تھرپارکر۔۔۔ چیف جسٹس کے از خود نوٹس کا منتظر!
14 جون 2018 2018-06-14

پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ضلع تھرپارکر میں آج بھی غربت و افلاس اور موذی امراض کے باعث سسکتی انسانیت کے جسم تھر تھرا رہے ہیں۔ سلگتا‘ سسکتا‘ بلکتا یہ صحرائی ضلع ستر سال سے لاکھوں انسانی جسموں کو اپنی تپتی آغوش میں لئے غذائی قلت‘پینے کے صاف پانی‘مہلک امراض‘ذرائع آمدورفت کے فقدان‘بنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہوئے حالت جنگ میں ہے۔اس خطہ ارض سے جڑے نوے فیصد لوگوں کے سروں پر غربت و افلاس کے سائے موت بن کر منڈلا رہے ہیں۔یہ وہ تھرپارکر ہے جہاں ریت کے اونچے ٹیلوں سے کبھی ماروی کی گڈازبھری آواز ابھری کبھی مائی بھاگی کی سر سنگیت میں لپٹی مدھر آواز نے پورے خطہ کو سحر میں جکڑ دیا۔لیکن آج منگن ہاروں کے اس سر سنگیت سے جڑے خطہ کے تپتے ٹیلوں میں پنوں کی تلاش میں روتی‘کرلاتی‘ننگے پاؤں سسی کیطرح سر پھٹکتی بھوک رزق کی تلاش میں ہے۔صحرا کی اس موت و حیات کی کشمکش میں بسر ہوتی زندگی پر نظر
دوڑا لیں تو یہاں کے لوگ نیلے آسمان کو ردائیں دینے والے سے امید کی ڈور باندھے زندگی گذارتے نظر آتے ہیں۔ستر سال سے اس خطہ ارض کے رستے زخموں پر حکومت کی جانب سے کیے جانیوالے ترقی و خوشحالی کے دعوے کبھی مرہم ثابت نہ ہوئے۔ہر آنیوالی حکومت نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو سہولیات سے آراستہ نہ کرتے ہوئے ہمیشہ نظر انداز کیا۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے جنوب مشرقی اور بھارت کے شمال مغربی سرحد پر واقع دولاکھ مربع کلو میڑ اور ستتر ہزار مربع میل پر محیط اس خطہ پر بسنے والے 25لاکھ آبادی کے 61.42فیصد مسلمان اور 35.38فیصد ہندو اس ملک کے نقشہ کو مکمل نہیں کرتے ہیں۔حکومتی کارکردگی کیا ہے میڈیا رپورٹس کا زائچہ تو یہ بتاتا ہے کہ اس تھرپاکر میں سہولیات کے نام پر سیاسی پنڈت اور این جی اوزدن دیہاڑے انکے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔سندھ حکومت کا یہاں کے باسیوں کیساتھ یہ رویہ افسوسناک ہے۔پاکستان میں تقریبا 44فیصد لوگوں کیلئے پینے کا صاف پانی ہے۔تھر کے اسی فیصد لوگ مغر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔اور اس سے بڑھ کر افسوسناک منظر یہ ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی پر انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آتے ہیں۔مسائل کیساتھ نبرد آزما یہاں کے لوگ اقتداری ظبقات کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔آپ وائس آف امریکہ کی آج سے دو سال قبل کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں حکومت سندھ نے تھرپارکر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے جو ایک سو فلٹریشن پلانٹ نصب کروائے تھے ان میں سے متعدد بند پڑے ہیں۔جس کا سندھ حکومت اعتراف بھی کر چکی ہے۔سندھ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ مارچ سال 2015 پیں اس علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے غذائی قلت کے باعث ساٹھ ہزار بوری گندم کا اعلان کیا تھا (جو نہیں دی گئی)اگر اس گندم کو تھر کی آبادی میں فی کس کے طور پر تقسیم کیا جائے تو ہر فرد کے حصہ میں سال بھر کیلئے چار کلو گندم آتی ہے۔یہ کس کے پیٹ کی خوراک بنی اس کا حساب آج تک نہ ہو سکا۔سندھ میں سابقہ حکومتوں کا ریکارڈ چھان پھٹک کر دیکھ لیں کہ تھر کے باسیوں کی فلاح و بہبود میں ان کا کیا کردار رہا ہے ۔اگر جواب نفی میں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس علاقے کی فلاح و بہبود کی مد میں جاری ہونے والے فنڈز کہاں گئے انکی جانچ پڑتال کون کریگا۔