عام شہری پوچھتا ہے؟
14 جون 2018



پاکستان اسلامی جمہوریت کی حیثیت سے اس دنیا کے افق پر نمودار ہوا۔ پاکستان کی بنیاد لَا اِلہ الَّا اللہ ہے اور یہاں کا آئین اسلامی طور طریقوں پر بنایاگیا ہے ۔یقیناتمام مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنا چاہیے۔اگر آج دیکھا جائے تو ہر کوئی سیاست پر بات کرتا ہے ملک میں سیاست ، سیاست اور بس سیاست کا زور ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ہر طرف سیاست دانوں کی زندگی اور مصروفیات پر بات ہوتی ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی اس سیاست سے اُس غریب کا کیا لینا دیناجو غم روزگار کا شکار ہے۔آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ایک عام شہری کے بھی مسائل ہیں ،وہ بھی اس ملک کا حصہ ہیں۔ ان کو کون پوچھے؟ کون مددگار ہوگا؟ خدارا ہمیں ذاتی مفاد کو پس نظر کرکے غریبوں کے مسائل کو بھی سننا پڑے گا۔ آج میں جس مسئلے پر توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ صرف میرا یا آپ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ہر ماں باپ کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں کہ آئے روز بچوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے لیکن کوئی ان کی چیخ و پکار سننے والا نہیں ہے۔ کیوں ہم بے بس اور بے حس ہوچکے ہیں۔ ہمارے
سیاستدان کیوں بھول چکے ہیں کہ وہ صرف سیاستدان نہیں بلکہ بذات خود ماں باپ بھی ہیں۔ سیاستدان اور امیرطبقہ اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم کیلئے باہر بھیج دیتا ہے کیونکہ اس ملک کے حالات بہتر نہیں ہیں اور محفوظ نہیں ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے صرف یہ بتادیا جائے کہ اس وقت کس سیاستدان کا بچہ اس ملک کے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہے؟ ان حالات میں پھرصرف غریب کا بچہ ہی کیوں اپنی جان کی قیمت ادا کرے وہ ہی کیوں ذلت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہے؟ میری طرح کتنے اور لوگوں نے آواز اٹھائی اور کتنا اس پر عملدرآمد ہوا ہے؟ کیا بنا زیب قتل کیس کا؟ یہ واقعہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے لیکن قاتل کو پھانسی دینا اس مسئلے کا حل ہے کیا؟ کیا ہوا قصورواقعہ کا جس میں سینکڑوں بچوں کی عزت پامال کی گئی 2014ء میں۔ فیصل آباد میں مدرسے کے طالب علم حسین کو اس کے استاد نے درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کردیا۔ اس ملک میں مبینہ طورپرچائلڈ پورنوگرافی کا کاروبار عروج پر ہے ۔ پہلے بچوں کے ساتھ بدفعلی کی جاتی ہے پھر ان کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کیاجاتا ہے اور فحش ویب سائٹس پر اپ لوڈ کرکے پیسے کمائے جاتے ہیں۔ قصور واقعے میں جو انکشافات ہوئے وہ دل دہلا دینے والے تھے۔ اس واقعہ کو یاد کرکے دل خون کے آنسو روتا ہے ۔بچوں کی عزت کو تار تار کرکے ان کی غیراخلاقی ویڈیوز بنائی گئیں اور اس مواد کو غیراخلاقی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیاگیا۔اور تو اور اس واقعہ میں علاقے کی سیاسی شخصیات بھی مبینہ طور پرملوث پائی گئیں۔لیکن قصور چائلڈ پورنوگرافی کے واقعہ کے بعد قانون حرکت میں نہیںآیا اور میڈیا نے بھی اس واقعہ کی طرف مڑکر نہیں دیکھا۔ کیا اس واقعہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ہے یا نہیں؟ انصاف کیلئے ہمیں اس گناہ کو اپنے معاشرے سے ختم کرنے کیلئے اپنے اخلاقی فریضہ ادا کرنا پڑے گا۔ سکولوں میں اساتذہ کو اخلاقی تربیت دینا ہو گی۔ میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اساتذہ رول ماڈل بن سکتے ہیں ان بچوں کیلئے جن کے گھروں میں تعلیم کا فقدان ہے لیکن افسوس ناک طورپریہاں توبعض واقعات میں اساتذہ خود ملوث پائے گئے ہیں۔ مدرسوں میں اساتذہ دینی تعلیم دینے کے بجائے غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ بچے اس ملک کا اثاثہ ہیں یہ معصوم بچے پھول ہیں ،معاشرے کی سختیوں کوجو نہیں جانتے وہ نہیں جانتے کون ان کا رشتہ دار اور کون غیر ہے۔ وہ کیا جانیں اس معاشرے میں انسانیت کا لبادہ اوڑھ کر بھیڑیا نما درندہ نمودار ہوتا ہے اور انہیں اپنی حیوانیت کا نشانہ بناتا ہے اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے اور پیسے کمانے کیلئے۔
