ہر نفرت کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے؟
14 جون 2019 2019-06-14

آمنہ میری بہت اچھی دوست تھی اس نے ہم سب کو اپنے گھرعید ملن پارٹی کے لیے مدعو کر رکھا تھا وہاں ہم سب سہیلیوں کے علاوہ ایک اورلڑکی بھی موجود تھی آمنہ نے اس کا تعارف کروایا کہ یہ ایمن ہے جو ان کے ساتھ والے گھر میں رہتی ہے،خیر کچھ دیر میں ہم سب گھل مل گئے لیکن ایمن سے سلام دعا کے علاوہ زیادہ بات چیت نہیں ہوسکی۔ اس لڑکی کے چہرے کے تاثرات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔کھانے پینے سے فارغ ہوئے تو آمنہ کی امی نے ہم سب کو عیدی دی جو ہم سب نے خوشی سے وصول کی لیکن جونہی آنٹی نے ایمن کو پیار کیا اور عیدی دی تو وہ بہت بدتمیزی سے بولی مجھے نہیں چاہیے آپ کی عیدی اپنے پاس رکھیں، مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا آپ سب بہت برے ہیں میں سب لوگوں سے نفرت کرتی ہوں۔میں یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ کتنی بدتمیز لڑکی ہے اور کتنا حوصلہ ہے ان لوگوں کا جو پھر بھی اسے برداشت کر رہے ہیں خیر آمنہ نے اسے پیار سے سمجھا کر بٹھا دیا اور مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا میں سمجھ گئی کہ وہ ابھی بات نہیں کرنا چاہتی۔خیر کچھ دیر میں ہم وہاں سے واپس آگئے۔

واپسی میں استاد جی سے ملاقات ہوگئی سلام دعا کے بعد میں نے سرسری سوال کر ڈالا استاد جی یہ بعض لوگ اتنے بدتمیز کیوں ہوتے ہیں کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے پھر میں نے ایمن کا واقعہ سنایا تو وہ ایک آہ بھر کر بولے بچہ کبھی کسی کے بارے میں غلط اندازے مت لگانا تمہیں کیا پتہ وہ کن حالات سے دوچار ہے جاتے جاتے بولے

بچہ جی یاد رکھنا ‘ ہر نفرت کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے ’۔

استاد جی اپنی راہ ہولیے اور میں اپنے گھر کی طرف چل دی گھر آکر بھی استاد جی کی بات ذہن میں گردش کرنے لگی کہ ہر نفرت کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے

آخر اس کا کیا مطلب تھا؟ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی خیر میں نے بھی اگلے ہی روز اپنی دوست آمنہ کو فون کھڑکا دیا اور باتوں باتوں میں ایمن کیبارے میں پوچھا تو اس نے جو داستان مجھے ایمن کی سنائی میں سن کر دم بخود رہ گئی اور استاد جی کی بات کی سچائی کی معترف بھی ہوگئی۔

