” پیارے دانشورو ! باہر مت نکلنا“
14 جون 2019 2019-06-14

میری مختصر سی پروڈکشن ٹیم میں شامل کیمرہ مینوں میں سے ایک نے کہا، ’ آپ کو مزدوروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے مشکل ہو گی، وہ ان پڑھ ہوتے ہیں ،زیادہ بات نہیں کر سکتے اور یوں بھی کیمرے کے سامنے بات کرنا آسان نہیں ہوتا، بڑے بڑے تجربہ کار رہ جاتے ہیں‘ مجھے اس حقیقت سے آگاہی ہے کہ بہت سارے اچھے خاصے کیمرے کے سامنے بول نہیں پاتے، میں نے برس ہا برس خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ پروگرام ریکارڈ کئے ہیں، یہ وفاقی بجٹ کے بعد آنے والی دوسری صبح تھی اور میراآئیڈیا تھا کہ بجٹ پر اس عام آدمی سے بات کی جائے جس کے بارے میں بڑے بڑے وزیر ، مشیر اور دانشور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے اپنی ٹانگوں پر ٹانگیں چڑھا کے کہے جا رہے ہیں کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ راج، مزدور، مستری، رنگ ساز ، پلمبر، کارپینٹر اور بہت سارے دوسرے، ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ بجٹ کیسا ہے۔ اچھرہ، چونگی امرسدھو، اقبال ٹاﺅن، ملتان چونگی، لال پُل، ریلوے سٹیشن اور بہت سارے دوسرے علاقوں میں آپ کو یہ مزدور سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں مل جائیں گے، ان کے رنگ سانولے اور کپڑے میلے ہوں گے، قومی زبان اُردو بولنا بھی محال ہوگی مگر یہی اصلی پاکستانی ہے جس نے بجٹ کا بوجھ برداشت کرنا ہے۔

یہ صبح کے سات، ساڑھے سات بجے کا وقت تھا مگر سورج بتا رہا تھا کہ وہ اتنا ہی گرم ہے جتنی حکومت اپنے سیاسی مخالفین پر، اچھرہ موڑ پر گاڑی رکی، کیمرے باہر نکالے تو درجنوں میرے اردگرد جمع ہو گئے اور یہ تجزیہ دھرا رہ گیا کہ ان پڑھ مزدور بات نہیں کرنا جانتے، ہر کوئی بات کرنے کے لئے اتنا بے چین تھا کہ باقاعدہ کہنا پڑ رہا تھا ، ٹھہرو بھائی، رکو، میں تمہاری آواز اور بات ہی اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لئے آیا ہوں۔ کیمروں میں ریکارڈ ہونے والا منظر اور آوازیں گواہ ہیں کہ سومیں سے ننانوے حکومت کے باغی تھے اور کچھ اس حد تک باغی تھے کہ ہمیں پروگرام آن ائیر کرتے ہوئے ان کی بات یا تو کاٹنی پڑے گی یا اس پر’ بیپ‘ لگانی پڑے گی، ہاں، ننانوے میں سے ایک ایسا بھی تھا جس نے کہا عمران خان نے نواز شریف اور زرداری کو پکڑ کے بہت اچھا کیا ہے اور پھر اس بات کو سن کر تڑپ کر آگے بڑھنے والے اور اس کی نفی کرنے والے بھی قابو نہیں آ رہے تھے، میں کہہ رہا تھا کہ بھائی لوگو، اس کو بھی اپنی بات کہنے کاحق ہے۔ اس شخص کا موقف پروگرام کو’سوکالڈ بیلنس ‘کرنے کے لئے بھی ضروری تھا۔

کون کہتا ہے کہ میرے مزدور اورمحنت کش جاہل ہیں بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ وہ بہت سارے حفیظ شیخوں اور سلمان شاہوںسے زیادہ معیشت کو سمجھتے ہیں۔ مزدوروں کو قطعی طور پر علم نہیںتھا کہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی فنڈز کیا ہوتے ہیں، ان کی تقسیم کیسے ہوتی ہے اور ملک بھر میں ترقیاتی فنڈز کس طرح کم ہوئے ہیں مگر وہ مجھے بتا رہے تھے کہ جب نواز شریف اور شہباز شریف کی حکومت تھی تو ا س وقت ہسپتال، سکول اور سڑکیں بنتی تھیں اور انہیں اتنا کام ملتا تھا کہ وہ ایک کام سے انکارکر کے دوسرے کام پر چلے جاتے تھے جہاں انہیںسو، دوسو زیادہ ملتے تھے مگر جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے تب سے سب کام ہی بند پڑے ہیں۔ وہ سرمایہ کاری کے لئے ساز گارماحول‘ اور ’ ایِز ٹو بزنس‘ ( Ease to Business) جیسی اصطلاحات سے لا علم تھے مگر وہ کہہ رہے تھے کہ جب نیب سرمایہ کاروں کو پکڑے گا تو وہ اپنا پیسہ چھپا لیں گے۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب سرکار ہسپتال، سکول اور سڑکیں بنانا بند کر دیتی ہے اور پیسہ خرچ کرنے والوں کو پکڑنے لگتی ہے تو پھر کوئی بھی کاروبار نہیں کرتااس کے بعد نہ عام آدمی کو روزگار ملتا ہے اور نہ ہی حکومت کو ٹیکس۔ مجھے کچھ زیادہ ہی سانولی رنگت والے پکے شخص نے چونگی امرسدھو میں پہلے بتایا اور پھر سمجھایا، بتایا یہ کہ اس کی رمضان المبارک سے لے کر اب تک اس کی تین دیہاڑیاں لگی ہیں، وہ رنگ کا ایک بہت اچھا کاریگر ہے اور اگرکام ملتا رہے تو وہ روزانہ پندرہ سو سے اٹھارہ سو کما سکتا ہے، اس نے پوچھا اگر اسے کام ملتا رہے تو وہ مہینے میں کتنا کمائے گا، میں نے فورا حساب لگایا اور کہا چالیس سے پچاس ہزار تو مل ہی جائیں گے، اس نے جواب دیا کہ اگر اسے کام ملتا رہے تو وہ نہ صرف گھر کے اخراجات پورے کرے بلکہ سال ، دو سال کی بچت سے ایک چھوٹی سی گاڑی بھی لے لے، پھر اس گاڑی کی بھی روزانہ کی انکم آئے اور اس کے مالی حالات بدل جائیں، اس کے بعد اس نے مجھے سمجھایا کہ اگر کوئی دو، تین برس کے بعد اس سے پوچھے کہ تمہارے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔

