زلفی بخاری اور کپتان کے نعرے
14 جون 2018

نگران حکومتیں جو ملک میں 25 جولائی تک شفاف اور غیر جانبدار انتخاب کرانے کے لیے مقرر کی گئی تھیں اب ان کے تماشے روز بروز کھل رہے ہیں۔ نت نئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں۔ پنجاب کی ہی مثال لے لیجیے جو شخص روزانہ مسلم لیگ (ن) کا تیا پانچہ کر کے ٹی وی شو سے گھر جاتا بلکہ وہ اس پر اکتفا ہی نہیں کرتا ، دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے جو کسر رہ جاتی اس کو ٹویٹ کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ نگرانوں کی کہانی کا دلچسپ تماشا زلفی بخاری کی صورت میں آیا ہے جو افسوس ناک ہے، سوال یہ ہے کہ یہ کہانی ہمارے عزت مآب با چیف جسٹس تک نہیں پہنچی کہ انصاف کی دیواروں پر کھڑے پاکستان میں ایسا بھی ہوتا ہے۔ معاملہ ایک برطانیہ میں آف شور کمپنیاں رکھنے اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے والے زلفی بخاری کا ہے۔ جو چارٹر طیارے میں سوار ہو کر کپتان اور اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے دیار حجاز پہنچا ۔ عون چوہدری نامی شخص بھی ان کے ہمراہ تھا۔ ایئر پورٹ پر امیگریشن نے زلفی بخاری کوروک لیا مطلوب شخص پاکستان سے نہیں جا سکتا۔ خود کپتان حرکت میں آئے اپنا فون استعمال نہیں کیا۔ دو پاکستان کا نعرہ لگانے والا کہہ رہا تھا کس کی جرأت کہ روکا گیا اور کیوں روکا گیا۔ عون چوہدری کا فون ایسا گھوما کہ وزارت داخلہ حرکت میں آ گئی پھر قانون، ضابطے اور اصولوں کی جس انداز میں وزارت داخلہ نے مٹیپلید کی، اس کی کہانی ایک ایک کر کے ہمارے تک پہنچ رہی ہے۔ یہ کہانی شاید پاکستانی سیاست کے اُبھرتے اور مقبول ہوتے لیڈر عمران خان کے مبینہ اثرو رسوخ کے بوجھ میں دب جاتی۔ اگر نگران وزیر اعظم وزارت داخلہ کی پھرتیوں کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب نہ کرتے کہ زلفی بخاری کیوں اور کیسے گیا ؟ضابطے اور اصول کیوں اور کیسے ٹوٹے؟؟۔ دلچسپ انکشاف تو نگران وزیر داخلہ کے بارے میں ہوا ہے کہ وہ تو کپتان کا آدمی ہے اور عمران خان فاؤنڈیشن کے ممبررہے ہیں ۔اب زلفی بخاری کے باہر جانے کی رپورٹ نگران وزیر اعظم کی میز پر پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ کپتان نے سیکرٹری داخلہ کو فون کر کے زلفی بخاری کو ترش لہجیے میں کلیئر کرنے کا کہااور گارنٹی دی کہ وہ چھ دنوں میں واپس آ جائیں گے اور وہ انہیں ساتھ لائیں گے۔ جس پر سیکرٹری داخلہ نے نگران وزیر داخلہ کو بتایا ای سی ایل سے نکالنے کا اختیار صرف اور صرف کابینہ کے پاس ہے۔ تاہم بلیک لسٹ سے نام نکالنے اور ڈالنے کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زلفی بخاری ولد سید واجد حسین بخاری کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے جو اجازت دی گئی ، اس سے متعلق نگران وزیر سے پوچھا جانا چاہیے کیا ایسی اجازت پاکستان کے ہر شہری کو میسر ہے۔ انصاف پامال ہوا ہے آئین کا آرٹیکل 184 (1) تھری بھی موجود ہے۔ یہ معاملہ الگ ہے۔
شیخ رشید کے بریت کا حکم آ چکا۔بریت نے بہت سے سوال اُٹھا دیے ہیں کہ ایک طرف ’’اقامہ‘‘ تھا، سپریم کورٹ کے ایک حکم سے وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔ اختلافی نوٹ، فیصلہ نہیں ہے فیصلہ تو اکثریت کا ہے۔ شیخ رشید فیصلے کے بعد نواز شریف کو للکا رہے ہیں ۔ جو بندہ چوہدری ظہور الٰہی سے عمران خان تک کسی کے پیچھے چھپ کر سیاست کرتا رہا ہو جو موقع ملنے پر وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہو ۔ جس کی سیاست یہ ہو جو مسلسل بلدیاتی سیاست میں ناکام ہوا ہے۔ اسے ذرا سنبھل کر چلنا چاہیے۔ جو شخص پارلیمنٹ میں جانے کے لیے دو حلقوں سے الیکشن لڑے ان کو شکست بھی یاد
رکھنی چاہیے۔ 2008 ء میں بھی لڑا، ہاشمی اور حنیف عباسی نے انہیں شکست دی۔ وہ تو دونوں جگہ رنر اپ بھی نہ بن سکا۔ اب معاملہ جو اختلافی نوٹ میں قاضی فائز عیسیٰ نے اُ ٹھایا ہے وہ کافی سنجیدہ ہے اب وکلا برادری اور خاص طور پر وکلا کی کونسلیں بھی اپنے ردعمل کے ساتھ میدان میں آ گئی ہیں کیونکہ ایک سال میں عدلیہ کے فیصلوں کے حوالے سے جو تضاد اُبھر ا ہے اس نے ملک میں پہلے سے جاری بحران اور اضافہ کر دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاناما کیس میں معزول وزیر اعظم کے خلاف واضح طور پر سخت جوابدہی کے اصول کا اطلاق ہوا تھا۔ اگر سخت جوابدہی کے اصول کا اطلاق ہوتا تو شیخ رشید کو بھی اسی طرح نا اہل کیا جاتا جس طرح نواز شریف کو بطور وزیر اعظم نا اہل کیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی شیخ رشید کو نا اہل نہیں کیا مگر اہم اور دلچسپ بات یہ ہے قاضی عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاناما کیس میں معزول وزیر اعظم کے خلاف فیصلے میں واضح طور پر سخت جوابدہی کے اصول کا اطلاق ہوا تھا۔ قاضی عیسیٰ نے ایک خط بھی لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ ہم اس تاثر کو زائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مختلف افراد کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت کے معیار کا فیصلہ یکساں بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے خط میں حنیف عباسی کی پٹیشن کا حوالہ دیا کہ عمران خان کے کیس کا فیصلہ دوسرے بینچ نے کیا تھا جس میں سخت جوابدہی کے اصول پر عمل نہیں کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کے بارے میں ان تضادات کی نشاندہی کی ہے اگر سخت جوابدہی کا اصول لاگو ہوتا تو فیصلہ کچھ اور ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ ان سارے معاملات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ بعض ستم ظریف تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ نئے روپ میں آئی ہے۔ اب تو یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا ملک کے اندر ’’کو‘‘ ہو چکا ہے یہ سوال تو نواز شریف کر چکے ہیں کہ ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پورے دس ماہ سے پس پردہ کوئی اور حکومت چلا رہا ہے اس بات کو اس وقت شہ ملی جب چیدہ چیدہ صحافیوں کو بلا کر آرمی چیف نے ان سے آف ریکارڈ گفتگو کی جس کو کچھ تجزیہ نگاروں نے ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کانام دیا تھا۔ اہم معاملہ تو یہ ہے کہ میڈیا کو بھی ایک طاقت کنٹرول کرتی رہی ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں یہ بحث سوشل میڈیا پر شروع ہو چکی ہے کہ آخر سول حکومت کو ہٹا کر جو انقلاب برپا ہوا ہے اس میں جوڈیشری کا کتنا حصہ ہے، یہ سب کچھ بھی دنیا دیکھ رہی ہے اور عام آدمی جو کرنٹ افیئر پروگرام دیکھتا ہے اسے بھی سب معلوم ہے کہ پردے کے پیچھے بہت کچھ ہے۔
الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کو خلاف قانون قرار دیا تو خاموش انقلاب کا ایک حامی اینکر کہہ رہا تھا کہ یہ فیصلہ تو انڈین الیکشن کمیشن کا لگتا ہے۔ آخر اتنی دیدہ دلیری کرنے والے کو کسی نہ کسی کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کا نظام ایسے نہیں چلے گا۔ شفاف انتخاب ہو رہے ہیں۔ عدلیہ پر تو خود سوال اُٹھ کھڑا ہوا۔ خود قاضی فائز عیسیٰ نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے۔ احتساب کا ادارہ بھی یہی کر رہا ہے ۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کس نے تخلیق کی اور نیب کس طرح وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب نے عدالت کو بتایا کہ نیب لاہور کے ڈائرکٹر حشمت حبیب نے عدالت کو بتایا ان کے مؤکل کو سلطانی گواہ بننے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اگر کپتان کی بات کی جائے تو ہمارے دوست میاں عبدالغفار جو ملتان میں ایک قومی اخبار کے بیورو چیف ہیں وہ موجودہ سیاست دانوں میں عمران خان کو بہتر سمجھتے تھے مگر اب انہوں نے اپنا نقطۂ نظر تبدیل کر لیا ہے جس نے بھی مشورہ دیا اس نے عمران خان کی سیاست کو زیرو کر دیا کہ وفاداریاں بدلنے والے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے جائیں۔ ایسے کرنے سے اُن کے دو پاکستان کا بیانیہ رد ہو گیا ہے ۔ انہوں نے جاگیردار سیاسی خاندانوں کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا ہے۔ جاگیر داروں نے اس کی پوری پوری قیمت وصول کی ہے ان کے خلاف ایک جگہ نہیں پورے ملک میں ردعمل سامنے آ چکا ہے، اس کو شاید روکنا کپتان کے بس کی بات نہیں۔ کپتان تو موروثی سیاست کے خلاف ہے۔کھچڑی تو ہنوز بھی پک رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی جو صوبائی نشست پر بھی امیدوار ہیں انہیں یقین ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب جنوبی پنجاب سے آئے گا ۔یہ بات جہانگیر ترین کو بھی معلوم ہے کہ پارٹی میں ان کا دشمن کیسے اتنے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بن سکتا ہے ۔جہانگیر ترین نے خاموشی سے جنوبی پنجاب تحریک انصاف کے صدر اسحاق خاکوانی کو بھی قومی کے ساتھ صوبائی اسمبلی سے بھی امیدوار بنا دیا ۔ دوسری جانب علیم خان بھی قومی اسمبلی سے امیدوار ہیں تو انہوں نے صوبائی اسمبلی کے لیے پی ٹی آئی کے مضبوط ووٹوں والے حلقے کو چنا ہے تا کہ وہ آسانی سے صوبائی نشست پر جیت سکیں۔ اور تو اور جہلم کی دونوں قومی نشستیں اپنے خاندان کے پاس رکھنے کے باوجود فواد چودھری بھی صوبائی نشست پر سرگرم ہیں۔ چوہدری سرور نے اپنے بھائی کے لیے بھی ٹکٹ حاصل کر لی ہے۔۔۔ اب کیا ہو گا؟


ای پیپر