سندھ ،خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات
14 جون 2019 2019-06-14

پیپلزپارٹی کی قیادت کی گرفتاریوں نے سندھ کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے۔حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کو بھی خارج ازامکان نہیں قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی توجہ بجٹ کو آخری شکل دینے پر بھی رہی۔ جبکہ نیا پولیس قانون گورنر سندھ کی جانب سے اعتراضات اٹھانے اور دستخط نہ کرنے کی وجہ سے تاحال بیچ میں لٹکا ہوا ہے، اب یہ بل دوبارہ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔صوبائی حکومت اور گورنر کے درمیان کشیدگی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف سندھ اور صوبے میں موجود اپنے اتحادیوں سے بھی ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں انہوں نے سندھ پر توجہ دینے کا اشارہ دیا ہے۔ بؑعض حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے نیتجے میں وفاقی حکومت ایک بار پھرسندھ میں ان ہائوس تبدیلی کی کوشش کرے گی ۔ گزشتہ مرتبہ یہ کوشش اس وجہ سے معطل کردی گئی تھی کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادی گرینڈ نیشنل الائنس کے درمیان وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔ اقتدار کے قریبی ذرائع کے مطابق ان ہائوس تبدیلی کی کوشش کو سندھ کے عوامی حلقوں اورحکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں صوبائی وزیر ناصر شاہ کا نام لیا جارہا ہے۔ گزشتہ مرتبہ جی ڈی اے کے کوشش بھی ناصر شاہ کو بنیاد بنا کر کی گئی تھی۔لہٰذا ناصر شاہ سب کے لئے قابل قبول ہوسکتے ہیں۔ اور وہ سید بھی ہیں۔

سندھ بھر میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف دو روز تک مظاہرے ہوتے رہے اور سندھ اسمبلی نے بھی ان کی گرفتاری پرمذمتی قرارداد منظور کی۔ اپوزیشن سرکاری بنچوں کو پریشان کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے ایوان میں ایکو سائونڈ لے کر آئی۔ اپوزیشن سائونڈ سسٹم اپنے چیمبر میں رکھ کر مائیک ایوان میں لے آئے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل بینرز اور پلے کارڈ لیکر پہنچے تو سکیورٹی عملے نے انہیں روک دیا۔

حکومت سندھ کی توجہ سیاسی معاملات پر زیادہ رہی۔انتظامیہ،جرائم پیشہ افراد یا پھر کسی کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لئے انتظار میں بیٹھے ہوئے لوگ اس موقع کو غنیمت سمجھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں وہ قانون کی پکڑ سے بچ جائیں گے۔جس کی وجہ سے صوبے بھر میں امن و مان کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ ابھی حکومت صوبے میں ایچ آئی وی کے مسئلے سے مناسب طور پر نمٹ نہ سکی تھی کہ سماج کے پسماندہ طبقوں اور حصوں کے خلاف نا انصافیوں میں اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خواتین کے خلاف ناانصافیوں ،زیادتیوں اور تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ان مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کا تعلق پچھڑے ہوئے طبقات سے ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خواتین کے خلاف تشدد ادارے انصافیوں کے سولہ بڑے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔گہرائی سے تحقیق کے نتیجے میں اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔ٹنڈو محمد خان میں دو ملزمان نے تیرہ سالہ جمنا سامی کو نشہ پلا کر اغوا کیا اور جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا اور اس کے بعد مین اسٹریم میڈیا میں شور مچ جانے کے بعد ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں اور متاثرہ لڑکی نے عدالت میں ان کی شناخت کر لی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ فوٹو سیشن کا سلسلہ بند کیا جائے انصاف دیا جائے۔

سیٹھارجا کے قریب شادی شدہ سکھاں شوہر اور دیور کے مظالم اور تشدد کی وجہ سے فصلوں میں جا چھپی۔شکایت پر چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ اور لڑکی کو الدین کے حوالے کردیا۔

محرابپور میں چھ بچوں کی ماں یاسمین نے گلے میں پھندہ ڈال کر خود کشی کرلی ۔ متوفیہ پولیس اہلکار کی بیوی بتائی جاتی ہے۔ خانپور کے قریب چار ملزمان نے اپنی چچازاد لڑکی کو گلا دبا کر ہلاک کردیا۔ وراہ میں رشتے کے تنازع پر مسلح افراد نے حملہ کرکے لڑکی کو اغوا کرلیا، ماں سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ ٹنڈو آدم کے قریب بیروزگار نوجوان نے گھریلو مسائل سے تنگ آکر خود کشی کر لی، سامارو میں شریمتی رادھا نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی۔ بغیر پولیس کو اطلاع کے لاش دفنا دی گئی۔ کوٹ غلام محمد کے قریب ایک عورت کو اجتماعی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ کنڈیارو کے قریب صبا بی بی گھانگھرو پراسرار طور پر فوت ہوگئی۔واقعہ کے بارے میں قتل کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ تھر کے شہر چھاچھرو کے گائون کانگیا میں ایک دوسرے کو چاہنے والے لڑکے اور لڑکی نے مبینہ طور پر کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی۔ کیونکہ والدین ان کی شادی کے لئے تیار نہیں تھے۔ لڑکی ہلاک ہو گئی۔ لڑکے کو نازک حالت میں ہسپتال داخل کردیا گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ خود کشی نہیں قتل ہے۔کندھ کوٹ کے قریب بھینس بیچنے سے منع کرنے پر جانل جعفری شوہر کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔ سکھر کے قریب گائوں رضا مہر میں بھائیوں کے ساتھ مل کر شوہر نے بیوی کو ’’کاری‘‘ ہونے کے الزام میں قتل کردیا۔ ٹھل میں ایک شادی شدہ خاتون رانی گل کھوسو گھریلو تشدد سے تنگ آکر تھانے پہنچی۔ انہیں بعد میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جیکب آباد میں ایک شخص وزیر خارانی نے کارو کاری کے الزام میں بہن اور ایک شخص کو قتل کردیا۔ ماتلی میں تین بچوں کی ماں گڑیا کولہی نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ مورو کے قریب گوٹھ دھیرن میں شادی شدہ جوڑے نے گھریلو پریشانیوں تنگ آکراپنی جان لے لی۔ نوابشاہ میں اکیلو بھیل اور اسکی کی بیوی نے اپنی جوان بیٹی کو بازیاب کرانے کے لئے احتجاج کیا۔ میرپور ماتھیلو میں چار بچوں کی ماں کو رات کو سوتے میں قتل کردیا گیا۔

سندھ میں خواتین کی حقوق کے لئے ایک مکمل وزارت اور خواتین کے حقوق کے لئے ایک کمیشن بھی موجود ہے ۔ ان دونوں اداروں کی جانب سے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اور نہ ہی متاثرین کی مدد یا ان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی وزارت قانون، انصاف و انسانی حقوق کے اشتہارات بھی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن سندھ کے پسماندہ طبقات اور کمزور حصے نہ انصاف تک پہنچ پاتے ہیں اور نہ قانون ان تک پہنچ پاتا ہے۔


ای پیپر