میرا ’فرض‘ تھا کہ یہ سب ان پڑھ اور جاہل لوگ جو شیر، شیر کے نعرے لگا رہے ہیں انہیں بتاﺅں کہ نواز شریف اور شہباز شریف بہت کرپٹ تھے مگر وہ سب میری بات سننے کے لئے تیار نہیںتھے، وہ مجھے بہت قریب سے گزرنے والی میٹرو بس دکھا رہے تھے اورکہہ رہے تھے کہ وہ بیس روپے خرچ کر کے اے سی کی ٹھنڈی ہوائیں کھاتے ہوئے گجومتہ سے شاہدرہ تک چلے جاتے ہیں۔اچھرہ میں ایک یہ بتا رہا تھا کہ اس کا بچہ بیمار ہوا تو وہ چلڈرن ہسپتال لے گیا، دیہاڑی بھی ٹوٹی اور ڈاکٹروںنے سات سو بیس روپے کی دوائیاںبھی لکھ دیں۔ غازی روڈ پر ایک مزدور نے بتایا کہ اس کا دو سال کا اکلوتا بیٹا جنرل ہسپتال میں ہے، اسے نالی لگی ہوئی ہے، اس کے پاس دوا کے لئے پیسے نہیں، وہ روزانہ باہر آکے کھڑا ہوجاتا کہ کوئی اسے مزدوری کے لئے لے جائے مگر کوئی بھی نہیں آتا، ایک اور بتا رہا تھا کہ وہ رات دو بجے تک تیل کی شیشیاں پکڑ کے یہاں بیٹھا رہا مگر کسی کے پاس مالش کروانے کے پیسے بھی نہیں تھے اور پھر صبح سات بجے پھر اڈے پر آگیا کہ مزدوری مل جائے اور اب اس کی جیب میں ایک روپیہ تک نہیں، وہاں دکھ، درد، افسوس اور مجبوری سے بھری کہانیاں ہی کہانیاں تھیں، وہ ماہرین سیاست اور معیشت نہیں تھے مگر قائل تھے کہ عمران خان کی حکومت میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔

ہاں ! کالم کا اصل مقصد تو میں بھول ہی گیا، میں نے اللہ کے دوستوں یعنی محنت کشوں کی آنکھوں میں بے بسی، مجبوری ،لاچاری اور آنسو ہی نہیں دیکھے، غم وغصہ بھی دیکھا ہے کہ ان سب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے لہٰذا میری اپنے ان تمام محترم ومکرم دانشوروں سے گزارش ہے جو کسی وزیر ، کسی مشیریا کسی جرنیل کے ساتھ تعلق کی وجہ سے بجٹ کی تعریفیں کر رہے ہیں، اسے آنے والے دنوں کی ایک اچھی بنیاد قرار دے رہے ہیں، وہ براہ کرم اپنے تجزیئے اور تبصرے چینلوں کے ٹھنڈے اور محفوظ سٹوڈیوز میں ہی کریں، اپنی حفیظ شیخیاں اور حماد اظہریاں وہاں ہی بکھیریں کہ اگر وہ ان محروم اور مجبور عوام میںآ گئے تو انہیں علم ہو گاکہ غربت ، بے روزگاری اورناامیدی سے بڑھ کے کوئی دانشوری نہیں، ایسا نہ ہوکہ انہیں اپنی عزت اور کپڑے بچا کے نکلنا مشکل ہوجائے۔ بھوکے ، بے روزگار اور ناامیدشخص سے بڑا بدتمیز کوئی نہیں ہوتا، ان سے دور ہی رہنے میں عافیت ہے بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جائے، توں توں فاصلہ اور سیکورٹی بڑھاتے چلے جائیں، پھرنہ کہیے گاکہ کسی نے بتایا ہی نہیں تھا۔


ای پیپر