پیشگی عید مبارک
14 جون 2018

دوستو،اردو آپ بھی بولتے ہیں، ہم بھی بولتے ہیں،اردو آپ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی پڑھتے ہیں، کبھی آپ نے اردو کے حروف تہجی پر تحقیق کی ہے؟۔ حروف کی دو اقسام ہوتی ہیں۔حروف تہجی میں کچھ حروف نقطے والے ہوتے ہیں اور کچھ بغیر نقطوں کے۔ نقطے والے حروف میں، ب، ت، ث، ج، چ، خ، ذ، ز، ژ، ش، ض، ظ، ق، ف، غ، وغیرہ اوربغیرنقطے والے حروف میں، الف،ح،د،ع،ط،س،ر،ص،و،ک،ل،م،وغیرہ۔اردوپر عبور رکھنے والے ماہرین لسانیات کا دعویٰ ہے کہ نقطے والے حروف کمزور اور ضعیف مانے جاتے ہیں اس کے مقابلے میں بغیر نقطے والے حروف کو طاقت ور اور قومی سمجھاجاتا ہے۔اب آپ غورکریں کہ۔ سسرال، سسر، ساس، سالا، سالی میں سے کسی میں بھی کوئی نقطہ نہیں ہے کیوں کہ یہ تمام رشتے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں۔اسی لئے داماد پر بھی نقطہ نہیں ہے کیو نکہ یہ بھی شادی کے بعد قوی تر ہوجاتے۔چنانچہ داماد اور ساس کو جدھرسے بھی پڑھیں گے، داماد،اور ساس ہی رہیں گے یعنی دونوں کا سیدھا تو سیدھاہے ہی، مگر دونوں کا الٹا بھی سیدھا ہی ہوتا ہے۔
ایک بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے، باباآدمی کس طرح وجود میں آیا؟؟ باپ نے اسے سمجھایا، بیٹا پہلے انسان بندرتھا،بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دُم غائب اور چہرے بدل گئے تو وہ انسان بن گیا۔بچے کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اپنی ماں سے پوچھا، مما،آدمی کس طرح وجود میں آیا؟؟ ماں نے اسے بتایا کہ، خدانے انسان کا جسم بنایا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور آدمی وجود میں آیا۔بچے نے کہا،لیکن بابا تو کہہ رہے تھے کہ انسان پہلے بندرتھا۔ماں نے بچے کو گھورتے ہوئے کہا، او کے، بابا نے تجھے اپنی فیملی کے متعلق بتایا اور میں نے اپنی فیملی کے متعلق۔۔۔ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں، ایک سروے میں پتہ لگا ہے کہ اکثر بیویاں اپنے شوہر کے دوستوں سے شدید نفرت کرتی ہیں، جوابی سروے میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ،اکثر شوہر اپنی بیوی کی سہلیوں کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔شوہر نے جب بیوی کو اداس دیکھاتو پوچھا، کیا بات ہے تم اتنی گم سم اْداس بیٹھی ہو کیا سوچ رہی ہو ؟بیوی نے اداس لہجے میں کہا،نہیں ایسی تو کوئی خاص بات نہیں ،مگر کچھ دنوں سے مجھے یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ آخر میری کوششوں میں کہاں کسر رہ گئی ہے کہ تم شادی کے اتنے سالوں بعد بھی مسکرا لیتے ہو۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ذہین صرف دو قسم کے ہی لوگ پائے جاتے ہیں، ایک لاہوری۔اور دوسرے وہ جو۔ پائین تسی سیدھے جا کے کھبے مڑنافیر تھوڑا جیا اگے جا کے کھمبا آئے گا فیر اوں نوں ہو جانا فیر تسی مڑنا نئیں اگے پہلا چوک آئے گا اوتھوں ایں نوں مڑ کے فیر پہلی گلی جیہڑی ایں نوں جا ری اے مڑ جانا سیدھے بھاٹی گیٹ۔۔۔جو یہ سمجھ جاتے ہیں۔ہم نے ایک بار لاہور میں ایک کافی عمر کے باباجی سے پوچھا، باباجی، کوئی ایسا حل بتائیں کہ بندہ دن رات اے سی بھی خوب چلائے اور بجلی کا بِل بھی نہ آئے۔ ۔باباجی نے ہمیں غور سے دیکھا، پھر گھورا، پھر کان پہ لگی سگریٹ نکالی،اسے ایک ہاتھ سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر ٹھونکنے لگے، پھر سگریٹ منہ سے لگائی، جیب سے ماچس نکالی، تین تیلیاں ضائع کرنے کے بعد چوتھی ٹرائی میں سگریٹ جلائی، لمبا کش کھینچا،پھر سارا دھواں ہمارے منہ پہ چھوڑتے ہوئے بڑے اطمینان سے فرمانے لگے۔ پْتر۔اے سی تھلے دو ٹا ئر لَوا لے۔ تے چلا کے جتھے مرضی لے جا۔ بل نئیں آئے گا۔ہم پاکستانی بھی عجیب ہی قوم ہیں،بغیر پڑھے پاس ہونا چاہتے ہیں۔ بغیر کام کیئے تنخواہ لینا چاہتے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کام پر نہ جائیں اور نوکری چلتی رہے، ورزش نہ کر کے بھی فٹ فاٹ رہنا چاہتے ہیں۔ خود جیسے ہوں بیوی حسینہ عالم مانگتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر، نماز نہیں پڑھیں گے اور خواہش کریں گے کہ موت سجدے میں آئے۔
