چھوٹی چھوٹی بغاوتیں کیا بتاتی ہیں؟
14 جون 2018

ایک زمانہ تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت فیصلے کرتی تھی اور پارٹی کے باقی اراکین اسمبلی اور کارکنان اس کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔ پارٹی کی قیادت پر اندھا اعتماد تھا کہ وہ کوئی غلط فیصلہ کر ہی نہیں سکتی لیکن یہ زمانہ بھٹو اور بینظیر بھٹو کا تھا۔ جن کا عوام اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ رابطہ بھی تھا اور ان کی عوام کی سیاسی نبض پر پاتھ بھی ہوتا تھا۔ قیادت جانتی تھی کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟ اور عوام کی امنگوں کو معنی دینا اور اس کو حالات سے جوڑنا بھی آتا تھا۔ یوں شاید ہی کوئی ’’بغاوت‘‘ سامنے آئی ہو۔ رنجشیں یا ناراضگی ہوتی بھی تو اس کو مطمئن کردیا جاتا تھا۔ لیکن اب ذوالفقار علی بھٹو بھی نہیں رہے اور بینظیر بھی۔ سب سے بڑھ کر پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کاوہ طریقہ کار بھی نہیں رہا۔ اب فیصلہ سازی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کرتے ہیں یا پھر ان کی ہمشیرہ میڈم فریال تالپور کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا عملاً فیصلہ سازی میں بہت ہی کم عمل دخل ہے۔ پارٹی کے اس طریقہ کار میں لابنگ زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی میں منعقد ہونے والے انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ کی تقسیم ایوارڈ مشکل کام ہو گیا۔
پارٹی گزشتہ انتخابات سے پہلے ہی اس حکمت عملی پر عمل پیرا رہی کہ خاص طور پر سندھ میں کسی بھی ایلیکٹ ایبل کو پارٹی فولڈ سے باہر نہ چھوڑا جائے۔ قیادت کو ڈر تھا کہ اگر الیکٹ ایبل کا اگر کوئی مضبوط گروپ پارٹی سے باہر رہ جاتا ہے تو اسلام آباد یا لاہور گٹھ جوڑ کر کے اس کے خلاف میدان میں اتر سکتا ہے اور ایم کیو ایم کی مدد سے پیپلزپارٹی کے بغیر سندھ میں حکومت بن سکتی ہے۔ یہ تقریبا وہی فارمولا ہے جو جام صادق علی، مظفر حسین شاہ، لیاقت جتوئی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن تب بینظیر بھٹو زندہ تھی۔ اور بھٹو کا سحر سندھ کے لوگوں کے ذہن سے اترا نہ تھا۔ لہٰذا یہ فارمولا ایک مدت تک کھینچ تان کر چلایا گیا۔ لیکن بعد میں واپس زمینی حقائق پر آنا پڑا اور پیپلزپارٹی حکومت میں آتی رہی۔ پارٹی نے بعد میں یہ حکمت عملی بنائی کہ معاشرے کے سرگرم حلقوں کو ان کے معاشی اور سماجی مفادات کے ذریعے پارٹی کے ساتھ جوڑ کر رکھا جائے۔ اسی کے ذریعے پارٹی چلائی جائے۔ انتخابات ہوں یا کوئی اور سرگرمی، یہی حلقے اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک حد تک یہ صورتحال بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی نظر آتی ہے لیکن اس پر چیک اینڈ بلینس موجود تھا۔ اب پارٹی حکمت عملی کا یہ سنگ بنیاد بن گیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کی خوش قسمتی ہے کہ سندھ میں واحد جماعت ہے جس کا ضلع اور تحصیل سطح پر تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے۔ کسی بھی ملکی سطح یا صوبائی سطح پر کام کرنے والی پارٹی کے پاس یہ نیٹ ورک موجود نہیں۔ جو اس کو سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات میں کام آتا۔
اس حکمت عملی کا ایک پہلو یہ بھی نکلا کہ پارٹی میں مخصوس طبقے اور خاندانوں کی اجارہ داری ہوتی گئی۔ ان خاندانوں نے نہ صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بلکہ بلدیاتی انتخابات اور پارٹی کی صوبائی، ڈویژنل اور ضلع سطح کے عہدوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ دوسرا پہلو یہ نکلا کہ نئے سیاسی خاندان وجود میں آگئے، جو اب کسی نہ کسی شکل میں پارٹی کو چیلینج کر رہے ہیں۔
یعنی پیپلزپارٹی الیکٹ ایبل پر تکیہ کرنے لگی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر گزشتہ ماہ ایک کوشش کی گئی کہ
درگاہوں کے گدی نشینوں کا اتحاد بنے۔ اور اس کے لئے پیر پگارا کی حر جماعت، ہالہ کے مخدوم کی سروری جماعت، ملتان کے شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے سربراہان کے رسمی اور غیر رسمی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ ۔ اگر حر جماعت، غوثیہ جماعت، اور سروری جماعت کا اتحاد ہو جاتا تودوسری چھوٹی موٹی درگاہوں کے گدی نشین بھی اس میں شامل ہو جاتے لیکن پیپلزپارٹی نے اس حکمت عملی کو یوں ناکام بنایا کہ پیر نورمحمد شاہ اور ہالہ کے مخدوموں کو ایڈجسٹ کر لیا۔ اب گدی نشینوں کا نہیں بلکہ جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو رہا ہے۔
