُن لوگوں نے جواب دیا کہ بالکل ، تو میں نے انہیں کہا کہ اللہ کو بھی آپ لوگ مانتے ہیں، انہوں نے جواب دیا، ہم مسلمان ہیں، لہٰذا اللہ کو تو ہم سب مانتے ہیں ، میں نے انہیں کہا کہ اللہ تو بہت پُرانا ہے، آپ نعوذ باللہ ، اللہ کو کیوں نہیں بدل دیتے؟ اِس پر وہ کھسیانی ہنسی ، ہنسنے لگے، مگر بقول اسلام عظمیٰ
سرد موسموں میں بھر گیا چنگاریاں
وہ گئے گزرے دنوں میں بھی قیامت کر گیا!
کتنے کھیتوں کو اُجاڑا اُس نے بو کر وسوسے
کیسی کیسی محنتیں پل میں اکارت کر گیا !!
اتوار والے دِن ایوانِ اقبال میں انٹر نیشنل ختمِ نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت تقریب جس کے رُوحِ رواں قاری محمد رفیق صاحب ہیں، حسبِ سابق بھر پور مگر انتہائی منظم اور پر وقار طریقے سے منعقد کی گئی، چونکہ ختم نبوت عالمی سطح پر منائی جاتی ہے لہٰذا اِس میں دنیا بھر سے متعدد مستند عُلما ، فقہائ، فاضلین ، جن کا شوقِ غلامی رُسول صلی اللہ علیہ وسلم ولولہ انگیز اور دیدنی ہوتا ہے، کیونکہ ختم نبوت دنیا کا واحد قانون ہے جو تا قیامت جاری رہے گا، اور جس کو کوئی بدل نہیں سکتا! مجھے انتہائی فخر و ناز ہے کہ قاری محمد رفیق صاحب جنہوں نے اپنے بیٹے حافظ شفیق الرحمن کو مکتبِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت و علوم و احکام الٰہی سے بہرہ ورکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ہر سال شمولیت کی دعوت دے کر اعزاز بخشتے ہیں۔ لیکن جہاں دُنیا بھر سے مہمانِ عزیز صرف اور صرف محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مقناطیسی کشش سے ” مرکزِ ثقل “ پہ کھنچے چلے آتے ہیں، اور میزبان دَروازہِ دل وا کیے رہتے ہیں بقول حضرت اقبال ؒ کہ
چاہئے خانہِ دل کی کوئی منزل خالی
شاید آجائے کہیں سے کوئی مہمان عزیز
پاکستان کا وجود ابھی تک کیوں قائم و دائم ہے، محضِ اس لئے کہ میرا خیال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک بِلا امتیاز رنگ و نسل و ذات و پات قاری محمد رفیق جیسے ہر وقت مر مٹنے کیلئے تیار رہتے ہیں، اور اُس ذات کی قسم جس نے ہم سب کو پیدا فرمایا ہے کہ پاکستانی اِس معیار و کسوٹی پر حقیقتاً پُورا اترتے ہیں کہ انہیں اپنے پیارے نبی اپنی مال جان عزت و آبرو سے بھی پیارے ہیں، دُنیا میں کوئی ملک ایسی مثال دِکھا دے کہ 1953ءمیں بیس ہزار مومنین نے اپنی جان اپنے آخری رسول پہ اِسی لاہور کی گلیوں میں نچھاور کر کے دکھا دی تھی۔ بقول حفیظ تائبؒ ،” سوچوں کی گونج تھی کہ قیامت کی گونج تھی، اُس کا سکوت حشر کے منظر دکھا گیا“۔ پاکستان اسی لئے قائم ہے ، اور خدا نہ کرے کہ ایسا امتحان و آزمائش کا وقت اگر اب آجائے تو ہزاروں شہداءکی تعداد لاکھوں میں بدلتے ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا، پارلیمان میں ایمان فردشی کی قابلِ مذمت ترمیم ختم ِنبوت کی جو جرا¿ت کی گئی ہے، قائد اعظم ؒ نے پاکستان بناتے ہوئے فرمایا تھا ، کہ میری مجبوری ہے کہ میری جیب میں کھوٹے سکے موجود ہیں، اور انہوں نے سر ظفر اللہ قادیانی کو وزیرِ قانون بنا دیا تھا۔
یہ سوچ کر میں آج بھی خیالوں میں گم ہو جاتا ہُوں کہ کیا وجہ ہے ، کہ ظفر اللہ کے بعد قادیانی وزیرِ قانون کا تسلسل جاری و ساری ہے کہ وہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا، حتیٰ کہ ترمیم ختمِ نبوت کا جو اندو نہاک و شرم ناک واقعہ ابھی حال ہی میں پیش آیا ہے، 1971 کی جنگ میں یہ بازگشت سنائی گئی تھی کہ فضائیہ کا چیف ظفر چودھری قادیانی ہے ، مگر اُس وقت کی حکومت نے ، وزیر قانون پہ الزام کی طرف کان نہیں دھرے تھے، ہم یہ سمجھتے رہے اور حمود الرحمن کمیشن کے گورگھ دھندے میں بندھ گئے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار نہ یحییٰ خان ہے ، نہ بھٹو ہے اور نہ نجیب ہے ، اس کا ذمہ دار اُس وقت کا فضائیہ کا چیف تھا جس نے اِس مُلک کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دیے،
