ہم بیکسوں کا اور ٹھکانہ تو ہے نہیں …؟
14 جون 2019 2019-06-14

ملکی حالات میں جس تیزی سے اتار چڑھائوہو رہا ہے … کوئی اندر کوئی باہر کوئی باہر پھر سے اندر … ’’ریچھ اور بندر‘‘ … ’’ریچھ اور بندر‘‘ … بچے اب اِس سیاست کے مشکل ترین دور کو سمجھنے سے قاصر ہیں … اب تو شادی بیاہ ولیمے کی تقریب میں خاص طور پر ’’بھانڈ‘‘ بھی اچھی جُگت نہیں لگاتے شاید وہ بھی بیچارے ''Under Pressure'' ہیں یا ماحول کی سنجیدگی نے صنعت لطیفہ سازی کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔ ضیاء الحق کے دور میںبھی ہم نے دیکھا بھانڈ مراثی شادی بیاہ کی تقریبات میں ’’اُن‘‘ سے چھیڑخانی بہر حال کر جاتے تھے اور جنرل صاحب مسکراتے ہوئے جب مونچھوں کو تائو دیتے … معنی خیز نظر ڈالتے تو میراثی کی جگت گلے میں اٹک جاتی لیکن بظاہر مذہبی رنگ جنرل ضیاء الحق پر غالب تھا۔ ایسے لوگ اندر سے نرم دل ہوتے ہیں دکھ تکلیف میں دوسروں کو کم کم ڈالتے ہیں …

الّن فقیر کو خاص طور پر جنرل صاحب بلواتے اور پھر الن فقیر جب سندھی کلام اپنے مخصوص انداز میں گاتا …

’’تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا اس اُسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا‘‘ …

یہ کلام جنرل صاحب دیر تک سنتے اور فنکار کی حوصلہ افضائی بھی کرتے … ماسٹر جھُمن (استاد فنکار) جب … ’’یار ڈھاڈی عشق آتش لائی ہے ‘‘ یہ محبت کے ترانے ہیں جو ان لوک فنکاروں نے گائے اور ان کی یہ محبت بھری صدائیں ہمیشہ دل میں اترتی چلی گئیں ۔آج بھی وہ زبان زد عام و خاص ہیں۔ سناتے تو بھی محفل میں رنگ بھر جاتا … چند دن پہلے ڈاکٹر انوارالحق جنرل ضیاء الحق کے فرزند نے کمال محبت سے افطاری پر بلایا تو اِک جنرل کی زندگی کے نرم گوشوں پر دیر تک گپ شپ ہوتی رہی۔ وہاں اصل موضوع پاک بھارت کرکٹ ڈپلومیسی تھی مگر جو بات میرے لئے سب سے اہم تھی وہ جنرل صاحب کی بیٹی محترمہ زین صاحبہ تھیں … نواز شریف بھی زین بی بی سے دعا کروایا کرتے تھے اور بہت احترام کا رشتہ تھا۔ شتروگن سنہا نے زین بی بی کو بہن بنایا ہوا ہے ڈاکٹر انوار نے بتایا کہ زین بی بی کی سالگرہ پر سنہا فیملی کی طرف سے کیک تحائف اور محبت بھری نیک خواہشات کے پیغام لگاتار آتے رہے۔ زین بی بی جیسے سادہ لوح انسان خوش ہوں تو دعا دیتے ہیں … اور ناراضگی کی حالت میں چپ …؟!

نواز شریف اینڈ فیملی پر ’’اتبلا‘‘ کا وقت ہے ایسے ہی آصف علی زرداری اینڈ فیملی بھی ’’سخت‘‘ حالات کی زد میں ہیں … کچھ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان دونوں گھرانوں کی حُب الوطنی کے باعث انہیں یہ سب سہنا پڑ رہا ہے ۔ گوادر اور سِی پیک اِس میں جہاں جناب آصف علی زرداری کا خاصROLE ہے وہیں سی پیک کے حوالے سے بھی میاں نواز شریف بڑے Active رہے۔ یہ اندر کی سیاست ہے ہم باہر کے لوگ ہیں ہم ادھر اُدھر دیکھتے ہیں جو نظر آئے اُسی کو سچ مان لیتے ہیں جو دکھائی نہ دے اُس پر غور نہیں کرتے کہ ہم ’’سب اچھا ہے ‘‘ کہنے والوں کے پیروکار ہو چکے ہیں … جہاں …’’ روٹی کھا سو جا‘‘ والا فارمولا چلتا ہے ۔