ایمن کی ماں کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا اس کا ایک چھوٹا بھائی تھا والدہ کی وفات کے بعد ننھیال والوں نے رابطہ منقطع کر دیا اور باپ نے ایک ماہ کے اندر دوسرا بیاہ رچا لیا۔دوسری بیوی اپنے ساتھ اپنی دو بیٹیاں بھی لے کر آئی تھی۔ ایک دم سے گھر کا ماحول تبدیل ہوگیا باپ کی شفقت کا سایہ بھی مدہم ہونے لگا وہ ہر وقت نئی بیگم کے آئو بھگت میں مصروف رہتا اوربیگم اپنی بچیوں کے ساتھ۔ ایمن کا بھائی سارا سارا دن آوارہ گردی کرتا رہتا اور ایمن جسے اس کی ماں نے کبھی ایک پلیٹ تک اٹھانے نہ دی تھی اب سارا سارا دن نوکرانیوں کی طرح سب کی خدمت میں لگی رہتی۔ شام کو جب اس کا باپ آتا تو ماں جھوٹی کہانیاں سنا کر اسے خوب مار پڑواتی۔نویں جماعت کا رزلٹ آیا تو ایمن تین مضامین میں فیل تھی باپ نے سکول چھڑا دیا اور اس طرح وہ سارا دن اپنی سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر رہنے لگی۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دوسری لڑکیوں کو اچھا کھانا کھاتے اور اچھا پہنتے اوڑھتے دیکھتی مگر اس کی قسمت میں بچا کچھا کھانا اور پرانے کپڑے تھے۔ سارا رمضان بھی وہ گھر والوں کے ناز نخرے اٹھاتی رہی۔ویسے تو اس کے ننھیال کے سب رشتہ دار باپ کی دوسری شادی کے بعد ملناچھوڑ چکے تھے لیکن اس عید پتہ نہیں کیا ہوا کہ اچانک بیل بجی اور اس نے دروازہ کھولا تو اس کے ماموں سامنے کھڑے تھے فرط جذبات سے وہ ان کے گلے لگ کر رونے لگی۔اس نے ماموں کو اندر بلایا جو اس کو عیدی دینے آئے تھے لیکن یہ دیکھتے ہی سوتیلی ماں نے ایک طوفان اٹھا دیا اور ماموں کی بہت بے عزتی کی وہ بے چارے خاموشی سے چلے گئے اور اس کی ساری عیدی بھی ماں نے خود رکھ لی۔ اسی دن شام کو وہ سب سیر کرنے جا رہے تھے تو ایمن کے باپ نے اسے آمنہ کے گھر چھوڑ دیا تھا۔اسی لیے جب اسے عیدی ملی تو وہ پھٹ پڑی۔آمنہ کے گھر والوں کو ساری حقیقت کا پتہ تھا اس لیے انہوں نے اس کو سمجھا بجھا کر راضی کرلیا۔

یہ ساری داستاں سن کر مجھے استاد جی کی بات کی گہرائی معلوم ہوئی واقعی ہم وہی بنتے ہیں جوہمارے ارد گرد کا ماحول ہمیں بنا دیتا ہے اور یہ نفرتیں یونہی ایک دم نہیں ہو جاتیں ان کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے،یہ سوشل میڈیا پرجو سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں اپنااپنا غصہ نکال رہے ہوتے ہیں وہ سب کسی نہ کسی کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں جب وہ اپنا اظہار موقع پر نہیں کرسکتے تو اندر ہی اندر یہ جذبہ جنم لیتا رہتا ہے اور پھر جابجا ہمیں نفرتوں کے انبار نظر آتے ہیں خواہ وہ فیس بک ہو، ٹریفک کے دوران ہو یا کسی بھی طریقے سے بس ہمیں نفرت نکالنی ہے چاہے کسی بھی طرح۔ نفرت کے احساس کوجتنا دبایا جائے گا اتنا ہی نفس میں گھٹن اور تلخی پیدا ہوگی اور پھر بہت سے نفسیاتی عوارض کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ جہاں خوف ہوگا وہاں خود بخود نفرت جنم لے گی۔

یہ دنیا نفرت سے بھری ہے اورہم سب نفرت انگیزجذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بغض،حسد، تحقیر، بے جا تنقید، استہزا، تلخ لہجہ،کراہت، غصہ، انتقام یہ سب نفرت کی ہی اولاد ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری نفرت اب گھراور معاشرے سے باہر نکل کر فرقہ وارانہ اور مذہبی جنگوں، علاقائی تعصبات اورقومی اور بین الاقوامی تنازعات تک پھیل چکی ہے۔

دنیا بھرمیں روزانہ تعصب کی بنیاد پربے گنا ہ انسانوں کے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں مگر نفرت کے دیو کی پیاس بجھتی نظر نہیں آتی۔

یہ نفرت ہماری ذات، نظام اور معاشرے کی تباہی کے ساتھ ساتھ کرہ ارض کی تباہی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ نفرت آخرختم کیوں نہیں ہوتی کیونکہ ہم نفرت ختم کرنے کے لئے مزید نفرت پھیلاتے ہیں۔ بالکل اِسی طرح جیسے ہم امن لانے کے لئے مزید جنگیں کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر سے نفرت ختم ہو جائے تو پہلے اپنا دل صاف کریں اور ظرف کو وسیع کریں پھراس محبت کے پیغام کو پھیلاتے چلے جائیں۔آئیے ایک وعدہ کریں کہ کسی سے نفرت نہیں کریں گے اوراوراگر کہیں ایمن جیسے کسی بدنصیب سے سامنا ہوجائے تواس سے کترانے کے بجائے اس کی نفرت کو محبت سے کاٹ دینے کی سعی کریں گے۔


ای پیپر