اعلانات‘وعدے‘وعید اگر اس علاقے کے لوگوں کی قسمت میں بہتری نہیں لا سکے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔مسائل کیساتھ نبرد آزما یہ لاکھوں لوگ جہاں حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں وہیں میڈیا کیلئے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا یہ انسانی جانیں بہت بڑی بریکنگ نیوز ہے۔جہاں پاکستان میں آسودہ حال لوگ پر تعیش زندگی گذار رہے ہیں وہیں تھرپارکر میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر انسانیت سسک رہی ہے۔یہاں کے لوگ عوامی نمائندگی کے دعویداروں کو اس امید پر ووٹ دیکر پارلیمان تک پہنچاتے ہیں تا کہ یہ نمائندے انکی حالت زار کو بہتری میں تبدیل کرنے کیلئے جاندار آواز بنیں لیکن افسوس تھرپارکر آج بھی کراہ رہا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ حکومت کے ایوانوں میں براجمان ہونیوالوں کے پاس ایسا دل‘کان اور آنکھیں نہیں جس سے وہ تھر کے دلدوز مناظر دیکھ‘سن اور محسوس کر سکیں۔نہ تو آج تک پارلیمان میں تھر کی سسکیوں کے درد کا واویلا ہوا اور نہ ہی اسکے فنڈز کا سراغ لگ سکاسہولیات کے نام پرجاری ہونے والے ان فنڈز کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔تھر کے باسی بجلی‘گیس‘ذرائع آمدورفت‘پختہ مکانوں‘پینے کے صاف پانی ‘تعلیم‘صحت اور تن ڈھانپنے کیلئے مناسب لباس سے بھی محروم ہیں۔مناسب خوراک کی کمی اور مہلک امراض کے باعث تھر میں بچے موت کی آغوش میں جارہے ہیں۔محکمہ صحت تھرپارکر کے مطابق پچھلے سال نومبر میں سول ہسپتال مٹھی سمیت ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں اکتالیس بچے جان کی بازی ہار گئے۔اور دسمبر تک مرنے والے بچوں کی تعداد چھیالیس ہوگئی ان اموات کی تعداد میں وہ اعداد وشمار موجود نہیں جو ذرائع آمدورفت اور رقم درکار نہ ہونے کیوجہ سے راستے میں ہی دم توڑ گئے اور انکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔یہ بڑی تکلیف دہ اور تشویشناک صورتحال ہے۔یہاں کے ہسپتالوں میں جہاں ڈاکٹرز کی سہولیات ناکافی ہیں وہیں مریضوں کیلئے معیاری ادویات کا بھی شدید فقدان ہے۔میڈیا بھی صرف ان واقعات کو رپوٹ کرتا ہے جنکی تصدیق ہو جائے حالانکہ متعدد اموات کا ریکارڈ تک موجود نہیں ہے۔ضلع تھرپارکرمیں تین سو رجسڑڈ اور تقریبا پانچ سو غیر رجسڑڈ دیہات شامل ہیں ۔تھر میں سہولیات کی عدم دستیابی پریہاں پسماندگی کا راج ہے۔ہماری حکومتیں تھر میں آنیوالے قحط اور قدرتی آفات کی رپورٹس تیار کر کے فائلوں کے قبرستان میں دفن کر دیتی ہیں۔آج تک یہاں
سہولیات بہم پہنچانے کے حوالے سے حکومتی سطح پرکوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔تھر پاکستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سہولیات نہ ہونیکی وجہ سے قحط اور قدرتی آفات بن بلائے مہمان کی صورت وارد ہو کر انسانی جانوں کو بے دریغ نگل رہی ہیں۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار جس تندہی کیساتھ عوام کو انکے بنیادی حقوق دلانے کیلئے عملا قانونی طاقت کیساتھ میدان میں اترے ہوئے ہیں انکے اس عمل کی وجہ سے عوامی حلقوں میں انکی شخصیت پذیرائی کے حوالے سے بام عروج پر ہے۔تھر کی پچیس لاکھ سسکتی انسانی جانیں انکے ایک ازخود نوٹس کی منتطر ہیں ۔حکومتوں کی اس علاقے میں بدترین ناقص کارکردگی کے بعد فعال سپریم کورٹ ہی اس علاقے کی بہتری کیلئے امیدوں کا مظہر دکھائی دیتی ہے ۔تھر کی حالت زار ہمیں کچھ کر گذرنے کی تیاری کا موقع فراہم کر رہی ہے۔شاید چیف جسٹس کا ایک ازخود نوٹس مائی بھاگی کے سسکتے تھرپارکر کی زندگی میں جنم لینے والی پسماندگی کو آسودگی میں تبدیل کردے۔آج یہ سوال ہم سے دست و گریباں ہے کہ ہم مائی بھاگی کے صحرا کوگل و گلزار بنانے میں کہاں کھڑے ہیں۔تھر میں پل پل ٹائی ٹینک کی طرح ڈوبتی انسانی جانوں کو روانی دینے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔!


ای پیپر