ہالہ کے مخدومووں نے پیپلزپارٹی سے بغاوت کی کوشش کی لیکن انہیں صوبے میں پیپلزپارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنتا ہوا نظر نہیں آیااور یہ بھی کہ انہیں مٹیاری کی تقریباً تمام نشستیں دے دی گئیں۔ تین پشتوں سے پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاداری کے ساتھ رہنے والے مخدوم کی اس بغاوت نے پارٹی میں یہ پیغام عام کیا کہ پارٹی پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ اس کو جھکایا جاسکتا ہے۔ پارٹی میں چونکہ جمہوری اقدار کا فقدان ہے لہٰذا ایک مربتہ رکن اسمبلی رہنے کے باوجود اب مسلسل رہنا چاہتے ہیں کسی اور کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ انتخابی سیاست میں خاندانی نوازی زوروں پر ہے۔ گھوٹکی کے مہر، ٹھٹھہ کے شیرازیوں اور ہالہ کے مخدوموں کو بات سمجھ میں آگئی ، واپس پی پی پی میں آگئے ہیں۔ وہ رسک لینے کے لئے تیار نہیں۔ گھوٹکی میں لونڈ، پتافی۔ مہر اور دھاریجو خاندان حاوی ہیں مہر واپس پیپلزپارٹی میں آگئے ہیں۔
سکھر میں خورشید شاہ خاندان حاوی ہے جہاں پر باقی پارٹی کے رہنماؤں اور گروپوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ، اسلام الدین شیخ خاندان سے وہ خود سنیٹر ہیں اور ان کے بیٹے ارسلان شیخ سکھر کے میئر ہیں۔
سکھر کے محمد علی شیخ جوآصف علی زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، انہیں پکا آسرا دینے کے بعد بھی ٹکٹ نہیں دی گئی۔ علی محمد شیخ سکھر ضلع کونسل کے چیئرمین اسلم شیخ کے بھائی ہیں۔ سکندر شورو ، عبدالحق بھرٹ، علی نواز شاہ، ستار راجپر، ٹنڈو آدم کے شاہنواز جونیجو خاندان سے روشن جونیجو کے بیٹے علاؤ الدین جونیجو، جہانگیر جونیجو، انہوں نے کھپرو سے بھی فارم داخل کئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ فدا ڈیرو خاندان سے مل کر مہم نہیں چلائیں گے۔
کوٹری سے سابق صوبائی وزیر جام شورو کے قریبی رشتے دار سکندر شورو کو پارٹی نے ملک اسد سکندر کی ضد کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا۔ وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ضلع پر قبضہ کرنے والوں کو شکست دیں گے، یہاں پر ملک اسد سکندر نے بغاوت کردی تھی۔ اب کوٹری کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں ان کے حوالے کردی گئی ہیں۔ دادو میں پیر مظہرالحق اور قمبر شہدادکوٹ میں نادر مگسی کی بغاوت کی خبریں بھی گردش کرتیر ہیں۔ لیکن اب عامر مگسی اور نادر مگسی اور پیر مظہر کے بیٹے پیر مجیب الحق کو ٹکٹ دی گئی ہے۔ اسی طرح کی بغاوتیں خیرپورناتھن شاہ میں شمس النساء قمر لغاری نے،تھانو بولا خان میں صالح برہمانی ، ٹھٹھہ سے ارباب رمیز میمن ، ٹنڈو محمد خان میں میر سجاد علی تالپور ، نوشہروفیروزستار راجپر، عبدالحق بھرٹ اور عثمان عالمانی نے بھی کی ہیں۔ تھرپارکر جہاں پر گزشتہ انتخابات میں پارٹی نے کلین سوئیپ کیا تھا، اب وہاں بغاوت ہو رہی ہے۔ پارٹی قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر پارٹی امیدوار کا فیصلہ نہیں کر پائی ہے۔ اس ریگستانی ضلع کی ستم ظریفی یہ رہی ہے کہ ہمیشہ دو سے زائد نشستوں پر باہر کے لوگ آکر الیکشن لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔ یہاں پر نگرپارکر کے عبدالغنی کھوسو اور علی اکبر راہموں کو نظرانداز کیا گیا اور اب وہ آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں۔
بدین سے کمال خان چانگ تین نشستوں سے امیدوار ہیں۔
تھر میں ارباب خاندان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہے۔ دوسری طرف پارٹی سابق اسمبلی اراکین مہیش ملانی، فقیر شیر محمد بلالانی، ہمیر سنگھ، ڈاکٹر کھٹومل جیون امیدوار تو ہیں لیکن پارٹی ان کے لئے کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔
قوی امکان یہ کہ ہے کہ ان میں سے اکثر امیدواران پارٹی کے دباؤ، اور مستقبل کے وعدے اور آسرے یا کسی اور وجہ سے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں، لیکن یہ صورتحال دو چیزوں کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔ ایک یہ کہ پارٹی کی حکمت عملی میں عام انتخابات کے لئے امیدواروں، بلدیاتی امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں کے انتخاب کے ضمن میں کہیں غلطی کی ہے۔ وہ پارٹی میں آنے والوں کو ایڈجسٹ اور اکموڈیٹ نہیں کر سکی ہے اور انہیں مطمئن بھی نہیں کرپائی ہے۔ ایک بے اطمینانی کی کیفیت جاری رہے گی۔ دوسری اہم چیز یہ کہ کوئی بھی ملک گیر پارٹی یا صوبائی سطح کا اتحاد اس پوزیشن میں نہیں کہ پیپلزپارٹی کے اندر اس اختلاف اور ناراضگی کو متبادل میں تبدیل کر سکے۔


ای پیپر