اگر اصغر خان ، نور خان اور سہیل امان جیسے سپوت موجود ہوں، جنہوں نے خود دہشت گردوں کے خلاف جنگ ضربِ عضب میں مثالی کردار ادا کیا، تو اِس جنگ کے نتائج کچھ اور ہوتے ہیں، کیونکہ دُنیا میں امریکہ سے لے کر پاکستان تک یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک دُنیا کی کوئی فضائیہ اپنی بری فوج کی مدد نہیں کرتی تو جنگ کسی صورت بھی نہیں جیتی جاسکتی، دُنیا کی دو عالمی جنگیں اس کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ برطانیہ نے صرف اپنی فضائیہ کے بل بوتے پر ہٹلر کو بھاگنے پہ مجبور کر دیا تھا، اور وہ پھر مجبوراً برطانیہ کو چھوڑ کر رُوس پہ حملہ آور ہوا اور پھر خود کشی پہ اپنی محبوبہ سمیت مجبور ہوگیا،
1965 کی پاک بھارت جنگ اور 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتائج یکسر کیوں مختلف تھے، فضائیہ نے ہماری بری فوج کی مدد نہیں کی، اور فضائیہ چیف ربوے کی سلامی دیتا رہا، اِسی نا قابلِ معافی جُرم کی بنا پر خدا بھٹو شہید کو کر وٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، اُسے بر طرف کر دیا تھا۔ ہمیں اکہتر کی جنگ میں فضائیہ کے کردار پہ محققین و مُورخین کی آراءکو ضرور سامنے رکھنا چاہئے،
علماءاور مفتیان و فاضلین جن میں ڈاکٹر احمد علی سراج جیسے مثالی مرکزی سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت ، جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، اور جن کا نام کویت سے منسوب کیا جاتا ہے، وہاں محمد نواز میرانی ، اور جناب مجیب الرحمن شامی جیسے بے ریش صحافیوں کا کیا کام ہے کہ وہ سٹیج پہ براجمان ہُوں ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ شامی صاحب اور میری زادِ راہ ایک ہے ، غلامیِ عشقِ رسول ، شامی صاحب بھی اپنے اخبار میں ختم نبوت کے حوالے سے وسیع قلب و جگر رکھتے ہیں اور میں نے بھی روز نامہ نوائے وقت میں سنڈے میگزین میں مسلسل سات ماہ لکھ کر نگاہِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے کی کوشش کی، اور پھر میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں بیٹھے ہماری ختم نبوت تنظیم کے بانی مولانا جناب عبدالحفیظ مکی ؒ نے مجھ نا چیز کو فون کر کے ختم نبوت پر لکھنے کی کوششوں پہ مبارک دی، اور انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا،ساری عمر مولانا عبدالحفیظ مکی کہلائے مگر مرنے کے بعد جنت البقیع میں دفنا کر حضور نے انہیں مدنی بنا دیا، اور شرق پور شریف، اور گولڑہ شریف سے بھی فون آئے، اور میرے گھر میں علمائے کرام کی آمد کا تانتا بندھ گیا۔
قارئین کرام جگہ کی کمی کی وجہ سے اتنا عرض ہے کہ جب میں جناب مجید نظامی صاحب کی اجازت سے قادیانیت کے خلاف اور ختم نبوت کے حق میں لکھ رہا تھا، تو ایک دن مجھے اُن کا پیغام ملا کہ قادیانیت کے خلاف آپ نے ابھی کتنا اور لکھتا ہے؟ میں نے جواباً عرض کیا کہ میں نے تو ابھی تمہید ہی باندھی ہے، میں تو ساری عمر اِس پر لکھ سکتا ہوں۔۔۔۔ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ میرانی صاحب ، اب میں مزید دباﺅ برداشت نہیں کر سکتا !!
قارئین محترم اَب یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ وہ دباﺅ کِس کا تھا، محض ملکی تھا یا اس میں غیر ملکی دباﺅ بھی شامل تھا۔۔۔ اور مجھے بھی جس قسم کے فون آتے ہونگے، اُس پر بھی غور فرمائیں۔
رنگ پاتا ہے مرے خونِ جگر سے گُل شعر
سبزہ فکر مری آنکھ سے نم لیتا ہے


ای پیپر