پانی کی کمی کا بڑ ھتا ہو ا بحران
14 جون 2018 2018-06-14

یا د د لا نے کی ضر و رت نہیں کہ کیپ ٹاؤ ن جنو بی افر یقہ کا امیر تر ین شہر ہے۔جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ اسی شہر میں قائم ہے۔دنیا کے کئی ارب پتیوں نے یہاں املاک خریدی ہوئی ہیں۔نیلا بحر اوقیانوس مٹیالے بحرِ ہند سے کیپ ٹاؤن کے کناروں پر ہی گلے ملتا ہے۔پینتالیس لاکھ آبادی ہر جدید اور خوشحال شہر کی طرح دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔ خادم اور مخدوم۔ جو مخدوم ہیں وہ بہت ہی مخدوم ہیں۔سب کے رنگ صاف اور تمتماتے ہوئے۔ زندگی کا محور بڑے بڑے سوئمنگ پولز والے ولاز ، سایہ دار گلیاں، نئے ماڈل کی گاڑیاں، فارم ہاوسز ، کارپوریٹ بزنس اور پارٹیاں۔ شہر کے اسی فیصد آبی وسائل بیس فیصد مخدوموں کے زیرِ استعمال ہیں اور باقی اسی فیصد خدام کو بیس فیصد پانی میسر ہے۔ دس برس پہلے کچھ ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ بڑھتی آبادی ، اوور ڈویلپمنٹ اور ماحولیاتی تبدیلی جلد ہی کیپ ٹاؤن کو ناقابلِ رہائش بنا دے گی۔ظاہر ہے یہ وارننگ سن کر سب ہنس پڑے ہوں گے۔ تب شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے گرد و نواح میں چھ ڈیموں کے ذخائر میں ہر وقت پچیس ارب گیلن پانی جمع رہتا تھا۔امرا کو ہر ہفتے سوئمنگ پول میں پانی بدل دینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ خشک سالی آ گئی ، آبی ذخائر بھرنے والے پہاڑی، نیم پہاڑی اور میدانی نالوں کی زبانیں نکل آئیں۔ دھیرے دھیرے پچھلے برس اگست سے آبی قلت کیپ ٹاؤن کے ہر طبقے کو چبھنے لگی۔دسمبر تک یہ آبی ایمرجنسی میں بدل گئی اور آج حالت یوں ہے کہ کیپ ٹاؤن کا حلق تر رکھنے والے چھ بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح چوبیس فیصد رہ گئی ہے۔جب یہ دس فیصد پر پہنچ جائے گی تو پانی عملاً کیچڑ کی شکل میں ہی دستیاب ہوگا۔ چنانچہ آبی مارشل لا نافذ کرنا پڑ گیا ہے۔جن آبی ذخائر اور نالوں میں فی الحال رمق بھر پانی موجود ہے وہاں آبی لوٹ مار، ڈکیتی ، پانی کی چھینا جھپٹی اور چوری روکنے کے لیے مقامی پولیس کا اینٹی واٹر کرائم پٹرول متحرک ہے۔غربا کو پانی کی فراہمی کے لیے دو سو ہنگامی آبی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے پچاس لیٹر روزانہ فی کنبہ راشن حاصل کیا جا سکتا ہے ( یہ پانی آٹھ منٹ تک باتھ شاور سے گرنے والے پانی کے برابر ہے )۔ سوئمنگ پول ، باغبانی اور گاڑیوں کی دھلائی قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔فائیو اسٹار ریسٹورنٹس پیپر کراکری استعمال کر رہے ہیں۔اچھے ہوٹلوں میں دو منٹ بعد شاور خود بخود بند ہو جاتا ہے۔یہ بحران مزید سنگین جولائی تک ہوگا جب پہلے ہفتے میں ڈے زیرو آ جائے گا۔ڈے زیرو کا مطلب ہے استعمالی پانی کی نایابی۔حکومت ابھی سے ڈے زیرو سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا ڈے زیرو شہر بننے والا ہے۔
تا ہم ز یرو شہر بننے کی با ت کیپ ٹا ؤ ن پر ختم نہیں ہو جا تی۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک سو انیس اور شہر کھڑے ہیں۔ان میں بھارت کا آئی ٹی کیپٹل بنگلور اور پاکستان کا کراچی ، لاہور اور کوئٹہ بھی شامل ہے۔آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں۔ سنبھلنے کی مہلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ مگر جس ریاست میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر زہر کا پیالہ بن گئی ، جہاں کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کلری جھیل کو ہالیجی سے میٹھا پانی فراہم کرنے والی نال کو آلودہ پانی لے جانے والی نہر ( ایل بی او ڈی ) نے کاٹ ڈالا ، جہاں کوئٹہ کی ہنا جھیل سوکھے پاپڑ میں بدل گئی ، جہا ں زہریلے پانی سے سبزیاں اگا کے انھیں فارم فریش سمجھ کے ہم اپنے بچوں کے پیٹ میں اتار رہے ہوں۔ ا س کے بعد وہ وقت دور نہیں جب کسی عدالت کا ازخود نوٹس تیرانے کے لیے بھی صاف چھوڑ گدلا پانی میسر ہو ۔