عید کے سندیسے
14 جون 2018 2018-06-14

عید ، احساسات کے انگنا میں محبت، مودت، مسرت اور روشنیوں کی برسات کا نام ہے۔ عید اپنے جلو میں رنگ اور خوشبوؤں کی کہکشاں لے کر آتی ہے، چھوٹے بڑے ہر شخص کے رویوں اور لہجوں کے گرد مسکراہٹیں اور قہقہے جھرمٹ بنا کر عید کی خوشیاں بکھیرنے لگتے ہیں اور صعوبتوں اور اذیتوں کا مارا انسان بھی چند لمحوں کے لئے ہی سہی، اپنے کاسہ غم کو ایک طرف رکھ کر اپنے دل کے مضافات میں شفق رنگ مسکراہٹیں سجا کر بیٹھ جاتا ہے۔ عید کا لفظ ’’عود‘‘ سے ہے یعنی عید بار بار آتی ہے۔ مگر یہ تو ضروری نہیں کہ ہر بار عید ہماری زندگیوں میں ہی آئے۔ ہم انسان ،منڈیروں پر ٹمٹماتے کسی چراغ ہی کی مانند تو ہیں، جانے کب کوئی تند و تیز اور سرپھرا جھونکا آئے اور ہماری حیات کے لمحات کو تمام کر گزرے۔ چلیں آپ اگر ابھی اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں تو اپنے اردگرد ہی نظریں دوڑا لیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو گزشتہ عید پر آپ کے ہم رکاب تھے مگر اس عید پر وہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے، وہ منوں مٹی کے ڈھیر تلے دفن ہو چکے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عید کے دن ان لوگوں سے جدائی کے احساس کے جھونکے بھی سب کو آتے ہیں ان کی یادیں اور باتیں دلوں کو مسمار سا کر جاتی ہیں لیکن آپ ہزار جتن اور اشک فشانی کے باوجود دنیا چھوڑ جانے والوں کو واپس نہیں لا سکتے۔
مجھ کو ایک خواب پریشان سا لگا عید کا چاند
میری نظروں میں ذرا بھی نہ جچا عید کا چاند
آنکھ نم کر گیا، بچھڑے ہوئے لوگوں کا خیال
درد دل دے کر ہمیں ڈوب گیا عید کا چاند
اگر آپ اپنی یادداشت پر زور دیں تو آپ کے اردگرد ایسے لوگ بھی ضرور ہوں گے جو آپ سے ناراض اور خفا ہو کر آپ سے دور چلے گئے ہوں گے۔ مرنے والوں کو دنیا کی کوئی طاقت واپس نہیں لا سکتی مگر روٹھ جانے والوں کو واپس لانا چنداں دشوار نہیں ہوتا۔ اس حضرت انسان کو اس بات پر غور کرنے کی کبھی فرصت ہی نہیں کہ کتنی ہی اجلی رفاقتوں کو ہم نے اپنی حماقتوں کی کند چھری سے ذبح کر ڈالا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ لوگ احسان فراموش ہوتے ہیں۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ لوگ مطلب پرستی کے فن میں خوب مہارت رکھتے ہیں۔ مجھے یہ مان لینے میں بھی کوئی عار نہیں کہ لوگ طوطا چشم ہوتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، مگر یہ حقیقت تو آپ بھی مان لیجئے ناں کہ ہم بھی تو اسی معاشرے کا ایک حصہ ہیں جن لوگوں کو ہم دوش دیتے ہیں، ممکن ہے ایسے ہی تصورات دوسرے لوگ ہمارے متعلق بھی رکھتے ہوں، چلو چند ثانیوں کے لئے میں یہ مان لیتا ہوں کہ ہم بذات خود ان معائب سے پاک و پوتر ہیں۔ ہمارے سوا باقی لوگ ہی احسان فراموش اور بے وفا ہیں مگر اس حقیقت سے کسی کو مفر نہیں کہ ہمیں ان بے مہر لوگوں میں ہی زندہ رہنا ہے۔ ہمیں اسی معاشرے سے خوشیاں کشید کرنی ہیں، سو ہمیں لوگوں کے دلوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے ان سے تعلق جوڑ کر رکھنے ہیں، قطع تعلقی کی تو کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ کتنی ہی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی ہمارا بہت ہی پیارا انسان ہم سے روٹھ چلے تو پھر ہم عید کے دن بھی تنہائی کی رعنائی کو زیب تن کر کے کسی بند کمرے میں سوگوار ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
