سیاست دانوں کے ذہنی اور نفسیاتی معائنے کی تجویز
14 جون 2019 2019-06-14

پورے ہال میں مکمل سناٹا تھا۔ شرکا پر سکتے کی کیفیت طاری تھی۔ کچھ برس پہلے لندن میں ماہ جون کے خوبصورت موسم کے باوجود بھی حاضرین کے چہروں پر پریشانی اور خوف کے آثار تھے۔ وہ سن رہے تھے اور ورلڈ کانگریس آف نیورولوجی کے اُس وقت کے صدر جیمز ایس ٹولے اپنے افتتاحی کلمات میں کہہ رہے تھے کہ ’’یہ ایک بے پناہ صلاحیت رکھنے والی ایسی کیفیت ہے جو بہت زیادہ تباہی کا باعث بنی اور جس نے دنیائے تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے لیکن افسوس اب تک اس پر توجہ نہیں دی گئی، لہٰذا اسی لیے ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ ہم اسے ’’لیڈروں میں پاگل پن کی بیماری‘‘ کا نام دے سکتے ہیں‘‘۔ اُس وقت جیمز ٹولے ویک فارسٹ یونیورسٹی میں سیریبرو ویسکیولر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر تھے اور ذہنی سٹروک کے بین الاقوامی ماہر کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ورلڈ کانگریس آف نیورولوجی کے اجلاس میں اپنی چونکا دینے والی تحقیق پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ دنیا کے رہنما لازماً ذہنی طور پر سب سے زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ بین الاقوامی برادری کو ایسے طریقے اختیار کرنے چاہئیں جن سے دنیا کے رہنمائوں کی ذہنی بیماریوں کی تشخیص ہو، تاکہ ان کا علاج ہو سکے‘‘۔ ڈاکٹر جیمز ٹولے نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور بے حس و حرکت بیٹھے حاضرین کو جھنجھوڑنے کا انداز اپناتے ہوئے کہا ’’یہ مت بھولیے کہ جنگ سب سے پہلے انسان کے اپنے ذہن سے شروع ہوتی ہے اور یہ کہ دنیا کے رہنمائوں کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر مکمل اختیار حاصل ہے اور ان کے مختلف فیصلوں سے ان کی اپنی عوام بھی بہت متاثر ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’’تاریخ کے مختلف ادوار میں عالمی و ملکی رہنما بہت سی ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار رہے ہیں۔ 18ویں صدی میں برطانیہ کے بادشاہ جارج سوئم کو پاگل پن کے دورے پڑا کرتے تھے جن سے اس کی قوت فیصلہ بڑی حد تک متاثر ہوئی جس کے باعث اسے اپنی سلطنت کی کئی اہم کالونیوں سے ہاتھ دھونا پڑا جن میں بعض وہ کالونیاں بھی شامل تھیں جو بعد ازاں متحدہ امریکہ بنیں‘‘۔ موجودہ دور کو دیکھیں تو 1919ء میں امریکہ کے صدر ووڈرو ولسن ذہنی سٹروک کے باعث کئی ماہ تک ناکارہ اور معذور رہے جبکہ اس دوران تاریخ کے ایک اہم معاہدے ’’ٹریٹی آف ورسیلیز‘‘ کو امریکی سینیٹ سے منظوری کا انتظار تھا۔ امریکہ کے دستور میں 1967ء میں 25ویں ترمیم کے ذریعے اس بات کو قانونی شکل دی گئی کہ اگر کسی بناء پر صدر کام کرنے سے معذور ہو جائے تو اس کے اختیارات نائب صدر کو منتقل ہو جائیں۔ اس قانون پر عمل درآمد اب تک صرف ایک مرتبہ ہوا جب 1985ء میں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ٹیومر کے آپریشن سے قبل صبح سویرے اپنے صدارتی اختیارات نائب صدر کو منتقل کیے اور شام کو سرجری کے بعد اختیارات واپس لے لیے جبکہ وہ مسلسل دوائیوں کے زیراثر تھے۔ یہ بات طبی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث تھی کیونکہ دنیا میں لامحدود اختیار رکھنے والے امریکی صدر مکمل طور پر صحت یاب نہیں تھے اور بیماری ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی تھی۔ ڈاکٹر جیمز ٹولے کہتے ہیں کہ بہتر فیصلوں کے لیے ضروری ہے کہ امریکی صدر کو سالانہ جسمانی چیک اپ کے ساتھ ساتھ ذہنی معائنہ بھی کروانا چاہیے۔ ذہنی بیماری کسی وقت بھی حملہ آور ہو سکتی ہے تاہم 60 سال کی عمر کے بعد اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’صدارتی معذوری‘‘ میں تجویز کیا ہے کہ ’’تمام عالمی و ملکی رہنما سالانہ بنیاد پر میگنیٹک ریزوننس امیج اِنگ سکین اور منی مینٹل سٹیٹس ایگزام سے گزریں اور کسی رہنما کے غیرتسلی بخش نتائج کی صورت میں عالمی برادری اس لیڈر کی ذہنی حالت اور اس کے فیصلوں کے بارے میں بہت احتیاط سے بہت کچھ سوچے‘‘۔ اگرچہ شاید ابھی تمام ممالک ان اقدامات کے لیے رضامند نہ ہوں تاہم ڈاکٹر جیمز ٹولے یہ امید کرتے ہیں کہ ورلڈ کانگریس آف نیورولوجی اور اس جیسے دیگر فورمز پر بحث مباحثے کے بعد اس سمت میں پیش رفت ممکن ہوگی اور کسی حد تک عالمی و ملکی رہنمائوں میں پاگل پن کے رجحانات کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔ ذہنی معذوری کی تعریف آسان نہیں ہے اس لیے کہ یہ پتا چلانا مشکل ہے کہ ’’نارمل ذہن کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور پاگل پن کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے‘‘۔ ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’’ایک عام شہری کو اپنا میڈیکل ریکارڈ پوشیدہ رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن عالمی و ملکی رہنما اتنے زیادہ بااختیار اور بااثر ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی کمزوریاں عوام سے چھپانے کا حق نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ تصور کیجئے اگر مذکورہ تجویز پر عمل کرتے ہوئے سربراہوں کے ذہنی چیک اپ شروع ہو جائیں تو شخصی فیصلوں کے باعث نہ صرف انسانیت بڑی بڑی تباہ کاریوں سے بچ سکتی ہے بلکہ بہت سے ممالک میں ایک شخص کی انا اور ضد کے باعث بڑے بڑے سیاسی بحرانوں سے بھی بچا جاسکتا ہے اور شاید اسی طرح کبھی لکھاری امن ہی امن لکھے۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ امریکہ کی طرح پاکستان کے آئین میں بھی سیاست دانوں اور حکمرانوں کے جسمانی معائنے کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی معائنے کی شق شامل ہو جائے لیکن شاید ایسا ممکن نہ ہو کیونکہ آئین میں ترمیم تو انہی سیاست دانوں نے کرنی ہے جن کے بارے میں مذکورہ ترمیم میں ذہنی اور نفسیاتی معائنے کی شرط لگائی جائے گی۔ اگر پاکستان کے شہریوں میں ذہنی امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان سے سوسائٹی میں تشویش پیدا ہو رہی ہے اور میڈیا بھی پاکستان میں مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے کھل کر بات کرنا شروع ہوگیا ہے تو کیا سیاست دان پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا اُن کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے حوالے سے جانچ پڑتال نہیں ہونی چاہئے؟ اگر سیاست دانوں کے ذہنی اور نفسیاتی رجحانات کا ڈیٹا بینک بنالیا جائے تو ممکن ہے ایف بی آر اور نیب کا کام بہت آسان ہو جائے۔


ای پیپر