ایک تجزیہ نگار حسن نثار نے اپنے کالم میں لکھا ہے۔۔۔’’اور لباس درندگی کا باعث بن رہا ہے‘‘ تو کیا 3سال اور 4سال کی بچیاں بھی اس ٹائم جینز پہنے ہوئے تھی؟ ہمارے معاشرے میں بس وقتی سیاسی اصلاحات نہیں بلکہ اخلاقی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس درندگی میں فحش ویب سائٹس بھیانک کردار ادا کر رہی ہیں۔ کیا ہم ان فحش ویب سائٹس کو بند کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں؟ اس ملک میں بہت سی این جی اوزبچوں کے تحفظ کیلئے اور ان کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل غیرسرکاری فلاحی تنظیمیں
1. Soceity for the Protection of the Rights of the Children (Islamabad)
2. Voce of Children (Islamabad)
3. Children First (IsI)
4. CHAFF Children's health and Education fund (Karachi)
5. Child Care Foundation of Pakistan (Lahore)
6. AGHS, legal aid - Child Rights unit Lahore
7. Kompal Child Absue Prevention Society (Karachi)
ملک میں کام کر رہی ہیں لیکن ان واقعات کے وقت یہ NGOsکہاں ہوتی ہیں؟ یہ ان کیسز کیلئے کیاحکمت عملی بناتی ہیں؟ ہمارے ملک میں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ایک نجی ٹی وی نے Child Abuse پر ایک تفصیلاً رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں روزانہ 11کیسز بچوں سے زیادتی کے رپورٹ کئے جاتے ہیں اور یہ اعدادوشمارایک این جی اوسے اکٹھے کئے گئے جو بچوں کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2017ء کے وسط میں 1764کیسز رپورٹ ہوئے اور 2017ء میں کل 4139کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اتنی تعداد میں ان کیسز کا رپورٹ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ 2017ء میں رپورٹ کردہ کیسز کی 62%شرح پنجاب سے ہے۔ جیو کی رپورٹ کے مطابق صرف 2017ء میں سندھ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 490کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور پنجاب میں 1089کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ ایک اور اخبار کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق کچھ ایسی وجوہات ہیں جن کی
وجہ سے ان کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مثلاً تاخیرسے شادی ، تعلیم کی کمی اور جنسی تعلیم کا فقدان و پونوگرافی، بالی ووڈ فلمیں اور قانون میں نرمی ان کا سبب بن رہی ہیں۔ 11جون 2018ء کو بھی ایک انگریزی اخبارمیں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق ملکوال میں لڑکوں کی برہنہ ویڈیوز بناکر ان کو بلیک میل کرنے کا واقعہ سامنے آیا اور اس علاقے کے ڈی پی او نے اس کا نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا لیکن بعدازاں کچھ معلوم نہیں کہ ان ملزموں کے خلاف کیاقانونی کارروائی کی گئی؟ کیا ان کو اس گھناؤنے ظلم کی سزا ملے گی؟ یہ لمحہ فکریہ ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں اورمعاشرے کے تمام طبقات کیلئے کہ خداراتمام سٹیک ہولڈرز مل کر ان ملزموں کو سخت سے سخت سزا یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سزا کو یاد کرکے ڈریں۔ ہمیں ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سینکڑوں نمائندوں اور ان کے پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہے اگر اس ملک میں ایک ایماندار شخص اپنا فریضہ انجام دے تو ملک کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان سے اپیل ہے کہ خدارا، ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیں اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دیں جیساکہ ایران کی عدالتوں اور سعودی عرب میں کیا جاتا ہے تاکہ باقی لوگ اس سے سبق سیکھیں۔


ای پیپر