کر کے دروازہ بند بیٹھے ہو
عید کا دن بھی یوں گزارو گے؟
دراصل اس سارے خرابے کی جڑ ہماری توقعات کا وہ غول ہوتا ہے جو ہم کسی سے وابستہ کر بیٹھتے ہیں پھر ہم اپنے پیارے شخص کو اپنی توقعات کی کسوٹی پر پرکھنے لگتے ہیں اور جب کوئی ہمارا محبوب و مرغوب شخص ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا تو پھر اس کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں جو رفتہ رفتہ اتنی وسیع ہو جاتی ہیں کہ پھر انہیں پاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت زیادہ محبت ہی کے باعث کسی سے توقعات وابستہ کی جاتی ہیں اور جب ایسا ہو جائے تو پھر کسی شخص کے ساتھ منسلک خواہشوں کو کم کرنا بھی بڑا ہی جاں گسل مرحلہ ہوتا ہے مگر ایسا کرنا ہی علم و حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اپنے رشتے ناتوں کو کسی عذاب کدے میں جھونکنے والے ہم لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی تو ہے کہ ہم اناؤں کو اپنی آغوش میں مقوی غذائیں کھلا کھلا
کر پال پوس کر سانڈھ بنا لیتے ہیں۔ ہماری کسی کے ساتھ وابستہ غیر معمولی توقعات کے ساتھ انا کا یہ امتزاج معاملات کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ پھر قطع تعلقی سے ایک قدم مزید آگے حقارت کی جسارت جنم لیتی ہے پھر دلوں سے کپٹ کی لپٹ آنے لگتی ہے۔ پھر عناد کسی تگڑے فساد کے روپ میں ابھر آتا ہے، جی ہاں! پھر انسان کا سینہ، کینہ سے آلودہ تر ہو جاتا ہے، پھر خون کے رشتے بھی سینہ صد چاک لئے پھرتے ہیں اور عید جیسے خوشی کے موقع پر بھی ملنا گوارا نہیں کرتے۔
سانحہ ہے کہ عید پر اکثر
جن کو ملنا ہو وہ نہیں ملتے
عید محبت اور ملن کے سندیسے لاتی ہے۔ کسی انسان کی ذات کے خلاف لوگوں کے لئے بھی چاہتوں کے غلاف میں لپٹے پیام لے کر عید کا چاند طلوع ہوتا ہے۔ آپ اپنے قدم اٹھایئے اس شخص کی طرف جو آپ سے روٹھ چلا ہے۔ شاید آپ کو اپنا ایک ایک قدم بوجھل محسوس ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے احساسات کی اینٹیں چٹخنے لگیں اور شاید ایسا کرتے وقت آپ کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسوؤں کا لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہو جائے مگر آپ نے رکنا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ یاد رکھیے آپ ہارے نہیں ہیں۔۔۔ آپ تو جنگ جیت چکے ہیں، آپ کو ایک ایسی فتح مل چکی ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو بڑی ہی پسند ہے، ایک ایسی کامیابی جس پر آپ کا ضمیر نہ صرف مطمئن ہو گا بلکہ ہمیشہ فخر بھی کرتا رہے گا۔
چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بدگماں کیوں ہو
کوئی رشتہ ذرا سی ضد کی خاطر رائیگاں کیوں ہو


ای پیپر