جی ہا ں یہی تو عرض کر نا چا ہ رہا ہو ں کہ و طنِ عز یز میں ا س و قت توانائی اور پانی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے د نو ں سپریم کورٹ میں بھی چیف جسٹس نے پانی سے متعلق پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز کی رپورٹس پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے۔ ترجمان سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق سی پی آر ڈبلیو آر کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025ء تک ملک بھر میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔ ملک بھر میں دستیاب 142 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے صرف 42 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال ہورہا ہے۔ باقی 100 ملین ایکڑ فٹ پانی مختلف طریقوں سے ضائع ہورہا ہے۔ یہ حقائق چشم کشا ہیں کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں تازہ پانی خاص طور پر پینے کے قابل پانی کی قلت ہے، اگر پانی دستیاب ہے تو وہ آلودہ ہے، پاکستان کا 80 فیصد پانی آلودہ ہے جبکہ مستقبل قریب میں آبی قلت پاکستان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ثابت ہوگی۔ قلت اس قدر شدید ہوگی کہ دو ایٹمی قوتیں پانی کے وسائل پر جنگ لڑ سکتی ہیں، کیونکہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی مستقل خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ پاکستان پر آبی جنگ مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت آبی انتہا پسندی کی روش پر گامزن ہے۔ ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کی گھنٹی بجارہا ہے۔ حکومتی بدانتظامی، آبپاشی کے ناقص نظام، چوری اور پانی کا وافر مقدار میں بے دریغ ضیاع ہے۔ پاکستان دنیا کے 136 ممالک میں 36 ویں نمبر پر ہے جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے معیشت، عوام اور ریاست شدید دباؤ میں ہیں۔ آبی ماہرین ایک عرصے سے ارباب اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کراتے چلے آرہے ہیں، اگر پانی کے مسئلے سے اسی طرح صرف نظر کیا جاتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ملکی سطح پر اس کا بہت بڑا بحران پیدا ہوجائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مگر افسوس ذاتی مفاد ات، ایک دوسرے پر لعن طعن، دشنام طرازیاں، الزام بازیوں کے حصار میں دونوں قوتوں نے اس سنجیدہ مسئلہ کو اپنی بنیادی ترجیح نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے گزشتہ کئی عشروں سے سے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں تعمیر کیے گئے منگلا اور تربیلا ڈیمز کے بعد ملک میں پانی کا ذخیرہ کرنے کا کوئی پروجیکٹ نہیں بنایا گیا، جس کے سبب
صرف چا ر ما ہ تک کا ہی پا نی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کوئی حکومت ، کوئی ادارہ پانی کے حوالے سے دلیرانہ فیصلہ لینے سے قاصر ہے۔ یہاں یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ بارشیں نہ ہونے کے باعث حب ڈیم میں پانی کی سطح پھر ڈیڈ لیول کی طرف بڑھنے لگی ہے۔ جس کی وجہ سے کراچی میں 10 کروڑ گیلن پانی کی یومیہ قلت کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ جبکہ شہر کے زیادہ تر علاقے پہلے ہی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور جدید انفراسٹرکچر نہایت ضروری ہے۔ مگر حکومت کی بے نیازی اور انتظامیہ کی مبینہ کرپشن اور نااہلی نے اسے ایک ایسا مسئلہ بنادیا ہے جو حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے بھی ملک میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث خشک سالی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ پانی کے بحران کے علاوہ ملک کو توانائی بحران کا بھی سامنا ہے۔ توانائی بحران سنگین ہونے سے چھوٹی صنعتیں تباہی کا شکار ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں رہی سہی صنعتیں بھی بند ہوجائیں گی۔ صنعتو ں کے یو ں بند ہو جا نے کی بنا ء پر بر آ مد ا ت کے مقا بلے میں در آ مد ا ت کا حجم پہلے ہی تشو یش نا ک حد تک ز یا د ہ ہے۔ اگر یہی صو ر ت حا ل بر قر ا ر تو ہما رے پا س دعا ؤ ں کے سہا ر ے ز ند ہ رہنے کے حل کے سوا کو ئی حل با قی نہیں بچے گا۔


ای پیپر