بجٹ ، غیر سرکاری فلاحی ادارے اور المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ
14 جون 2019 2019-06-14

اپنی تقریر میں بجٹ کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے زیادہ تو کچھ نہیں کہا یہ ضرور کہا کہ ہمارے ہاں خیرات دینے والے تو بہت ہیں البتہ ٹیکس دینے والے نہایت کم لوگ ہیں، یہ بات انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کی کہ وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور اپنے دیگر اداروں کے لئے زکوٰة، خیرات اور امداد وغیرہ لیتے رہتے ہیں، متمول حضرات اپنے اطمینان قلب کے لئے فلاحی اداروں میں امدادی فنڈز وغیرہ دیا کرتے ہیں البتہ ٹیکس دیتے ہوئے وہ اپنا دل بڑا نہیں کرسکتے ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی مذہبی محافل منعقد کرائی جاتی ہیں، خطیبوں، نعت خوانوں، قوالوں اور میلاد میں حصہ لینے والوں پر نوٹ نچھاور کئے جاتے ہیں، یہ کوئی بری بات بھی نہیں لیکن اپنی آمدن اور اثاثوں کے مطابق ٹیکس دینا بھی قومی فرائض میں شامل ہے لیکن بدقسمتی سے اس شعبے میں ہمارا حوصلہ نہیں ہوتا کہ ہم رفاہی فلاحی اداروں میں دل کھول کر چندہ دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی ادا کریں، شائد کچھ ٹیکس وصول کرنے والوں کی بھی کوتاہی ہو، کیونکہ عموماً کلچر یہی ہے کہ لاکھوں روپے کا ٹیکس واجب الادا ہو تو ٹیکس افسر کو دوچار لاکھ ”تحفے“ میں دے کر باقی ٹیکس رقم بچا لی جاتی ہے، اب اس نظام کو بہتر کرنے کا وقت آ گیا، بلاشبہ اس بجٹ سے شاید سانس لینا بھی دشوار ہو جائے مہنگائی کا ”سونامی“ سر پر کھڑا ہے حکومت کو اس سلسلے میں بھی کچھ اقدامات کرنے چاہئیں تھے۔ اب کم از کم خزانے کو بھرنے کے لئے بڑے بڑے مگرمچھوں سے وصولیاں تو کی جائیں، جن پر نیب نے گرفت کر رکھی ہے اور جن کے عدالتی فیصلے بھی آ رہے ہیں، اب ان سے سزا جرمانے کی رقوم وصول کی جائیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر کوئی ”سودے بازی“ کر کے انہیں پاک صاف قرار دے دیا جائے، یہ عام آدمی کی سوچ ہے، اب تو سب سے آسان کام فلاحی یا خیراتی ادارے بنانا رہ گیاہے، آپ ایک خیراتی ہسپتال قائم کر لیں کوئی سکول کالج یا کوئی اور ادارہ قائم کر لیں لوگوں سے زکوٰة خیرات امداد اور فنڈز وغیرہ اکٹھے کر لیں کچھ ادارے پر خرچ کریں باقی ادارے کے ملازمین (جن میں بیشتر اپنے لوگ ہی ہوتے ہیں) کی تنخواہوں یا اخراجات پر صرف کریں، اللہ اللہ خیر صلّا.... یوں ٹرسٹ یا ادارہ بھی مضبوط ہو جاتا ہے اور لوگوں کی امداد سے خاندان بھر کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ ہم سبھی فلاحی اداروں کو تو نہیں کہتے ہیں لیکن اس فلاح کے کاموں کی آڑ میں آخرت کے ساتھ اپنی دنیا سنوارنے والوں کی بھی کمی نہیں، تھوڑی سی مشہوری ہو جائے اور آپ نامور شخصیت کا روپ دھار لیں تو ایسے ادارے قائم کر کے فلاحی کاروبار حیات میں سرخرو ہو جاتے ہیں، یہ ساری باتیں لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم تمام فلاحی عوامی اداروں کو طنز کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس ماحول میں بعض نامی گرامی ادارے بھی ہیں جن میں ایک اہم نام المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کا ہے، جو دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ اس ٹرسٹ کے بارے میں ہمارے نہایت متحرک ادبی دوست محمد نواز کھرل نے کچھ ایسی باتیں بیان کیں کہ دل کو ایک گوناگوںسکون محسوس ہوا، خاص طور پر روہنگیا کے مسلمانوں کے لئے یہ واحد ادارہ ہے جس نے سب سے پہلے بنگلہ دیش پہنچ کر ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کی بلکہ یہ خدمت اب تک جاری ہے المصطفیٰ ویلفیئرٹرسٹ یوں تو ساری دنیا میں جہاں جہاں مسلم امہ مسائل سے دوچار ہے اپنی خدمات وقف کئے ہوئے ہے لیکن میانمار کے بے گھر اور مظلوم مسلمانوں کے لئے ملین پونڈ کی امداد قابل تحسین ہے اب تک ایک لاکھ خاندانوں کو اشیائے خوردنی مہیا کی جا چکی ہیں، اس کے علاوہ واٹر پراجیکٹ کے تحت مہاجرین کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور علاج معالجے کی سہولیات بھی بہم پہنچائی جا رہی ہیں، یہی نہیں ملائیشیا اور شامی مہاجرین کے لئے المصطفیٰ ٹرسٹ کی خدمات بھی قابل ستائش ہیں، وطن عزیز میں المصطفیٰ میڈیکل سنٹر گلشن اقبال کراچی میںقائم ہے جہاں مختلف امراض کا مفت علاج کیا جاتا ہے، پچھلے تین برسوں میں طبی خدمات سے لاکھوں افراد صحت یاب ہو چکے ہیں، اسی طرح اولڈ ہومز کے ساتھ ساتھ یتیم بچوں کی کفالت اور اجتماعی شادیوں میں لاکھوں روپے کا جہیز اور دیگر اخراجات کئے جا چکے ہیں، 1992ءسے لاہور میں المصطفیٰ میڈیکل سنٹر کام کر رہا ہے۔ زلزلے کے متاثرین ہوں یا سیلاب زدگان تمام کی امداد کی جاتی ہے۔ ویسے تو یہی کام کچھ اور ادارے بھی کرتے ہیں لیکن بغیر کسی اشتہاری مہم اور ذاتی پروجیکشن کے المصطفیٰ ٹرسٹ سب سے زیادہ اور بہتر کام کر رہا ہے، ایسے اداروں کی ہر سطح پر پذیرائی ضروری ہے۔

میں اس ٹرسٹ کے روح رواں عبدالرزاق ساجد، حاجی حنیف طیب، لارڈ نذیر اور ٹیم کے دیگر خادمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ خاموشی سے ضرورت مندوں اور مستحق افراد کی زندگی کو ہر سطح پر بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں مجھے خوشی ہے کہ ہمارے ہمدم دیرینہ محمد نواز کھرل نے ہمیں المصطفیٰ ٹرسٹ سے متعارف کرایا، اللہ تعالیٰ ایسے احباب کو مزید کامرانیاں اور برکتیں عطا فرمائے ہمیں چاہئیے کہ اپنی زکوٰة ،خیرات ،صدقات اور امدادی رقوم دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے اس ٹرسٹ کو عنایت کریں اور نیکیاں کمائیں ان مشکل حالات میں جو بھی صاحب استطاعت دوسروں کی امداد میں مصروف ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔


ای پیپر