آنکھوں سے اشک غم کا جنازہ نکال کے

بیٹھا ہوا ہوں سر میں خس و خاک ڈال کے

کیسا لگا یہ شعر …؟!!! مجھے تو بڑا معنی خیز لگا یہ شعر … ’’نشاط غم‘‘ سے لیا ہے … ایسے اشعار کوئی منجھا ہوا شاعر ہی لکھ سکتا ہے ۔ یہ اشرف جاوید ہیں بزرگ لگنے لگے ہیں۔ اِس حساب سے بھی احترام کے قابل ہیں فرخ سہیل گوئندی صاحب جو بڑے Active صحافی ہیں کے ساتھ اکثر دیکھے جاتے ہیں فرخ سہیل گوئندی کو کون نہیں جانتا جو اِک خاص سیاسی بصیرت والے عالم فاضل انسان ہیں اور علمی و ادبی حلقوں میں ان کا اعلیـ مقام ہے ۔ بہت عالی شان کتابیں چھاپ رہے ہیں فرخ سہیل گوئندی صاحب … پچھلے دنوں فیس بک کے ذریعے محترمہ بیناگوئندی سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اب جوبینا گوئندی کا کام دیکھتا ہوں تو گھبرا جاتا ہوں کہ علم و ادب کے یہ مینار کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ کمال شاعرہ ہیں محترمہ بینا گوئندی کی شاعری لاجواب ہے اور اِن کا شاعروں میں محفلوں میں جیسے بے باک انداز ہے شاعری سنانے پر فرحت عباس شاہ یاد آجاتے ہیں ۔ یہ لوگ مجمع کو چپ کرا دیتے ہیں۔ اِن کا سحر محفل پہ طاری ہو جاتا ہے ۔ بہت کم عمری میں ہم نے استاد دامن کو دھوپ میں حضوری باغ لاہور کی بادشاہی مسجد کے باہر لیٹے دیکھا پھر شام ہوتے وہی عوامی محفل میں دیکھا جہاں لوگ بڑے انہماک سے ان کی شاعری سنتے۔ حبیب جالب، استاد دامن یہ سچ اگلنے والے اب کہاں … ؟؟ یہ علامہ اقبال کے مزار کے زیر سایہ بیٹھے اور یا پھر ساغر صدیقی کی طرح سرکار حضرت علی ہجویر ی د اتا صاحب کے مزار کے گرد چکر لگاتے کہ ان بڑے لوگوں کے مزار کے سائے میں بیٹھنے والے بھی بہت سیکھتے ہیں بہت کچھ حاصل کر لیتے ہیں اور خود بھی کما ل کر دیتے ہیں۔ بابا محمد یحییٰ خاں کو ہم اشفاق احمد اور محترمہ بانو قدسیہ کے گھر کے صحن میں دیکھتے رہے۔ اب یہ بزرگ خود بھی کمال کے لکھاری کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان کی نہایت ضخیم کتابیں اِس دور میں بھی دھڑا دھڑ بِک رہی ہیں پڑھی جا رہی ہیں۔ وابستگی سے ہی سب کچھ ملتا ہے … میں میں میں میں … کرنے سے کچھ نہیں ملتا … بلکہ بہت کچھ چھن جاتا ہے …؟!

بات ہو رہی تھی ’’نشاط غم‘‘ نامی شاعری کی اعلیٰ پائیہ کی دلکش کتاب کی جس میں سارا کلام بھی لاجواب ہے ۔ اشرف جاوید بلاشبہ اعلیٰ پائے کا شاعر ہے اور اُس کی شاعری بھی کلاسِک شعراء کے مقابلے کی شاعری ہے ۔ ہمارے ہاں پکڑ دھکڑ کا دور ہے حوصلہ افزائی کا نہیں ۔ صُلح جو لوگ تاریخ میں کامیاب ہوئے۔ خوفزدہ ماحول بہر حال بریکیں تو لگا دیتا ہے ۔ اشرف جاوید کی اس عالی شان کتاب کا دیباچہ جناب احسان قادر نے لکھا ہے اور دل لگا کر لکھا ہے جس طرح کتاب ’’نشاط غم‘‘ کی ساری شاعری بھی دل لگا کر پوری محبت کے ساتھ لکھی گئی ہے …؟!

کچھ اشعار ملاحظہ کریں ۔ اشرف جاوید کے …؎

نبی کا عشق ملا نعت تک رسائی ہوئی

تمام عمر کا حاصل یہی کمائی ہوئی

دیا وہ آخری خطبہ،وہ آخری دستور

ہر آنے والے زمانے کی رہنمائی ہوئی

غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کریں …؎

کچھ بھی کہو غریب نے جانا تو ہے نہیں

ہم بیکسوں کا اور ٹھکانہ توہے نہیں

ہم اُس کو روک لیتے تھے حیلے بہانے سے

اِس بار کوئی حیلہ بہانہ تو ہے نہیں

وہ بات کرتا نہیں بات کو چھپاتا ہے

اُسے ہنر بھی فریب ہنر بھی آتا ہے


ای پیپر