استادنے کلاس میں سوال کیا، شادی سے پہلے مرد کیا ہوتا ہے ؟ایک شاگرد نے جواب دیا، انسان۔استاد نے اگلا سوال داغا، اور بعد میں؟؟۔شاگرد نے فوری جواب دیا۔شوہر۔ایک خاتون ٹیچر نے کلاس میں بچے سے پوچھا، تم بڑے ہوکرکیا کروگے؟؟بچے نے جواب دیا، نکاح۔لیڈی ٹیچر نے سوال کی وضاحت کی میرا مطلب ہے کیا بنوگے؟،بچے نے کہا، دلہا۔لیڈی ٹیچر نے پھرسوال کیا، میرا مطلب بڑے ہو کر کیا حاصل کرو گے؟بچے نے جلدی سے کہا، دلہن۔ٹیچر کو غصہ آگیا، کہنے لگیں، بدتمیز، بڑے ہوکر اپنے امی،ابو کے لئے کیا کروگے؟بچے نے معصومانہ انداز میں کہا، بہو لاؤں گا۔ٹیچر نے پھر کہا، ارے بے وقوف، تمہارے ابوتم سے کیا چاہتے ہیں؟ بچے نے جلدی سے کہا، پوتا۔ٹیچر کا غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا، ابے نالائق،تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے؟، بچے نے شرماتے ہوئے کہا،شادی۔
کہتے ہیں کہ شوہر وہ واحدہستی ہے، جسے اسلام کے ارکان کا کچھ پتہ ہو یا نہ ہو، یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ چار شادیاں ان کا حق ہے۔۔۔ ایک صاحب خوشی خوشی اپے گھر میں داخل ہوئے، بیوی کو تلاش کیا تو وہ کچن میں مصروف ملی، وہ بھی کچن میں داخل ہوگیا اور بیوی سے پوچھنے لگا۔ ہمارے چار بچوں میں سے تمہیں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟؟اس نے جواب دیا، سارے۔شوہرنے کہا ، تمہارا دل اتنا کشادہ کیسے ہو سکتا ہے۔بیوی نے کہا، یہ اللہ کی تخلیق ہے، ماں کے دل میں سارے بچوں کے لئے کشادگی ہوتی ہے۔شوہر نے مسکرا کر کہا۔اب تم سمجھ سکتی ہو، مرد کے دل میں چار بیویوں کی کشادگی بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ بھی اللہ کی تخلیق ہے۔بیوی نے بیلن سے حملہ کیا اور شوہراسپتال پہنچ گیا۔اللہ شوہربے چارے پر رحم فرمائے۔اس کا اسلوب بھی اچھا تھا اورتکنیک بھی مزیدار۔بس کچن کی جگہ غلط چُن لی اس نے۔سیانے کہتے ہیں۔کسی بھی میدان جنگ میں اترنے سے پہلے میدان کے محل وقوع اور جغرافیائی صورتحال کو لازمی ذہن میں رکھنا چاہیے۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شاہ رخ جتوئی ہوا کرتا تھا۔دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مصطفٰی کانجو ہوتا تھا۔تیسری دفعہ کی بات ہے کہ ایک ڈاکٹر عاصم ہوا کرتا تھا۔چوتھی دفعہ کا ذکر ہے کہ آیان علی ہوا کرتی تھی۔ پانچویں دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ڈی ایچ اے سٹی ہوا کرتا تھا۔ساتوں دفعہ کا ذکر ہے ایک مونس الہی ہوا کرتا تھا ۔پھر آٹھویں دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک ریاض ملک کے منتخب صدر کو لاہور میں 5 ارب کی تسلیم شدہ مالیت کا بلاول ہاؤس کا تحفہ پیش کرتا ہے ۔پھر نویں دفعہ کی حکایت ہے کہہ صدر محترم کراچی میں 20 ہزار ایکٹر سرکاری زمین ملک ریاض کو تحفہ میں پیش کرتے ہیں۔دسویں دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خادم اعلیٰ ہوتا تھا جو کرپٹ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا دعوی کرتا تھا۔۔۔ گیارہویں بار کا ذکر ہے کہ ۔ ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی باتیں ہوتی تھیں۔ بارہویں بار کا ذکر ہے۔ ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہے، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کافی ہیں، معیشت مستحکم ہے، پاکستان تیزی سے ایشین ٹائیگر بننے جارہا ہے۔۔۔پھر ایک ارسلان افتخار بھی ہواکرتا تھا۔اس کا ذکر عدل کے ایوانوں کی غلام گردشوں میں گم ہو گیا ۔پھر آخری دفعہ کا ذکر ہے۔ مسجد سے ٹونٹی چرا کر ایک وقت کی روٹی کھانے والے کو لوگوں نے مار مار کر لہو لہان کر دیا۔اور ہاں اپنی اس پوری معصوم قوم کو پیشگی عیدمبارک۔


ای پیپر