ڈیم کو ووٹ دو
14 جون 2018

لکھنا بھی بڑی مہارت کی بات ہے۔ اوپر سے ہر ہفتے الگ موضوع پر قلم اٹھانا اور پہلے سے بہتر لکھنے کا عزم کہاں کہاں نہیں نچاتا۔ جب کبھی بندہ بیزاری کے عالم میں لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو الگ ہی خیالات آن لیتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے کہ جب راقم بے بسی کے گھنے جنگلات میں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ویسی ہی بے بسی کہ جیسی پاکستانی عوام لوڈشیڈنگ کے دوران محسوس کر رہی ہوتی ہے لیکن قارئین کی پسندیدگی ان جیسے تمام تر حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قوت فراہم کرتی ہے۔
وطن عزیز کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ گزشتہ 48 سال سے پاکستان میں کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود کہ ملک خداداد کی 30 فیصد شرح ترقی، پانی جیسی نعمت پر منحصر ہے۔ آبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ 2025ء تک زیر زمین پانی تک ہماری رسائی ممکن نہیں رہے گی۔ پانی کی قلت اور ڈیم کے تعمیر سے متعلق ہمارا رویہ آج بھی قابل ترس ہے۔ اس معاملے میں ہمیں بھارت سے سیکھنا چاہیے۔ بھارت نے ہمارے حصے کے دریاؤں پر بھی چھوٹے بڑے ڈیمز کے ڈھیر لگا دیے ہیں۔
اس سنگین ترین صورت حال میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کے لیے کسی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں نئے ڈیمز بنانے کو ترجیح نہ دی۔ ہماری ترجیحات ہمیں کس طرف لے کر جا رہی ہیں؟ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ وطن عزیز میں ہر وہ چیز سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، جس میں ملک و قوم کا مفاد ہو۔ پانی کے ایشو سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک کسی سیاسی جماعت اور قائد نے اپنی پالیسیاں اور منشور پانی کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب نہیں دیا۔ توانائی کا بحران ملک کی بنیادیں ہلاتا نظر آ رہا ہے۔ مفاد پرست ٹولے نے ملک لوٹ کر کھا لیا اور ہمیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔
ایوب خان کے دور میں کالا باغ ڈیم کی تجویز دی گئی جسے ذوالفقار علی بھٹو نے عملی جامہ پہنایا لیکن مفاد پرست سیاستدانوں نے علاقائیت اور قو م پرستی کے کھوکھلے نعرے لگا کر منصوبہ کھٹائی میں ڈال دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے اسی ڈیم کو ڈائنامائٹ مار کر اڑانے جبکہ سندھ کے قوت پرست سیاستدانوں نے اپنی لاشیں گرانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ بھٹو کے بعد ضیاء الحق دور میں بھی اس ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوئی بلکہ قوم پرستی کی سیاست کرنے والوں کو ہوا دی گئی۔ پرویز مشرف نے اپنے طویل دور کے آخری حصے میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا اور عملاً خاموشی اختیار کیے رکھی۔ زرداری دور کی مخلوط حکومت نے بھی اے این پی کے ساتھ کی خاطر کالا باغ ڈیم پر خاموشی اختیار کیے رکھی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی مفاہمتی سیاست برقرار رکھی اور اس ایشو کو دبائے رکھا۔ ڈیم تو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے حکومت نے بنائے ہیں اور وہ بھی پورے 350 ۔۔۔ ننھے منے ڈیم جو پشاور میٹرو بس کی میگا کھدائی کے دوران نمودار ہوئے ہیں۔ کیا مذا ق ہے۔۔۔ سونے پر سہاگہ تو یہ ہے کہ ہم نے کالا باغ ڈیم کے علاوہ دوسرے کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کے لیے بھی کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
اس وقت سوشل میڈیل پر پانی کی قلت اور کالا باغ ڈیم کے تعمیر کے لیے مہم زور شور سے جاری ہے۔ میری تجویز ہے کہ اگر آپ کو ڈیم کالا نہیں پسند تو اسے سفید رنگ کر دیا جائے مگر مفاد پرست سیاسی ٹولے کو ملکی سلامتی کے اس اہم ترین ایشو سے دور رکھا جائے۔ ارے بھئی! ڈیم کالا ہو، نیلا ہو، پیلا ہو، چھوٹا ہو یا بڑا، ڈیم ڈیم ہوتا ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ڈیم بناؤ کیونکہ آپ کی نسلیں تو باہر چلی جائیں گی، ہم نے تو یہی رہنا ہے۔ پاکستان کو ریگستان بنانے کی بھارتی سازش ناکام بنانی ہو گی۔
بھارت نے بڑی چالاکی سے پہلے دریائے ستلج، دریائے بیاس اور دریائے راوی کو اپنی تحویل میں لیا۔ پھر دریائے جہلم ، دریائے چناب اور دریائے سندھ پر ڈیم کی تعمیر کا حق بھی حاصل کر لیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے بگلیہار کے بعد کشن گنگا اور راتلے ڈیم بھی تعمیر کر لیے ہیں۔ کشن گنگا ڈیم کے باعث نیلم جہلم خشک ہو گیا ہے۔ا گر یہی صورت ھال رہی تو ہمیں صومالیہ اور آتھوپیا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارت نے کشمیر سے آنے والے دریاؤں کے پانی کو بھی اپنے قابو میں کر رکھا ہے۔ یہی کشمیر کو متنازع بنانے کی اہم وجہ ہے۔ بھارت نے شروع دن سے ہی ہمارے خلاف پانی کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے برعکس بھارت اب تک ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو خدانخواستہ پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم کرنے کی مکمل منصوبہ سازی کر چکا ہے لیکن ایک ہمارے حکمران اور آبی ماہرین ہیں کہ وہ خواب غفلت میں مدہوش پڑے ہیں۔
ویسے تو پورا ملک ہی پانی کی قلت سے دو چار ہے لیکن خصوصی طور پر کراچی جیسے میٹرو پولیٹن میں صاف پانی کی فراہمی جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ بلاول بھٹو ، حمزہ شہباز اور مریم نواز کے پاس موقع ہے کہ وہ نئے ڈیم بنانے کے منشور کے ساتھ آگے آئیں۔قوم خیر مقدم کرے گی۔ سنجیدہ حلقوں کے جانب سے کالا باغ ڈیم کے لیے ریفرنڈم کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں۔
عالمی رپورٹوں کے مطابق پاکستان شدید آبی قلت والے دس ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ اس وقت پانی کے مسئلہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے جامع قومی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو آبی ذخائر محفوظ کرنے کے لیے ہر ممکن سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے اور مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے تمام فریقین کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں اور اس بار ڈیم بنا ہی ڈالیں۔


ای پیپر